ایڈووکیٹ نصیراللہ خانکالم

سماجی معاہدے

ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے شدت سے محسوس ہو رہا ہے کہ ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک طرف اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی سی کیفیت میرے اس خیال کو تقویت بخشی ہے، تو دوسری طرف اقتدارکی تثلیثی طاقت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ یہ نکتہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اداروں اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کے ذمہ دار اہلِ سیاست کے ساتھ ساتھ ملکی ’’ادارے‘‘ بھی ہیں۔ عدالت،قانون ساز اسمبلی اور ایگزیکٹوز میں موافقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسرے ادارے اور حکومت بھی ایک دوسرے کے ساتھ بر سرپیکار ہیں۔ قوانین کی بھرمار ایک طرف جبکہ دوسری طرف نظام عدل کا نقص یہ ہے کہ بیس لاکھ زیر التوا مقدمات پڑے ہیں اور سالوں میں بھی انصاف ملنا مشکل ہے۔ لوٹ مار، گرانی، امن وامان کی مخدوش صورتحال، بم دھماکے، فرقہ واریت، مذہبی جنونیت، کساد بازاری، ڈالرکی حکمرانی، روپے کی قدر میں روز افزوں کمی، دہشت گردی، شدت پسندی،کرپشن اور مذہبی منافرت، لسانی اور گروہی تضادات، اشرافیہ کی بدمعاشی، غربت وغیرہ کا عفریت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، تو دوسری طرف حکومت قانون و آئین کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے عمل میں بری طرح ناکام ثابت ہوچکی ہے۔ فرد کی بنیادی ضروریات حل نہیں ہوتیں، چہ جائیکہ حکومت اخراجات کو کنٹرول کرتے ہوئے کوئی نیامیگا پراجیکٹ، نئی سائنسی ٹیکنالوجی، بنیادی میگا انڈسٹری لگانے کی پوزیشن میں آجائے۔ نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ پرائیوٹائزیشن کرکے قومی وسائل، اداروں کو مفت میں کوڑے کے دام بیچے جا رہے ہیں۔ خام مال، ٹیکنالوجی، کمپیوٹر، تیل، کسی حد تک گیس،آٹو موبائل تک سارا مواد پہلے سے بیرون ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس طرح برآمدات صفر ہیں۔ اب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ادارروں کی تنخواہیں بھی قرضے لے کر پوری کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور استعماری طاقتیں قرضوں کی وجہ سے اپنی مرضی کے مطابق پالیساں ہم پر لاگو کرتے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ ہر دوسرے دن کشکول خالی ہو جاتا ہے۔ ایسے میں عوامی قیادت کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آزاد کرانا ہوگا۔ آزاد خارجہ اور داخلہ پالیسی بنانا ہوگی، تاکہ بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور جس کی اساس فیڈریشن ہے۔ قرآن اور سنت کے علاوہ کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ ان حالات میں گداگری ، طوائف الملوکی اور اضطراب نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے۔ ہر طرف سیاست کے نام پرزہر اگلا جا رہا ہے۔ پولیس، ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، پٹواری،تحصیل دار، جج، انتظامیہ تفویض کردہ آئینی حدودات سے تجاوز کر رہی ہوتی ہے۔ من پسند افراد کی بھرتیاں، ریڈ ٹیپ ازم، میرٹ کا قتل عام اور انصاف کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔ ہر کوئی اپنے مال کا خود ساختہ ریٹ مقرر کرکے دو، تین بلکہ چار نمبر تک برانڈز اپنے حساب سے بیچتا ہے۔ دکاندار، کسان اور زمیندار ر ہر ایک کا اپنا بھاؤ ہے۔ جاگیردار اور سرمایہ داروں کے کیا کہنے! کسی کا پرسان حال نہیں ہے۔ جنگل کا قانون ہے۔
اس کے علاوہ سیاسی لیڈران، فوج کو ہر قسم کے مسائل کا جڑ سمجھتے ہیں۔ سیاسی لیڈران الزام لگاتے ہیں کہ اصل طاقت کا سرچشمہ فوج ہی ہے۔ کاروبارِ مملکت دراصل ان کا ہے۔ایک طرف 80 اور دوسری طرف حکومت کو 20 فیصد بجٹ ملتا ہے۔دفاعی اور داخلہ اور خارجہ پالیسی ان کی ہے۔ جس کسی کو یہ چاہیں، اقتدار دیتے ہیں اور جس کو چاہیں، پابند سلاسل کر دیتے ہیں، یا دیوار سے لگا دیتے ہیں۔
قارئین، کیا عذاب ہے! یہ تو اتنے مسائل ہوگئے کہ بندے کے سوچتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بندے کو جنون پکڑ لیتا ہے۔ گمان ہوتا ہے کہ کہیں مسائلستان میں تو نہیں آگئے۔ مقصد ان سب باتوں کا کسی ادارے یا کسی فرد کی دل آزاری بالکل نہیں۔ اور نہ ہی کسی کو مایوسی کی طرف راغب کرنے کو جی چاہتا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا مرض نہیں جس کے لئے قدرت نے علاج نہیں بھیجا ہو۔ ہاں، البتہ اس پر سوچ بچار کرکے مسائل کو حل کرنے کا قرینہ سوچا جاتا ہے۔ اگر کوئی پالیسی اپنے مقاصد کے حل میں ناکام ہے،تو اس صورت پالیسی کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ اگر بنیادی نظام میں نقص ہے، تو اس کو تبدیل کرکے نیا نظام لایا جاتا ہے۔ معروضی حالات و واقعات اس کے شاہد ہیں کہ مترقی سوچ رکھنے والے ممالک نے یہی تجربات کئے اور اس کے ثمرات اب عوام کو پہنچ رہے ہیں۔ جب ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں، تو اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ عوام کی نمائندہ حکومت ہوتی ہے۔عوام اپنے لئے اراکین منتخب کرکے اسمبلی پارلیمنٹ بجھواتے ہیں۔ تاکہ ان کے دیرینہ مسائل کا حل نکالا جائے۔
اگر مرض کی بروقت تشخیص اور علاج نہیں کیا جائے، تو بعید از قیاس نہیں کہ مرض ناسور میں تبدیل ہو جائے۔ اس وقت یا تو اس ناسور کو جسم سے علیحدہ کرنا پڑے گا یا پھر اس سے موت واقع ہوگی۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت مملکت پاکستان کو ایک نئے آئین اور جدیدضابطہ قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ مملکت اور عوام کے درمیان سوشل کنٹریکٹ مسائل کے انبار میں کمی لا سکتا ہے۔ مجھے ایک عجیب سی حیرت ہوتی ہے کہ آیا واقعی حکومت کوئی شعوری کوشش کرتے ہو ئے شہریوں کی بالادستی (عوام کی نمائند ہ حکومت) کے قیام کے لئے کوشاں ہے؟ حکومت کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ قانون بنائے لیکن صرف کچھ افراد کے تحفظ کے لئے قانون بنانا کہاں کا انصاف ہے؟ کیا سرِبازار عدالت کے فیصلوں کا مذاق نہیں اُڑایا جاتا؟ یہ حقیقت ہے کہ قانون ساز اسمبلی کو قانون بنانے کا حق ہے، لیکن اس کی تشریح اور توضیح کا حق قانون وآئین کے مطابق عدالتوں کا ہے۔
قارئین، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت اور فوج میں موجودہ عدم توازن کی وجہ سے ملک میں بے چینی اور انتشار برپا ہے۔ اس صورتحال میں تبدیلی کے آثار ڈھونڈنا ایک حد تک نا ممکن لگتا ہے۔ تا وقت یہ کہ آئین ودیگر قوانین میں تبدیلی لائی جائے۔ میرا خیال ہے کہ ایک نیا عمرانی، معاشی، زرعی، ہیلتھ، زمین کی منصفانہ تقسیم وغیرہ جیسے معاہدات سے کچھ نہ کچھ تبدیلی کے آثار ظاہر ہوسکتے ہیں۔ میں این آر او کی بات نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک یا اداروں کو اس کا راستہ دکھا رہا ہوں کہ وہ کرپٹ، نااہل حکمرانوں کو دوبارہ اقتدار کی راہ دکھائے۔ پاکستان میں اشرافیہ کو لگام دینا ہوگا۔ لامحدود دولت، کاروبار بے زمین ہاریوں،کسانوں، زمینداروں اور غریبوں میں از سر نو تقسیم کرنا ہوگی۔ طبقاتی نظامِ تقسیم کو ختم کرکے قومی اداروں کو اپنے پیروں پرکھڑا کرنے کے لئے قانون بنانا لازمی ہے۔ زمین کی ملکیت کی منصفانہ تقسیم انتہائی ضروری ہے۔اونچ نیچ کا نظام ختم کرنا ہے، تو اس کے لئے عوام کو اٹھنا ہوگا۔ قرضوں کے لئے متبادل سوچنا ہوگا۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب انہیں قرضوں کی وجہ سے ہماری ملکی سالمیت اور بقا کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔
قارئین، آج 2018ء سال کی پہلی تاریخ ہے۔ ہمیں اس دن عہد کرنا ہوگا کہ سال نو جو کہ الیکشن کا سال بھی ہے ۔اس میں اس طرح کے نمائندوں کو ووٹ دینا چاہئے جو کہ ہمیں لگتا ہو کہ وہ کوئی دیرپا پالیسی اور اعلیٰ منشور دینے کے اہل ہوں۔ جو مملکتِ خدادا د کو جدیدخطوط پر استوار کرسکیں۔ دنیا میں سیاست کے پیمانے بدلتے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ خطے میں جاری چپقلشوں کے خطے پر اثرات کو بھانپنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوبارہ سقوطِ بنگال جیسا ہنگامہ برپا ہوجائے۔ صوبوں کو حقوق دینا ہوں گے۔ ہم نے اہل سیاست کی نا اہلیوں کو دیکھ لیا۔ اب واضح ہوگیا کہ کون کیا ہے؟ اس سال اس عہد کو ساتھ لے کر چلنا ہے کہ نفرت اور عداوت کو محبت میں بدلنا ہے۔ امن و امان قائم کرنا ہے اورمملکت پاکستان کو عظیم ملک بنانا ہے۔

تبصرہ کریں