نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور لینڈ ایکویزیشن پرائیویٹ کا لوگوں سے من مانی قیمت پر راضی لینا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جہاں ایک طرف لوگوں کے گھروں اور جائیدادوں کو خطرات لاحق ہیں، وہاں دوسری طرف حکومت بے حسی کا شکار ہے۔ حکم ملتا ہے کہ آپ کی جائیداد سیکشن فور کی زد میں آئی ہے، آپ کے گھر اور جائیداد پر سرخ لائن کھینچ دی گئی ہے۔ اس کے بعد آپ کو نوٹس ملتا ہے کہ آپ نے تجاوز سے کام لیا ہے۔ فلاں تاریخ تک اپنا گھر دکان، مارکیٹ اور جائیداد کو نشان زدہ لائن تک کاٹ دیں۔ بصورت دیگر حکومت آپ کے گھر، دکان یا مارکیٹ کو خود ہی ’’ایکس کویٹر‘‘ کے ذریعے سیکورٹی اداروں کی مدد سے مسمار کردے گی۔ جس کی مسماری کے تمام اخراجات مع مزدوری آپ کو دینا ہوں گے۔ تجاوزات کو ہٹانے کی خاطر قانونی لوازمات ادا کرنے کے لئے نوٹس ملتا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ جہاں کسی نے تجاوز نہیں کیا، ان کو بھی ایک لاٹھی سے ہانکنا کہاں کا انصاف ہے؟
دوسری طرف جب حکومت کو کسی خاص مقصد کے لئے زمین کی ضرورت ہوتی ہے، تو وہ مارکیٹ ویلیو یا جو سرکار مناسب سمجھے اپنے من مانے ریٹ لگا کر لوگوں سے داداگیری کے ذریعے زمین ہتھیا لی جاتی ہے۔
یہ کہاں کا قانون ہے کہ جس دکان اور مکان میں ایک بندے نے ساٹھ ستر سال گزارے ہوتے ہیں، اس کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ ہم نے تجاوزات نامی قانون کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ ایسے کیسز بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ جہاں ایک شخص نے دو تین عشرے بیرون ممالک میں سخت محنت مزدوری کی ہے اور اپنے آپ کو یہاں سیٹل کر نے کی خاطر اپنی جمع پونجی یعنی ساری عمر کی کمائی گھر اور دکان لینے پر صرف کی ہے۔ میونسپلٹی سے نقشہ پاس کرایا ہے، لیکن اس کو بھی نوٹس ملتا ہے کہ ٓاپ کو مذکورہ گھر یا دکان سے دستبردار ہونا پڑے گا اور یا حکومت کے من مانے فرضی ریٹ کو ہی اپنا مقدرمانتے ہوئے صبر و شکر سے کام لیں۔ اگر نہیں مانے، تو کورٹ کچہری اور جیل کی سلاخوں کو پیچھے زندگی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
قارئین، اب کوئی دیوانہ ہی ہوگا جو دیوانی اور فوجداری کیسز کا سامنا کرے گا۔ سالوں بیت جائیں گے مگر کیس وہی کا وہی رہے گا۔ انصاف جب ملے گا، تو سر کے بال سفیدہوچکے ہوں گے۔ اب غریب اور مزدور کار کو اس کی محنت نے کوئی ثمر نہیں دیا بلکہ الٹا وہ سڑک پر آگیا ۔ اب یا تو وہ دوبارہ بیرونِ ملک چلا جائے اور یا قسمت کا کیا دھرا مان کر اس پر صبر و شکر کرے۔ یا پھر بیٹھ کر ماتم ہی کرے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ انصاف اور عدل کا تصور صرف کتابی اور لفاظی جمع پونجی ہے۔
اصل حقیقت تو ڈنڈے والے سرکار کی ہے، وہ جو کہے اس کو مان لینا چاہئے۔
مہذب معاشروں کا دستور ہوتا ہے کہ جہاں مجموعی ترقی کے لئے پلاننگ کرکے کسی جگہ کو ادارے یا انفراسٹرکچر بنایا جانا مقصودہو، وہاں پر باقاعدہ طور مجاز افراد کو مارکیٹ ویلیو کے مطابق ادائیگی کی جاتی ہے۔ مقصد اس کا یہ ہوتا ہے کہ معیشت جس پر کسی معاشرے یا فرد کا انحصار ہے، کی خرابی کی صورت میں فرد کے علاوہ سارا معاشرہ خمیازہ بھگتے گا۔ ترقی اور بہتری کے لیے کوئی بھی شہری انکار نہیں کرے گا لیکن اگر اس کو متبادل فراہم کردیا جائے، تو ۔
الحمد اللہ اہلِ وطن اتنے مہذب اور قانون پرور ہیں کہ جب پتا چلا کہ حکومت سڑکیں چوڑی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تو ازخود اپنی دکانیں اور گھروں کو مسمار کر دینا شروع کیا اور بارڈر لائن سے پیچھے ہٹ گئے۔ یہ پروا کئے بغیر کہ اس کا ہمیں کوئی معاوضہ یا امداد بھی ملے گی۔ مسئلہ صرف ان جگہوں میں پیدا ہوتا ہے جہاں مالکان کی اربوں روپے کی پراپرٹی کو نقصان پہنچتا ہو اور ان کو کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا جا رہا ہو۔ آخری آپشن کے طور پر وہ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں اور یا با اثر شخصیات سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں ۔
قارئین، ہمیں ماننا ہوگا کہ ہم معاشرے کی مجموعی ترقی کے لئے حکومتی پلاننگ کے مطابق حکومت اور اداروں کا ساتھ دیں گے، تاکہ خوشحالی کا دور دورہ آئے، لیکن حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ یاد رہے قانونی اور آئینی طور پر ریاست مال و جان، امن و امان، صحت و تعلیم اور روزگار دینے کا بندوبست کرتی ہے۔ آرٹیکل 38 اور 39 آئین پاکستان مل کر اس کی گارنٹی دیتے ہیں۔
معاملہ مگر یہاں الٹا ہی ہے۔ صحت و تعلیم، روزگار اور مکان، امن و امان وغیرہ کا حال سب پر واضح ہے۔ اگر ریاست یہ مذکورہ سہولیات نہیں دے سکتی، تو کم از کم لوگوں سے ان کے منھ کا نوالہ تو نہ چھینا جائے۔ شہریوں کے حال پر رحم فرمائیں کہ اس قسم کے روئیوں سے معاشرے میں بے چینی پھیلتی ہے اور لوگ جرائم کرنے پر اتر آتے ہیں۔
قارئین، میں سمجھتا ہوں کہ جہاں کہیں حکومت کسی جگہ سروے کرکے مجموعی ترقی کے لئے ایک منصوبہ بناتی ہے، تو جہاں وہ منصوبہ شہریوں کی زمینوں اور جائیداوں پر مشتمل ہوتا ہے، تو وہاں زمینیں لوگوں سے چھین کر نہیں بنائی جاتیں بلکہ ان لوگوں کو متبادل کے طور پر وسائل مہیا کئے جاتے ہیں۔عوام کا یہ فرض ہوتا ہے کہ جہاں کہیں حکومت ایسے کسی منصوبے کی بنیاد ڈالتی ہے، تو عوام بلاجھجک اس کو اپنا سب کچھ حوالہ کرتے ہوئے تعاون کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ اگر ہم یہ سب نہیں کریں گے، تو لازمی بات ہے کہ ہماری وجہ سے ترقی ہوگی یا کم ازکم اس کی رفتار دھیمی ہوجائے گی۔ اس لئے مہذب اقوام ایسی ترقی کے لئے ازخودحکومت کو امداد فراہم کرتی ہیں ۔
حکومت بھی اپنی رعایا کا خیال رکھتے ہوئے ان کو مختلف قسم کے آپشن بہ شکل زمین ،امداد اور معاوضہ دیتی ہے، تاکہ عوام در در کی ٹھوکریں کھانے سے محفوظ ہوں۔
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
