روح الامین نایابکالم

گوجر قوم کا المیہ

13 جنوری کے ادارتی صفحہ میں ’’گوجر قوم تاریخ کے آئینہ میں‘‘ کے عنوان کے تحت ہمارے کالم نگار دوست ساجد ابو تلتان نے ایک خوبصورت معلوماتی کالم لکھا ہے۔ سب سے پہلے تو میں اُس کا نہایت شکر گزار ہوں کہ اس نے گوجر کو قوم کے نام سے شناخت دی ہے، ورنہ اس سے پہلے گوجر کو برادری کی شناخت دی جاتی تھی۔ یہ برادری کا لاحقہ اکثر اقلیتوں کے ساتھ لگایا جاتا ہے جیسے عیسائی برادری، ہندو یا سکھ برادری۔ ساجد صاحب اس حوالے سے پوری گوجر قوم آپ کی ممنون اور مشکور ہے۔ گوجر قوم کے ایک نمایاں نام اور ترجمان ملک رضان خان کٹان خیل نے مجھے فون کیا اور آپ کا فون نمبر مانگنے لگا، تاکہ بصد احترام آپ کا شکریہ ادا کرسکے۔ میرے پاس نمبر نہیں تھا، میں نے اُسے ادارتی صفحہ کے مدیر امجد علی سحابؔ کا نمبر دیا کہ ان سے رابطہ کریں۔ ہوسکتا ہے سحابؔ کے ساتھ ہو۔ اب معلوم نہیں کہ وہ آپ کو فون کرچکا ہے یا نہیں، بہر حال دونوں صورتوں میں رضان خان کٹان خیل کا شکریہ قبول فرمائیں۔
ساجد صاحب! میں گوجر قوم کی تاریخ پر بات نہیں کرتا، اس حوالے سے آپ کی تحقیق کافی ہے اور اس میں شک نہیں کہ گوجر قوم ایک پرانی تاریخی قوم ہے۔ اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ اس میں بڑے مشہور لوگ گزرے ہیں۔ آج بھی گوجر قوم سے وابستہ قابل لوگ بڑے اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ باہر ترقی یافتہ ممالک میں بھی اہم انتظامی عہدوں پر فائز ہیں۔ پاکستان میں سیاسی اور معاشرتی میدانوں میں چوہدری رحمت علی سے لے کر سابق صدرِ پاکستان فضل الٰہی چوہدری تک گوجر قوم میں شمار ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ گوجر قوم پر گمنامی کے دبیز سائے پڑے ہوئے ہیں؟ اپنی تاریخ اور اپنی زبان رکھنے کے باوجود گوجر قوم کو وہ نام اور مقام کیوں نہیں مل رہا جس کے وہ حقدار ہیں؟ لہٰذا آج اس کالم میں ہم اس کے چند اسباب و وجوہات کا ذکر کریں گے۔
قارئین کرام! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اُس وقت تک ایک قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ اپنی حالت خود بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ عرض یہ ہے کہ گوجر قوم کو آخر یہ گلہ کس سے ہے، یہ تو اکیسویں صدی ہے۔ تیز رفتاری ہے۔ ازدحام ہے۔ دھکم پیل ہے۔ اس دوڑ میں آپ کو کوئی راستہ دے گا، نہ آپ کا انتظار کرے گا۔ آپ کو تیز دوڑنا ہوگا اور ساتھ لوگوں کے اس ازدحام کو چیر کر زبردستی اپنے لیے جگہ بنانا پڑے گی۔ اس میں رحم اور انصاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ لازمی بات ہے کہ اگر یہ دوڑ آپ نے جیتنی ہے اور معاشرے میں اپنا ایک مقام بنانا ہے، تو یہ جنگی اوزاروں سے نہیں بلکہ جدید سماجی اور معاشرتی ٹیکنالوجی اور تعلیم کے اعلیٰ اقدار اور معیار سے لیس ہوکر لڑنا پڑے گی۔ آپ کو اس سے کس نے روکا ہے؟ اور کوئی روک بھی نہیں سکتا۔ کسی بھی طاقت میں یہ جرأت نہیں کہ وہ گوجر قوم کو تعلیم یا ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے روکے۔ یہ جنگ آپ کو خود لڑنا ہوگی۔ آبا و اجداد کی بہادری کے قصے بیان کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ دورِ جدید کے تقاضوں کا سامنا کیجئے۔ چیلنجز کو سینے سے لگاکر قبول کیجئے۔ رحمان بابا کہتے ہیں:
ہغہ ناوے چہ پہ خپلہ خایستہ نہ وی
سوک بہ ئے سہ کاندی خایست د مور او نیا
اپنی تاریخ کو تاریخ تک رہنے دیں۔ اُسے بار بار دہرانے سے قوم ماضی کی کہانیوں میں گم ہوجاتی ہے۔ وہ کاہل اور سست ہوجاتی ہے اور وہ رفتہ رفتہ کچھ کرنے کی بجائے ماضی کی خوش نما یادوں اور قصوں کہانیوں پر اکتفا کرکے بیٹھ جاتی ہے۔ خاص کر آج کل آپ لوگوں میں یہ رجحان بہت زیادہ ہے۔
دوسری اہم اور قابل توجہ بات، یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں وہ قوم صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہے جس کی زبان ختم ہوجاتی ہے۔ گوجر قوم کی اپنی گوجری زبان ہے۔ اس زبان کو کتنے گوجر بولتے ہیں؟ کیا نئی نسل اس زبان سے آشنا ہے، کیا یہ زبان لکھی جاسکتی ہے؟ اگر ہاں، تو اس میں کتنی کتابیں شائع ہوئی ہیں؟ کیا گوجر آپس میں خط و کتابت گوجری میں کرتے ہیں؟ کیا اس کے حروف ہیں، حروف کا ریکارڈ ہے؟ یہ سارے ضمنی سوالات ہیں۔ میری معلومات کے مطابق گوجری زبان ہے۔ بولی بھی جاتی ہے لیکن گوجری زبان کو حقیقی معنوں میں زبان بنانا، اسے اُٹھانا، اسے ترقی دینا، اسے بولنے کے علاوہ پڑھنے اور لکھنے کے قابل بنانا کس کا کام ہے؟ یہ یوسف زء، پختونوں یا پنجابیوں کا کام تو ہے نہیں۔ بنیادی طور پر یہ آپ کا کام ہے، گوجر قوم کا کام ہے۔ ابتدا آپ نے کرنی ہے، پھر بعد میں دوسرے عوامل اور لوگ ساتھ شامل ہوں گے۔
جنابِ من، تیسری بات یہ ہے کہ جب تک قوم کا ہر فرد، جوان، بوڑھا، عورت اور بچہ اپنی قوم کے نام پر فخر نہ کرے، اُس قوم کا نام گم ہوجاتا ہے۔ میں آپ کے جذبے کی قدر کرتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو ملک رضان خان کٹان خیل کہتے ہیں اور گوجر نام کو باعث شرم نہیں سمجھتے۔ پھر بھی میں تجویز دوں گا کہ آپ ’’ملک‘‘ کا لفظ بھی نکال دیں اور اس کی جگہ گوجر لگا دیں۔ کیوں کہ یہاں ’’ملک‘‘ کے نام پر اچھے خاصے مشہور لوگوں کا ایک اور قبیلہ آباد ہے۔ لہٰذا فرق واضح ہوجائے گا۔ یہاں گوجر قوم کا المیہ یہ ہے کہ گوجر ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے آپ کو گوجر کہلوانا پسند نہیں کرتے۔ کیوں کہ اب وہ خوش پوش ہوگئے ہیں۔ برسبیل تذکرہ، میں اپنے چند دوستوں کو جانتا ہوں جن کی کاسٹ گوجر ہے، لیکن خدا کی قسم میں ڈر کے مارے ان کے سامنے یہ نام زبان پر نہیں لاسکتا، ورنہ برسوں کے تعلقات ختم ہوجائیں گے اور الٹا میں ان کا دشمن بن جاؤں گا۔ آپ کی گوجر قوم میں آج بڑے بڑے ڈاکٹر، انجینئر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، آرمی آفیسرز اور پولیس آفیسرز ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے اپنے گوجر ہونے پر فخر کرتے ہیں؟ کتنے ہیں جو ڈاکٹر، انجینئر، کمشنر، آفیسرز کے عہدے سے پہلے گوجر لکھتے ہیں یا لکھنے پر آمادہ ہیں؟ ہے کوئی جو ڈاکٹر گوجر رضان خان، انجینئر گوجر دلدار خان، ڈائریکٹر گوجر یعقوب خان وغیرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہو؟ اب جب ایک قوم کے افراد اپنے نام سے بھاگ رہے ہوں، منھ چھپار ہے ہوں، گوجر نام پر شرم محسوس کررہے ہوں، تو وہ قوم کیسے زندہ رہ سکتی ہے؟ اس لیے تو اس نام نے وقت کے ساتھ ساتھ تضحیک کی شکل اختیار کرلی۔ اس لئے جب کسی کو جاہل، گنوار، اَن پڑھ اور بے وقوف کا طعنہ دینا ہوتا، تو اُسے ’’گوجر‘‘ لفظ سے پکارا جاتا تھا۔ لہٰذا گوجر قوم کے سپوتوں سے میری یہ درخواست ہے کہ یہ بھی آپ ہی کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی آپ ہی کی جنگ ہے۔ کسی اور کو آپ کے قومی نام سے کیا غرض؟ آپ سب نے خود ایک دوسرے کو اس نام سے پکار کر اپنی جگہ بنانی ہے۔ خود ایک دوسرے کو عزت اور احترام دینا ہے اور اسے چہار سو پھیلانا ہے۔ (جاری ہے)

تبصرہ کریں