’’جیولیانوا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے لیکن انتہائی خوبصورت ہے۔ یہ اڈریاٹک سی کے کنارے آباد ہے۔ یہ ایک طرح سے بندرگاہ بھی ہے، جہاں بہت سارے بحری جہاز لنگرانداز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹی بڑی کشتیاں اور ماہی گیر بھی بڑی تعداد میںیہاں نظر آتے ہیں، مگر ساری کشش یہاں کے خوبصورت ساحل پر حاضر ہونے والے سیاحوں کی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب میں بس سے اترا اور ساحل کی طرف جانے لگا، تو میرا گزر ایک گلی سے ہوا جہاں رہائشی گھر آباد تھے۔ گھروں میں مختلف درخت بھی لگے تھے، لیکن میری نظر جب ایک ایسے درخت پر پڑی جو کسی زمانے میں سوات میں بہت عام تھا اور جسے ہم پشتو میں ’’مرخنڑئی‘‘ کہتے ہیں، اس گلی میں بھی کئی گھروں میں ’’مرخنڑئی‘‘ کے درخت لگے تھے۔ جو قرمزی رنگ کے ’’مرخنڑئی‘‘ سے بھرے ہوئے تھے، میں نے جب اپنے وطن کا پھل یہاں دیکھا، تو حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔‘‘
قارئین کرام! مندرجہ بالا خوبصورت اور دلچسپ پیراگراف فضل خالق کی کتاب ’’ہر قدم آوارگی‘‘ سے لیا گیا ہے۔ یہ کتاب دراصل چار عدد ملکوں انڈونیشیا، سری لنکا، اٹلی اور ازبکستان کے سفر ناموں پر مشتمل ہے۔ ایک سو اٹھائیس صفحات کی یہ کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ ایک بار پڑھنے کو بیٹھ جائیں، تو ختم کیے بغیر اٹھنے کو دل نہیں چاہتا۔
دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مختلف صفتوں سے نوازا ہو۔ فضل خالق صاحب اُن لوگوں میں سے ایک ہیں، جنہیں وادئی سوات کی سر سبز اور تاریخی وادی میں مختلف اوصاف کے ساتھ ایک اعلیٰ اور نمایاں مقام حاصل ہے۔وہ انگریزی زبان کے بہترین رائٹر ہیں۔ وہ پہلے انگریزی کے مشہور اخبار ’’دی ڈیلی ایکسپریس ٹریبون‘‘ سے وابستہ رہے اور اب وہ پاکستان کے سب سے پرانے اور مشہور انگریزی روزنامے ’’دی ڈیلی ڈان‘‘ کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی انگریزی زبان میں ایک خوبصورت تحقیقی اور معلوماتی کتاب “Uddiyana the forgotten Holy Land of Swat”بھی شائع ہوچکی ہے۔ اس تاریخی کتاب کے لیے انہوں نے سوات کے دور دراز علاقوں کے خود دورے کیے ہیں۔ آثارِ قدیمہ کی معلومات جمع کی ہیں۔ اس بارے میں وہ نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ سوات کے باسی ہوتے ہوئے ہمیں سوات کے بارے میں اتنی معلومات نہیں ہیں، جتنی باہر کے لوگوں کو ہیں۔ وہ اٹلی کے ایک ماہر آثار قدیمہ کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ ہمیں ملا، مگر جب انہوں نے سوات کے مختلف مقامات، آثار اور اہمیت کے بارے میں پوچھنا شروع کیا، تو ہماری معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اور ہمیں اُس کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ واپس آکر اُن تمام مقامات اور آثار کے خود مشاہدے کے بعد یہ کتاب تخلیق کی گئی۔
قارئین، مذکورہ کتاب بلا شبہ فضل خالق صاحب کا ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ کیوں کہ اس حوالے سے بہت کم تحقیق ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں فضل خالق صاحب اپنے صحافی دوست امجد علی سحابؔ کے ساتھ سوات کے دور دراز خوبصورت دروں، جھیلوں، چشموں اور پہاڑوں کا پیدل سفر کرکے دشوار گزار اور خطرناک راستوں سے گزر کر اُن دلکش، جاذبِ نظر، خوش کن، سر سبز وادیوں اور مقامات کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ دنیا اس طرف راغب ہوجائے اور سیاح سوات کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ادھر امنڈ آئیں۔
قارئین کرام! مذکورہ کتاب ’’ہر قدم آوارگی‘‘ میں بہت آسان اور سہل زبان استعمال کی گئی ہے۔ فضل خالق داد کے قابل ہیں کہ انگریزی کے ساتھ ساتھ وہ اردو زبان کے اتنے اچھے لکھنے والے ہیں۔ اُس کے ساتھ اردو کے ادبی الفاظ کا کافی ذخیرہ ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے کہیں بھی غیر موزوں الفاظ کے استعمال کا شائبہ تک نہیں گزرا۔
ہر اچھی اور معروف کتاب کی طرح اس کتاب کو بھی شعیب سنز پبلشر نے شائع کیا ہے۔ عمدہ نرم کاغذ، سرورق اور پس ورق دونوں خوبصورت اور دیدہ زیب۔ فضل ربی راہیؔ صاحب نے کتاب پر خوبصورت اور جامع دیباچہ تحریر کیا ہے جب کہ امجد علی سحابؔ نے پس ورق پر اپنی دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے مصنف اور تصنیف پر تعارفی کلمات کی گوہر افشانی کی ہے۔ کتاب کی قیمت نہایت مناسب اور موزوں، صرف ایک سو ستر روپے ہے۔ ہر اچھے بک سٹال کے علاوہ جی ٹی روڈ مینگورہ پر واقع شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز کی دوکان سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
قارئین، فضل خالق کے یہ سفرنامے پڑھتے ہوئے ہر تاریخی مقام کی منظر کشی ایسے دلربا انداز میں کی گئی ہے کہ قاری داد دیے بنا نہیں رہ پاتا اور اس کے بیان کے سحر میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ میں اس کتاب پر فضل خالق صاحب کو مبارک باد دیتا ہوں اور اُس کا نہایت ممنون ہوں کہ اس نے اتنی اچھی تاریخی کتاب مجھے تحفہ کی ہے۔ آخر میں کتاب سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے:
’’بس میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ جس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ دراصل بس ایک سٹاپ پر رُکی جہاں ایک سیاہ فام نوجوان سوار ہوا۔ وہ ڈرائیور کے ساتھ کچھ دیر تک عالمِ پریشانی میں بات چیت کرتا رہا اور پھر ڈرائیور نے اسے آخری نشست کی طرف اشارہ کیا۔ وہ جلدی جلدی آخری نشست کی طرف گیا۔ وہاں ایک بیگ پڑا تھا۔ اسے اٹھایا اور ڈرائیور کو شکر بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے نیچے اتر گیا۔ اگلی نشست پر بیٹھے ایک طالب علم نے یہ معمہ حل کرتے ہوئے بتایا کہ اس سیاہ فام نوجوان نے دو دن پہلے اسی بس میں سفر کیا تھا اور اپنا قیمتی سامان جس میں ایک عدد لیپ ٹاپ موجود تھا اور تھوڑی بہت رقم بھی تھی، اترتے وقت بس میں ہی چھوڑ گیا تھا۔ چوں کہ اسے بس کا نمبر یاد نہیں تھا۔ اس لیے دو دن تک اس کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا۔ اب جب اسے بس ملی، تو اسے اپنا کھویا ہوا سامان بھی اسی سیٹ پر صحیح سلامت ملا۔ میں نے سوچا کہ ہمارے مذہب میں گمشدہ چیز کے واپس کرنے کے حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں مگر ہم ہیں کہ ایسی چیزوں پر اپنا حق جمانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم چوری شدہ اور پرائے سامان کو اپنی ملکیت تصور کرتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ ایک ہم ہیں کہ بس میں سوار ہوتے وقت اور بھیڑ کے درمیان اپنی جیب کا خاص خیال رکھتے ہیں اور ایک یہ لوگ ہیں جو گمشدہ اور پرائی چیزوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہم بھی ان لوگوں کی طرح دیانت داری اور ایمانداری کے زریں اصولوں پر عمل کرتے۔‘‘
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
