روح الامین نایابکالم

احترامِ عورت

اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر فرض کیا ہے، لیکن ہم ایک ایسی بدقسمت قوم ہیں کہ اسلام کے نام پر ہمیں علم سے دور رکھا گیا ہے۔ یہی وجوہات تھیں کہ پختون قوم علم میں تمام دنیا سے پیچھے رہ گئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ صرف علم نہیں بلکہ ہر میدان میں یہ قوم پیچھے رہ گئی۔
پختون معاشرے میں عورتوں کو وہ قدر اور عزت نہیں دی جاتی جس کی وہ مستحق ہیں۔ مشرق کی دوسری قوموں کی طرح ہمارے ہاں بھی عورت ذات کو نچلے درجے میں شمار کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ پستی اور بلندی کا معیار عمل پر ہے۔ اگر کسی کا عمل برا ہو، خواہ وہ مرد ہو یا عورت اُسے برا تصور کرنا چاہیے۔ کسی کا عمل بلند ہو، اچھا ہو، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اُسے بلند اور اعلیٰ تصور کرنا چاہیے۔ اُسے احترام کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو دنیا کا نظام چلانے کے لیے دو ساتھی پیدا کیا ہے۔ زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ یہ گاڑی ایک پہیہ پر نہیں چل سکتی۔ ہماری پختون عورتیں تو پاک دامن، وفادار، باحیا، محنت کش اور خدمت گار ہوتی ہیں۔ ہمیں ہر لحاظ سے، ہر وقت اور ہر جگہ عورتوں کا احترام کرنا چاہیے۔ کیوں کہ عورتوں کا احترام اور عزت مہذب قوموں کا وطیرہ ہے۔
قارئین کرام! محترمہ نسیم خان ایک سرگرم سیاسی کارکن ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کی ڈسٹرکٹ کونسل سوات کی ممبر ہیں۔ ساتھ ساتھ وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی ’’کوآرڈی نیٹر‘‘ ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ سوشل ورکر ہیں۔ سوات میں نشے کے خلاف جدوجہد میں وہ پیش پیش ہیں اور ’’انٹی نارکاٹیکس سوات‘‘ کی سینئر وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ سوات میں مختلف خطرناک امراض میں مبتلا غریب مریضوں کے لیے مرکزی زکوٰۃ فنڈ سے مالی امداد مہیا کرتی رہتی ہیں، جو خاصا مشکل کام ہے۔ وہ ایک محنتی، جفا کش، ملنسار اور ہمدرد عورت ہیں۔ وہ ہر وقت سماجی خدمت کے لیے کمر کس کر تیار رہتی ہیں۔ وہ ہر ایک سے خواہ غریب ہو یا مالدار، احترام اور عزت سے ملتی ہیں۔ لازمی بات ہے کہ دوسروں کو عزت اور احترام دینے والے دوسروں سے عزت اور احترام مانگتے بھی ہیں، لیکن پچھلے دنوں ’’ڈسٹرکٹ کونسلرز‘‘ سوات کے ایک اجلاس کے دوران میں جب مَیں نے اُس کی تقریر کی ویڈیو دیکھی اور سنی، تو میں حیران ہوگیا کہ کوئی اتنا بھی گر سکتا ہے کہ وہ بھرے اجلاس میں کسی خاتون کو گالی گلوچ دے اور اُسے نازیبا الفاظ سے مخاطب کرے۔ اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ایک جمہوری سسٹم میں اختلاف کا اظہار موزوں اور اخلاقی زبان میں کیا جاتا ہے، لیکن حد درجہ افسوس کا اظہار کیا جاسکتا ہے کہ صرف سوات کی ضلعی کونسل پر کیا موقوف، صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی جیسے اعلیٰ ایوانوں میں بھی عورت ارکان کو غلط ناموں اور نازیبا الفاظ سے پکارا اور یاد کیا جاتا ہے۔ یہ غیر اخلاقی رویہ حد سے زیادہ قابل مذمت ہے۔ تمام ایوان پوری قوم کی اعلیٰ نمائندہ مجلس شوریٰ ہوتے ہیں۔ ان کا ہر کام، ہر بیان، ہر اجلاس پوری قوم کے لیے اخلاق و برد باری کا ایک اعلیٰ نمونہ ہونا چاہیے، نہ کہ عام گلی کوچوں میں مذاق کا نشانہ بنے رہیں۔ عموماً ایسے رویوں کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔ نفرتیں پھیلتی ہیں، عوام کے درمیان دوریاں پیدا ہوتی ہیں جیسا کہ اس معاملے میں ہوا۔
محترمہ نسیم اختر نے بھرے اجلاس میں نہایت غم اور غصے کی حالت میں اپنا دکھڑا بیان کیا۔ اپنے ساتھ ناانصافی اور غلط رویے کی داستان سنائی اور رو رو کر مسلم لیگ ن کے تمام عہدوں سے استعفا دینے کا اعلان کیا۔ یہاں تک کہ مسلم لیگ ن کی بنیادی ممبر شپ سے بھی استعفا دے دیا۔ انجامِ کار روتے پیٹتے اجلاس سے چلی گئیں۔
مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ اس وقت مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کی مجموعی صورت حال اتنی مشکل حالات سے گزر رہی ہے کہ انہیں تو عوام میں پذیرائی کی ضرورت ہے۔ خاص کر منتخب اراکین اور بنیادی ممبران کو ہر قیمت پر آمادہ کرنے، ساتھ دینے اور چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت تو ساتھ دینے والوں کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے، نہ کہ بھگانے کی۔ بہرحال میں ان غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی رویوں کی مذمت کرتا ہوں اور یہ اپیل کرتا ہوں کہ ہر لحاظ میں جمہوری اقدار اور جمہوی رواداری کا پاس رکھا جائے۔ اختلافات کا اظہار جمہوری اور اخلاقی طور طریقوں سے کیا جائے۔ اس حوالے سے میری اور ہر جمہوری اخلاقی انسان کی ہمدردیاں محترم بیگم نسیم اختر کے ساتھ ہیں۔ ہم اُن کی سیاسی، غیر سیاسی، سماجی سرگرمیوں اور عوامی خدمات کو تحسین کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور اُن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ جہاں بھی رہیں، جس پارٹی میں بھی رہیں، اُن کا عوامی خدمت کا جذبہ یوں ہی جواں رہے۔
وہ اگر مسلم لیگ کی سیاست سے دست بردار ہوتی ہیں، تو ہوجائیں۔ یہ ان کا اختیار ہے۔ میرا مشورہ ہوگا کہ وہ سیاست سے کنارہ کش نہ ہوں، وہ کسی بھی پارٹی کے جھنڈے تلے اپنی مثبت اور عوام دوست سرگرمیاں اور پالیسیاں جاری رکھ سکتی ہیں۔

تبصرہ کریں