روح الامین نایاب

پختونوں کا سودا ۔۔۔ مگر کس نے؟ (3)

ایم ایم اے کی حکومت نے ایک جانب وقت کے حکمران سے در پردہ گٹھ جوڑ کیا تھا اور دوسری جانب بظاہر اُس کے خلاف اپوزیشن کا کردار بھی ادا کررہی تھی۔ دو کشتیوں کی سواری مشرف حکومت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی۔ کبھی ’’ایل ایف او‘‘ اور کبھی وردی اتارنے کا کھیل جاری رہا، دہشت گردی کے دائرے وسیع ہوتے رہے لیکن ایم ایم اے حکومت انجان بنی رہی۔ لوگوں کا خیال تھا بلکہ خوش فہمی تھی کہ ایم ایم اے کی حکومت آنے سے دہشت گرد کارروائیاں ختم ہوجائیں گی یا کم از کم تھم جائیں گی۔ کبھی کبھی ایم ایم اے کی قیادت دہشت گرد کارروائیوں پر بہت کمزور مذمت یا کچھ پیار بھری جھاڑ پلا دیتے تھے۔ ایم ایم اے کی حکومت میں 2007ء کے خاتمے کے قریب ضلع سوات میں دہشت گردی کے واضح آثار پیدا ہوگئے تھے۔ 2007ء کے آخر میں ضلع سوات میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے فوج آئی تھی لیکن ایم ایم اے کے احتجاج پر فوج واپس چلی گئی مگر دہشت گردی کا زہر پھیلتا گیا۔ جڑیں مضبوط ہوتی رہیں۔ اسلحے کے ٹرک آتے رہے۔ گاوؤں اور دیہاتوں میں طالبانائزیشن رو بہ ترقی رہا۔ ایف ایم ریڈیو تو بہت عرصہ پہلے سے چل رہا تھا۔ اس پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ سوال یہ ہے کہ ایم ایم اے حکومت نے اُس وقت ابتدائی حالات میں اس کی روک تھام کیوں نہ کی؟ آخر کیوں انہیں ڈھیل دی گئی؟ اُس وقت بہت کچھ ہوسکتا تھا۔ حالات کو خراب ہونے سے پہلے باآسانی سنبھالا جاسکتا تھا بلکہ اُن پر آسانی سے ہاتھ ڈالا جاسکتا تھا۔ لیکن ایم ایم اے حکومت ان حالات میں بھی سیاست کا کھیل کھیلنا چاہتی تھی۔ وہ اس طرح کہ 2007ء انتخابات کا سال تھا۔ اور ایم ایم اے ان حالات کو انتخابات تک کھینچنا چاہتی تھی۔ صاف بات یہ تھی کہ ایم ایم اے سوات کے مشکوک حالات پر آنکھیں بند کرکے انجان بننا چاہتی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر الیکشن میں ایم ایم اے جیت گئی، تو صورتحال پہ بات چیت کے ذریعے امن بحال کرکے سیاسی کریڈیٹ لے لے گی، اور ہارنے کی صورت میں ملبہ کسی اور کے سر ڈال دے گی۔ سوات کے لوگ جانیں اور جیتی ہوئی پارٹی جانے، بھگتنے دو۔ 
یہاں اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایم ایم اے کی حکومت میں اے این پی یا کسی دوسری سیاسی طاقت نے پختونوں کے سر کا سودا کیا تھا، تو ایم ایم اے حکومت نے اُن کے خلاف ایکشن لے کر انہیں عبرت کا نشان کیوں نہیں بنایا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ پختونوں کے سر کا سودا کس نے کس کے ساتھ کیا اور دونوں فریق کون ہیں؟ اگر ایک فریق کے طور پر اے این پی کو موردِ الزام ٹھہرایا جارہا ہے تو دوسرا فریق کون ہے؟
قارئین کرام! واقعات کا سلسلہ پھر سے جوڑتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بے وقت قتل سے اگر ایک جانب حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے، تو دوسری جانب 2007ء کا الیکشن تاخیر سے 2008ء میں ہونا بھی ایک معمہ ہے۔ مرکز میں پاکستان پیپلز پارٹی بر سر اقتدار آئی جبکہ صوبہ پختونخوا میں پہلی بار اے این پی کی حکومت بنی۔ سوات کی سنگین اور خراب صورتحال کا اندازہ کیجئے کہ اے این پی کو حکومتی بھاگ ڈور سنبھالتے ہی امن و امان کے لیے سوات میں طالبان سے مذاکرات شروع کرنا پڑے۔ کیونکہ اور کوئی کام کرنا نئی حکومت کے لیے مشکل کیا بلکہ ناممکن تھا۔ 
قارئین کرام، یہ وہ وقت تھا جب سوات میں تعلیمی درس گاہیں بند ہو رہی تھیں۔ راستے بند ہورہے تھے۔ پل اڑائے جارہے تھے۔ سکول، مدرسوں اور کالجوں کو بموں سے اُڑا کر کھنڈر بنایا جارہا تھا۔ گلے کاٹے جارہے تھے۔ خوف و دہشت کے تاریک اور گھمبیر سائے پھیل رہے تھے۔ زندگی کا ہر لمحہ مشکوک اور مخدوش تھا۔ زندگی سانس روکے کھڑی تھی۔ سانسوں کی ڈور کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی تھی، لیکن۔۔۔افسوس پورے پاکستان میں کسی کو پروا ہی نہیں تھی۔ لاہور میں بسنت منانے پر جھگڑا چل رہا تھا۔ لاہور کے خوبصورت پارکوں میں ویلنٹائن ڈے منایا جارہا تھا۔ اسلام آباد والے اقتدار کی بندر بانٹ میں لگے ہوئے تھے۔ وہ سوات کے خونریز حالات سے بے خبر اپنے مزوں میں مست تھے۔ کیوں کہ زمین وہ گرم ہوتی ہے، جہاں پہ آگ جل رہی ہو۔ سوات کے عوام اپنی تاریخ کی تکلیف دہ دور سے گزر رہے تھے۔ منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے میلوں پیدل چلنا پڑتا تھا۔ ہسپتال تک پہنچنا ناممکن۔ بجلی، پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ راشن نہ ہونے کے برابر، دال، آلو اُبال کر کھایا جاتا تھا۔ بدنصیب مرنے والے کے جنازے پر مشکل سے تین چار آدمی ہوتے تھے۔ رہی سہی کسر سڑکوں پر جگہ جگہ فوج اور طالبان کی چیک پوسٹوں نے عوام کا جینا دوبھر کرکے پوری کردی تھی۔
اے این پی کی ہزار کوششوں کی باوجود فریقین کے درمیان امن کی بات چیت تسلی بخش نہیں سمجھی جاتی تھی۔ طالبان لیڈروں کو رہا کیا گیا۔ مولانا صوفی محمد صاحب کو ڈی آئی خان جیل سے لایا گیا۔ اسے سوات کا دورہ اور پُرامن مارچ کرایا گیا۔ قاضی عدالتیں کھولنے اور جاری کرنے کا فارمولا طے کیا گیا، لیکن بات نہیں بنی۔ دوسری طرف صوفی محمد صاحب کے پُرزور اصرار پر ملاکنڈ ڈویژن میں الگ سپریم کورٹ کے قیام پر صدرِ پاکستان آصف زرداری تیار نہیں تھے کہ ایک ملک کے اندر دو سپریم کورٹ کیسے ہوسکتے ہیں؟ لیکن اے این پی کے پُرزور احتجاج اور اسفندیار ولی کے پُرزور اصرار پر صدرِ پاکستان اس پر بھی راضی ہوگئے۔ لیکن۔۔۔ افسوس، ان سب کے باوجود مولانا صوفی محمد نے گراسی گراؤنڈ کے جلسے میں جو کچھ کہا، اسے ریاست سے مکمل بغاوت پر محمول کیا جاسکتا تھا۔ وہ کسی عدالت کو کسی پارلیمنٹ کو کسی ریاست کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ایسے مجبور حالات میں آخر اے این پی کیا کرتی؟ 
(جاری ہے)

تبصرہ کریں