سابق وزیرِ اعلا محمودخان سے لاکھ سیاسی اختلافات سہی، لیکن ضلع سوات خاص کر بالائی سوات کے لیے اُنھوں نے اپنے ساڑھے چار سالہ دورِ حکومت میں جو تاریخ ساز ترقیاتی کام کیے، اُن کی مثال سوات کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس قسم کے ترقیاتی کام کبھی پہلے ہوئے تھے اور نہ مستقبلِ قریب میں ہونے کا امکان ہے۔
1969ء کے بعد سوات کے ساتھ حکم رانوں نے جتنا تعصب کا مظاہرہ کیا تھا، اُس کا اِزالہ بڑی حد تک محمود خان نے اپنے دورِ حکومت میں کرلیا۔ جس کے لیے محمود خان نے صوبے کے دیگرا ضلاع کی مخالفت بھی مول لی، لیکن اُس نے 3 سو ارب کے منصوبوں سے سوات کی محرومیاں ختم کرنے کا بیڑا اُٹھایا ۔
اہلِ سوات نے ضلع سوات کی تقسیم کا مطالبہ بھی کیا، لیکن محمود خان نے سب سے پہلے بالائی سوات میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر کام کیا، تاکہ ضلع بننے کے بعد بالائی سوات پس ماندہ نہ رہے اور لوگوں کے لیے وہ بنیادی ضروریات میسر ہوں، جو زیریں سوات میں موجود ہیں۔
محمود خان کے ترقیاتی کاموں کی تفصیل بڑی طویل ہے، لیکن میں زیرِ نظر تحریر میں کچھ بڑے منصوبوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
گذشتہ دورِ حکومت میں 3 نئی یونی ورسٹیاں قائم ہوئیں، جن میں زرعی یونی ورسٹی، انجینئرنگ یونی ورسٹی اور انیمل یونی ورسٹی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر میڈیکل یونی ورسٹی کا کیمپس اور ڈینٹل کالج سیدو شریف کا قیام بھی بھی مذکورہ ترقیاتی کاموں میں شامل ہے۔
انجینئرنگ یونی ورسٹی سوات کے بھی تین کیمپس بہ مقام کبل، ارکوٹ اور کالام میں واقع ہیں۔
سوات یونی ورسٹی کے مین کیمپس چارباغ پر کام مکمل کرکرے تمام کیمپس کرائے کی عمارات سے مین کیمپس منتقل کیے۔
شانگلہ کیمپس کو اَپ گریڈ کرکے مکمل اسے یونی ورسٹی کا درجہ دیا۔ خواتین کیمپس کے لیے فنڈ فراہم کیے۔ امکان یہ تھا کہ خواتین یونی کیمپس کو بھی مکمل یونی ورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بیسیوں بوائز اینڈ گرلزڈگری کالج قائم کیے۔ نرسنگ کالج کا قیام عمل میں لایا۔ ’’زمونگ کور ماڈل سکول‘‘ (یتیم خانہ) قائم کیا۔ کبل میں 3 سو بیڈ پر مشتمل بچوں کے ہسپتال بنانے کا منصوبہ بنایا۔ مٹہ کے ہسپتال کو اَپ گریڈ کرکے ضلعی ہسپتال کے برابر لاکھڑا کیا۔ سوات موٹر وے فیز 2 پر کام کا آغاز کیا۔ کانجو فلائی اُوور مکمل کیا، جس سے ٹریفک جام ہونے کا مسئلہ ختم ہوا۔
اس کے علاوہ یہ محمود خان ہی تھے جنھوں نے کانجو ٹاؤن شپ میں چڑیا گھر بنایا۔ کالام میں بین الاقوامی معیار کا کرکٹ سٹڈیم اور فائیو سٹار ہوٹل کے قیام کے منصوبے بنائے۔بالائی سوات میں سڑکوں کا جال بچھایا۔ مٹہ اور خوازہ خیلہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں بائی پاس سڑکیں بنوائیں۔ گبین جبہ میں سیاحوں کے لیے ڈھیر ساری سہولیات فراہم کیں۔
اس طرح علاقے کے لوگوں کو ’’فِش فارم‘‘ بنانے کے لیے قرضے مہیا کیے۔ ضلع سوات جیل جو خستہ حال پڑی تھی، کی از سرِ نو تعمیر ممکن بنائی۔صحت کارڈ کو اَپ گریڈ کیا۔ ’’واٹر گریویٹی کنال پلان‘‘ کے تحت فتح پور سے مینگورہ تک پینے کے صاف پانی کا منصوبہ شروع کرایا۔ اس اسکیم سے مینگورہ اور اس کے مضافات کے تقریباً 500,000 رہایشیوں کی پانی کی ضرورت پوری ہوگی۔
قارئین! سوات کے عوام کو یقین تھا کہ محمود خان اپنے پانچویں اور آخری بجٹ میں نامکمل منصوبوں کے لیے مزید فنڈ مختص کریں گے اور کچھ نئے منصوبے بھی آخری بجٹ کا حصہ ہوں گے، لیکن یہاں کے لوگوں کی بد قسمتی تھی کہ صوبائی اسمبلی اپنے آخری بجٹ پیش کرنے سے پہلے ہی تحلیل ہوگئی اور وزیرِ اعلا کو قبل از وقت گھر جانا پڑا۔
اب یہی امید رہ گئی تھی کہ محمود خان کو اپنے حلقے کے عوام اس کے لاتعداد منصوبوں کی وجہ سے دوبارہ منتخب کرائیں گے، لیکن محمود خان کو ناگزیر وجوہات پر پارٹی تبدیل کرنا پڑی، جس پر حلقے کے لوگ نالاں ہوگئے اور انتخابات میں اُسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
مَیں سمجھتا ہوں کہ محمود خان کی یہ شکست اُس کی ذاتی نہیں، بل کہ یہ سوات کے تمام عوام کی شکست ہے۔ محمود خان دوسری پارٹی میں ہوتے ہوئے بھی منتخب ہوکر اپنے ضلع کے نامکمل منصوبوں کا دفاع کرتے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ضلع سوات کے لوگوں نے تیسری مرتبہ تحریکِ انصاف کو جتوایا، لیکن موجودہ وزیرِ اعلا نے اس سال کے بجٹ میں ضلع سوات کے لیے نئے منصوبے لانا تو دور کی بات، محمود خان دور کے نامکمل منصوبوں کے لیے بھی کچھ فنڈ مختص نہیں کیا۔ حالاں کہ یہاں سے تحریکِ انصاف کے 8 صوبائی اسمبلی ممبران جیت چکے ہیں، جن میں دو صوبائی وزیر بھی شامل ہیں۔
موجودہ وزیرِ اعلا نے یہاں کے عوام سے دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محمود خان کے دور میں سوات میں منظور شدہ تین یونی ورسٹیوں کے علاوہ چترال، بونیر اور شانگلہ کے تین یونی ورسٹیوں کو بھی ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اس کے علاوہ خواتین یونی ورسٹی کے قیام کا منصوبہ بھی سرد خانے کی نذر ہوگیا۔ ان یونی ورسٹیوں کے خاتمے کی وجہ فنڈ کا فقدان بتایا جا رہا ہے۔ حالاں کہ اگر دیکھا جائے، تو موجودہ صوبائی حکومت نے امسال 100 ارب روپے کا سر پلس بجٹ پیش کیا ہے۔ اگر 100 ارب کا سرپلس بجٹ ہے، تو پھر فنڈ کی کمی کا کیوں رونا رویا جا رہا ہے۔
پنجاب کی صوبائی وزیرِاعلا (مریم نواز) نے پنجاب میں مزید یونی ورسٹیوں کے قیام کا اعلان کیا ہے، جب کہ ہمارے وزیرِ اعلا پہلے سے قائم شدہ یونی ورسٹیوں کو ختم کرکے یہاں کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے جا رہا ہے۔
ان تمام منصوبوں کے خاتمے کا ذمے دار موجودہ وزیرِ اعلا کے ساتھ ساتھ ضلع سوات کے 2 صوبائی وزیروں کے بہ شمول 8 صوبائی وزرا ہیں۔ ان ممبرانِ اسمبلی کی خدمت میں عرض ہے کہ خدارا! اگر نئے منصوبے نہیں لاسکتے، تو کوئی بات نہیں…… لیکن پہلے سے منظور شدہ منصوبوں کو ختم سے ہونے سے بچائیں، ورنہ آپ لوگ یہاں کے عوام کے غیظ و غضب سے نہ نہیں بچ سکیں گے۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
