ساجد امانکالم

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب!

  گلبرگ کے ایک ہوٹل میں ایک رفیقِ کار کے ساتھ موجود تھا۔ ناشتے کا آرڈر دیا تھا۔ یوں ہی ٹی وی آن کیا، تو زمرد کان (سوات) پر شیلنگ اور آبادی خالی کرنے کے احکامات چل رہے تھے۔ اس طرح آبادی کے انخلا کی خبر کی تردید بھی گاہے گاہے آجاتی۔ مَیں نے رابطہ کرنا چاہا، مگر سوات میں کسی سے رابطہ ہی نہیں ہوپا رہا تھا۔ پڑوس میں فون کیا، تو اُس طرف سے عالمِ اضطراب میں ہونے والی گفت گو نے اور بھی پریشان کر دیا۔ گاڑی نکالی اور موٹر وے پر برق رفتاری سے بھاگتا ہوا مردان جا پہنچا۔ مردان سے شیر گڑھ پھاٹک پہنچا، تو آگے کرفیو نافذ تھا۔ اُس وقت مجھ پر مجبوری، بے کسی اور حسرت کی ملی جلی کیفیت طاری تھی۔
سوات میں میرا پورا خاندان، رشتے دار، جاننے والے، دوست احباب، الغرض سب کچھ تھا۔ اُس وقت سوات میں مقبوضہ فلسطین کی طرح افراتفری اور تباہی تصور میں بھی نہ تھی۔ گو کہ شورش کئی سالوں سے جاری تھی، حکومتی رٹ کا خاتمہ اور دہشت گردوں کی حکم رانی ہضم ہونے والی نہ تھی، مگر ہم بے گھر ہوجائیں گے، یہ مجھ سمیت کسی کو توقع نہ تھی۔
میرے بچوں کو سوات سے نکلنا تھا۔ اُنھیں راستے میں عثمان اولس یار کی فیملی کے ساتھ ایڈجسٹ کروایا۔ دونوں فیملیوں نے رختِ سفر باندھ لیا۔ اس سست رفتار قافلے کی ہمت ، حوصلے اور صبر کا امتحان شروع ہوا۔ میرا اُن کے ساتھ فون پر رابطہ رہا۔ کئی دفعہ رابطہ منقطع بھی ہوا۔ وسوسوں اور گمان کا قبضہ ہوجاتا۔ کہیں چل پڑتے، تو کہیں سفر رُک جاتا۔ مَیں شیر گڑھ پھاٹک تک پہنچا، تو تاحدِ نگاہ راستہ سنسان تھا۔ صرف آرمی کی گاڑیاں آ جا رہی تھیں اور ہوائی فائرنگ کر رہی تھیں۔ پھاٹک کے اِس طرف بہت سے لوگ جمع تھے اور افواہوں کا بازار گرم تھا۔ کبھی بم دھماکے کی خبر آتی، کبھی قافلوں پر اور فوجی گاڑیوں پر حملوں کی افواہ آتی۔ میرے اعصاب شل ہو رہے تھے۔ وقت گزرنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ دور سے مٹی اُڑتی ہوئی نظر آتی اور فائرنگ کی آوازیں ذہن پر ہتھوڑے برسا جاتیں۔ ’’ہٹو‘‘، ’’بچو‘‘، ’’تیار ہوجاؤ!‘‘ اس طرح کی صداؤں سے فضا بھری ہوئی تھی۔ البتہ وہاں ڈھیر سارے مقامی لوگ سامانِ خور و نوش ہاتھوں میں لیے مدد کے لیے تیار کھڑے تھے۔ ایسے میں قافلے کا پہلا سرا آپہنچا۔ مستقبل کے لیے فکر مند، زندگی بچانے کی جد و جہد میں حیران و پریشاں لوگ، اکثر روتے ہوئے، امداد لیتے ہوئے اور زیادہ جھجکتے ہوئے بچوں کا رونا…… اُف! میں روزِ محشر کا نظارہ کر رہا تھا۔ شور میں رابطہ ہوا، تو پتا چلا کہ ہماری فیملی ملاکنڈ پاس سے اتر رہی تھی۔ درگئی پہنچتے پہنچتے اور دیر ہوگئی۔ درگئی ہسپتال کے سامنے میری فیملی کو اترنا پڑا۔ کیوں کہ عثمان اولس یار کی فیملی کو پشتو کے عظیم شاعر رحمت شاہ سائلؔ صاحب کے پاس ٹھہرنا تھا۔ اُس وقت میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ مَیں نے اپنے دوست اور مہربان ڈاکٹر اکبر حسین کو فون کیا۔ اتفاق سے اُن کی ڈیوٹی ایمرجنسی میں تھی۔ اُنھوں نے اپنے خصوصی مہربان لہجے میں فکر نہ کرنے کا کہا۔ دراصل باہر کرفیو تھا۔ یک طرفہ ٹریفک تھی اور وہ بھی ہجرت کرنے والوں کی۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ لیویز اہل کار ساتھ لیے اور ایک سوزوکی پک اَپ جو مہیا تھی، سخاکوٹ پاٹک تک فیملی کو پہنچا دیا۔ میری اہلیہ اور تین بچے ایک طویل انتظار کے بعد پہنچے۔ بچوں کا برا حال تھا۔ بہت پیاسے تھے۔ وہاں سے تخت بھائی کے گنجئی کلے میں اسد خان کے گھر پہنچے۔ اُنھوں نے اپنا گھر خالی کیا ہوا تھا۔ پورا گاؤں پناہ گزینوں سے اَٹا پڑا تھا۔ سکول بھرے ہوئے تھے۔ کسی کو اگلے لمحے کی خبر نہ تھی۔ پورا گاؤں مدد کرنے اور شریکِ غم بننے اُمڈا چلا آرہا تھا۔ ہسپتال، سکول مدرسے، حجرے، بیٹھک الغرض ہر جگہ سوات کے پناہ گزین تھے۔
12 مئی 2009ء کو اذان (میرے بیٹے) نے تخت بھائی کے سید ہسپتال میں جنم لیا۔ بیٹے کی پیدایش کی خوشی اور غریب الوطنی کا دُکھ…… یہ کیفیت ایک عجیب سا امتزاج لیے ہوئے تھا۔ ہماری پہچان پناہ گزینوں کی تھی اور ایک رحم اور ہم دردی کا سایہ سر پر گویا بادل بنا تھا۔ گاؤں کے لوگ مبارک باد دینے آئے۔ پورا گاؤں آیا۔ وہ ’’مبارک مبارک‘‘ اور ’’افسوس افسوس‘‘ والے فقرے اب بھی کانوں میں گونجتے ہیں۔
کافی دن تخت بھائی میں گزارنے کے بعد ہم گل بہار پشاور شفٹ ہوگئے۔ وہاں بھی ہر طرف سوات کے لوگ تھے۔ اب لوگ ذرا سنبھل گئے تھے اور پوری طرح امداد لینے کے عادی ہوگئے تھے۔ علی الصباح گھروں سے نکل کر امداد کے مراکز پہنچنے کی تدابیر کرتے اور رات آ کر تھڑوں پر بیٹھ کر امداد کی خبریں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے۔ کل کہاں امداد تقسیم ہوگی، آج راشن کیسے حاصل کیا، کتنے میں بیچا؟ کچھ ہی دنوں میں خود دار سواتی قوم کا ایک بڑا حصہ پیشہ ور گداگروں کا روپ دھار گیا۔
کبھی کبھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کچھ لوگ سوات جاکر وہاں کی خبریں لے آتے، جس میں 90 فی صد مبالغہ ہوتا۔ پھر جتنے منھ اتنی باتیں۔
ایک طرف پشاور کے لوگ یوں دیکھتے، جیسے ہم مریخ سے اُترے ہوں۔ دوسری طرف دہشت گردوں کی خبریں آتیں کہ کیمپوں میں ہیں اور کئی گواہ تھے، جنھوں نے بڑے کمانڈروں کو دیکھا تھا، جن کو اُن کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ گرمی نے الگ عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ مست مگر بدحال متاثرین جنریٹر خرید رہے تھے۔ ہم جہاں رہتے تھے، قطار اندر قطار نئی آبادی تھی اور متاثرین سوات کی رہایش تھی۔ واٹر کولر لگ گئے۔ مکان امدادی اشیا سے بھر گئے۔ بالٹیاں ہی بالٹیاں، ٹپکے ہی ٹپکے، ٹینٹ ہی ٹینٹ…… گویا ہر گھر میں ان اشیا کا انبار لگا تھا۔ پھر سوات واپس آنے کی سبیل نکلی، تو راستہ کھلنے یا اجازت نامہ ملنے کے اگلے دن ہم روانہ ہوئے۔ آڑو کے باغات میں پھل پک چکا تھا۔ ایسے موسم میں ہم تالاشیاں دے دے کر گھر پہنچے، تو راستے میں چند جلی ہوئی گاڑیوں کے ڈھانچے تھے، مگرگندم اُگی ہوئی دیکھی، نہ دھان کے لہلہاتے کھیت۔ گلی محلوں میں لاشیں بکھری پڑی تھیں نہ کتے ہی آدم خور ہوئے تھے۔ یہ دراصل وہ مبالغہ آرائی تھی، جو پشاور میں رہتے ہماری سماعت سے ٹکراتی تھی۔
میرے والدین چوں کہ سوات ہی میں رہ گئے تھے۔ میرے چچا اور ان کا خاندان بھی وہاں تھا۔ پھوپی (مرحومہ کے درجات بلند ہوں) میرے بچوں کے ساتھ مردان آئی تھیں، مگر اُن کے بچے اور باقی خاندان سوات میں تھا۔ اُن سے پہلا رابطہ ہجرت کے ایک مہینے بعد ہوا تھا۔ وہ بھی ایک جاننے والا کسی پہاڑی پر چڑھا تھا اور وہاں سے رابطہ کرکے اُن کی خیریت بتائی تھی۔ اس سے پہلے وہ کہاں تھے، کیسے تھے، کدھرتھے؟ کچھ خبر نہیں تھی۔ ہاں! یہ خبر ضرور آئی تھی کہ ہماری گھر کے اوپر توپ کا گولہ گرا ہے، مگر تفصیلات کسی کے پاس نہیں تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پڑوسیوں کے گھر کی دیوار کے ساتھ مارٹر گولا لگا تھا۔
افواہوں، خوف، بے یقینی اور راشن کی تلاش میں تقریباً 2 ماہ گزار کر سوات واپس آئے، تو معلوم تاریخ کے طویل ترین کرفیو میں پھنس گئے۔ ہاں مولانا ریڈیو اور ریڈیو چینل دونوں خاموش ہوگئے تھے۔ دوسری طرف ’’امن ریڈیو‘‘ سے گانے چلائے جا رہے تھے۔
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب!
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں