ساجد امانکالم

ہم اظہار سے خوف زدہ ہیں

ہر انسان کے اندر ایک مکمل کائنات ہے۔ خلیل جبران کہتے ہیں وہ آدمی جو مجھ میں ہے، اُس آدمی سے قطعی مختلف ہے، جو تجھ میں ہے، مگر پھر بھی ہمیں ہر حال میں بولنا چاہیے، تاکہ تنہائی کا احساس کم سے کم ہو۔
ہر انسان کے اندر ایک دنیا بستی ہے۔ ہر انسان کے اندر ایک طلاطم ہوتا ہے۔ ہر انسان ایک آتش فشاں ہوتا ہے۔ کبھی کبھی برداشت کی حدیں پار ہوجائیں، تو ایک نہایت سرد مزاج انسان بھی بپھر جاتا ہے۔کچھ لوگوں کو فطرت نے اظہار کے چشمے دیے ہوتے ہیں۔ شاعری، خطاطی، مجسمہ سازی، مصوری، افسانہ نگاری، ادیب، ناول نگار، کالم نگار، اداکار، گلوکار، رقاص، وغیرہ اپنے اندر کے اظہار کی قدرت رکھتے ہیں اور یہ انتہائی ذہنی و روحانی تسکین مہیا کرتا ہے جب آپ کچھ تخلیق کرتے ہیں۔
میرے والد صاحب (مرحوم) کہا کرتے تھے، جھوٹ بولنے والوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جھوٹے ہوتے ہیں جو کریمنل ہوتے ہیں۔ ایک جھوٹے تخلیق کار ہوتے ہیں، وہ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہیں اور ان کو فی البدیہہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ انتہائی بے ضرر ہوتے ہیں، مگر وہ وقت اور معاشرے کے ساتھ چل نہیں پاتے۔ وہ خوابوں میں زندہ رہتے ہیں۔ وہ بیان کرتے کرتے ان میں مر جاتے ہیں۔
استادِ محترم جناب فضل ربی راہیؔ صاحب سے پچھلے دنوں بات ہوئی۔ اُن کے سامنے میں نے کئی سوال رکھے۔ اُن کے جوابات میرے لیے انتہائی حیران کن اور روشنی دینے والے تھے۔ میرے سوالات اُن کے برطانیہ میں قیام کے دوران میں ادب اور ادیبوں کے بارے میں تھے ۔
ایک جواب کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ انسان سوچتا ہے۔ ہر انسان اظہار چاہتا ہے، مگر ضروری تو نہیں کہ ہر شخص ایک لکھاری ہو۔ الفاظ کا جادوگر ہو۔ جملوں کی بناوٹ جانتا ہو۔
اُنھوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے لکھاری لکھنے کے بعد مسودہ ماہرین کے حوالے کرتے ہیں۔ پیشہ ور ماہر اور نقاد ان کو پڑھتے ہیں۔ الفاظ، فقروں اور تخاطب کو ٹھیک کرتے ہیں۔ ادیب کے بنیادی خیال کو متاثر کیے بغیر ضروری تبدیلیاں کرتے ہیں اور ادیب پیش لفظ میں بڑے فخر و احترام سے ان کا ذکر کرتا ہے کہ کس طرح کن کن لوگوں نے کتاب لکھنے میں مدد کی۔ کن کن لوگوں نے خامیوں کی نشان دہی کی۔ کن کن لوگوں نے جملوں کی بناوٹ صحیح کی…… جس سے میرے اظہار و بیان میں زیادہ صفائی آئی۔
ہمارے ہاں نقاد تو پہلے ٹائٹل دیکھ کر موضوع پر تقریر کرنے والے کہلاتے ہیں، جو تعریفوں کے پل باندھے۔ مسودے میں کاٹ چھانٹ کو توہین سمجھتے ہیں۔
دوسری طرف بہت سے لوگ جو لکھ پاسکتے ہیں، تنقید کے خوف سے اظہار نہیں کرپاتے۔
ہمارے ہاں ہر جگہ چائینہ کٹنگ ہے۔ اجارہ داری ہے، جاگیرداری ہے۔ کوئی کسی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اس لیے لکھنے والوں کی تعداد محدود رہتی ہے۔ پڑھنے والے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔
جونؔ ایلیا کی سب عزت کرتے ہیں۔ اُن کا بڑا مقام ہے۔ اُنھوں نے معلوم نہیں کس پیرائے میں کہا کہ ’’بہت سے لوگوں کو پڑھنا چاہیے مگر وہ لکھ رہے ہیں!‘‘
اب اس کو بنیاد بناکر بہت سے ادیب شاعر پیدا ہونے سے پہلے مار دیے گئے۔ یقینا اُن کے قد کے انسان نے یہ کسی خاص موقع پر کسی خاص جگہ طنز کے طور پر کہا یا لکھا ہوگا ۔
منیر نیازی صاحب مرحوم اُردو کے بہت بڑے شاعر تھے۔
’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں مَیں‘‘
اُن کی شہرہ آفاق نظم ہے۔ اُن سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ آپ اتنے بڑے شاعر ہیں، مگر آپ کا اتنا نام نہیں جتنا امجد اسلام امجدؔ، ناصرؔ کاظمی، احمد فرازؔ، پروینؔ شاکر اور فیض کا ہے۔ منیر نیازی کا جواب تھا: ’’مَیں شاعر ہوں یہ بازاری شاعر ہیں۔ یہ سامعین اور قارئین کے ڈیمانڈ کے مطابق شاعری کرتے ہیں۔ مَیں اپنے اظہار کے لیے شاعری کرتا ہوں۔‘‘
یہ بات اُنھوں نے نیشنل ٹیلی وِژن پر بیٹھ کر کہی۔
اَب اس پر تبصرہ نامناسب ہے، مگر کاش! وہ کبھی ایسی بات نہ کرتے گو کہ وہ تواتر کے ساتھ ایسا کہتے تھے۔ ایسے ہی خیالات رکھتے تھے۔
خیر، ایک دور تک کہ خط و کتابت ہوتی تھی۔ عشقیہ خطوط و شاعری کا دور بھی گزرا ہے، جنھیں لوگ اپنے خون سے تحاریر فرماتے تھے۔ ڈائری لکھنے کا رواج تھا ۔ پھر ایک جمود آیا اور اُس کے بعد سوشل میڈیا نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ یوں دانش وروں کی فوج پیدا ہوگئی، مگر کاپی پیسٹ کی اکثریت ہوتی ہے۔
مَیں نے اپنا لکھا درجنوں لوگوں کے نام کے ساتھ شیئر ہوتا دیکھا۔ ایک شخص نے تو حد کر دی۔ مَیں نے مینگورہ شہر کی کہانی لکھی، جس میں اپنے چچا کی فوتگی کا ذکر بھی کیا۔ ایک لائق شخص نے ’’کٹ کاپی‘‘ مار دی، جسے ایک معتبر پیج نے شائع کر دیا۔ مَیں نے درخواست کی کہ بھائی باقی سب آپ کی یادداشت…… مگر میرے چچا کی فوتگی تو حذف کر دیں۔ پیج نے معذرت کے ساتھ ڈلیٹ کر دی، مگر اَدیب اَب بھی داد سمیٹے جا رہا ہے۔
خیر، یہ تو مذاق کی بات ہے۔ اگر ہم خوف، جھجک اور ملامت کا ڈر ایک طرف رکھ کر لکھنے کی کوشش کریں اور کسی سے اصلاح لیں، تو جن کو شوق ہے وہ اچھے لکھاری بن سکتے ہیں۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ لکھنے کا تجربہ ہوگا۔ پختگی آئے گی۔ مطالعے کا شوق بڑھے گا۔ کتاب و قلم کی حرمت بڑھے گی۔ اظہار کے مواقع ملیں گے۔ معاشرے میں عدم برداشت کم ہوگا۔
ڈائری لکھا کریں اگر جھجک نہیں جا رہی۔ روزنامچہ لکھیں۔ یادداشت تحریر کریں۔ واقعات لکھیں، مگر کبھی خود کسی وجہ سے ضائع نہ کریں۔ اپنے اظہار کو مت روکیں۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں