روح الامین نایابکالم

اکہترواں یومِ آزادی اور ہم

وطنِ عزیز کو آزاد ہوئے اکہتر سال ہوگئے۔ اس دوران میں ہم بحیثیت پاکستانی بہت نشیب و فراز سے گزرے۔ پڑوسی ملک سے تین عدد جنگیں ہوئیں۔ ملک کا اکثریتی حصہ کٹ کر بنگلہ دیش کے نام پر الگ ملک بنا۔ وزرائے اعظم قتل ہوئے۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی بیماری اور پھر اچانک موت نے بے پناہ سوالات چھوڑدیے، جو ابھی تک حل طلب ہیں۔ اوپر حکمران طبقوں میں اقتدار کی ایوانوں میں برسہا برس تک سازشیں ہوتی رہیں۔ حکومتوں کو کمزور کیا گیا۔ ملک و قوم کی بجائے ذاتی اقتدار اور شخصی مفادات کو مد نظر رکھ کر فیصلے کیے گئے۔ قومی اور جمہوری قوتوں کو ختم کرنے اور بدنام کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ سیاست کو شجر ممنوعہ بنایا گیا۔ نتیجے کے طور پر ملک میں مسلسل مارشل لائی حکومتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو دس دس سال تک جاری رہا، جس کی وجہ سے بے پناہ مسائل نے جنم لیا۔ نتیجتاً سیاست جمود کا شکار رہی۔ سیاسی لوگوں کا مستقبل تاریک تر ہوگیا۔ سیاسی اور جمہوری قائدین کو جھوٹے مقدموں اور غدارِ وطن کے الزامات میں سالہاسال تک پابند سلاسل رکھا گیا۔ مارشل لائی حکومتوں میں ایک ہی آدمی کی ہر بات قانون کا درجہ رکھتی تھی۔ کوئی آئین کوئی قانون یا دستور کا عمل دخل نہیں ہوتا تھا۔ بار بار آئین و قانون کو پاؤں تلے روندا گیا۔ آئین و قانون کے رکھوالوں اور تحفظ دینے والوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔ غرض ان کو نیست و نابود کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ وفاداریوں اور غداریوں کے سرٹیفکیٹ آج تک تقسیم ہورہے ہیں۔ آمروں اور ڈکٹیٹروں کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کی وجہ سے ملکِ عزیز بے پناہ مسائل اور مشکلات میں پھنس گیا۔ فرقہ وارانہ تعصب انتہا کو پہنچ گیا۔ مختلف مذہبی فرقوں کے درمیان خوں ریزی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ کراچی میں لسانی فسادات نے ہزاروں معصوم لوگوں کی جان لی۔ غلط خارجی پالیسیوں اور بیرونی آقاؤں کے مفادات کو پورا کرنے کے لیے قومی مفادات اور سلامتی کو داؤ پر لگایا گیا۔ جس کی وجہ سے دہشت گردی کے ناسور نے ملک کو سالہاسال تک جکڑے رکھا۔ تقریباً ساٹھ سے ستر ہزار پاکستانی اپنی قیمتی جانیں ہار گئے۔ اس میں فوج، پولیس، سویلین، بچے، بوڑھے سب نے جانوں کی قربانی پیش کی۔ آخر کیوں، کون ذمہ دار ہے ان تباہیوں اور رسوائیوں کا؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سول حکومتیں بھی آئیں اور فوج نے بھی بلا شرکت غیرے لمبے لمبے عرصے کی حکومتیں کیں۔ لیکن بے چارے غریب پاکستانیوں کا کوئی مسئلہ حل نہ ہوا۔ بد انتظامی عروج پر ہے۔ کوئی منصوبہ بندی، کوئی پروگرام نہیں کہ ملک کے اہم مسائل کا سامنا کیا جائے۔ بس ایسے ہی یہ ملک چلتا رہا۔ ایڈہاک ازم اور عبوری ادوار پر یہ ملک چلایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج توانائی کے بحران سے لے کر صحت، تعلیم تک کوئی مسئلہ مضبوط بنیادوں پر حل نہیں ہوا۔ ہر ادارہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہر ادارے کے ستون ڈگمگارہے ہیں۔
اس وقت ملک کی آبادی میں آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ تقریباً دو کروڑ بچے اب بھی سکول کی چار دیواری سے باہر ہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی جگہ نہیں۔ اس بائیسویں صدی میں خیبر پختونخوا اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے ایک مستقل عذاب کی شکل اختیار کی ہے۔ لوگ ذہنی بیمار ہوگئے ہیں۔ امن و امان ناپید ہے۔ ہر پاکستانی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کر رہا ہے۔ کسی بھی وقت کسی کو بھی ٹارگٹ کرکے زندگی کے حق سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ وطنِ عزیز بیرونی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر پاکستانی ہزاروں روپے مقروض ہے۔ ملک کے ایک بڑے ہی بااثر اشرافیہ طبقے نے ملک و قوم کو ہر طرح سے لوٹا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اربوں ڈالر بیرونی ممالک کے بنکوں میں جمع ہیں، بیرونی ممالک میں ان کے قیمتی اثاثے ہیں، کاروبار ہیں، اس خاص اشرافیہ کو استحصالی طبقے کے عام آدمی کے دکھ درد اور مسائل کا کوئی اندازہ نہیں۔ ان کو تعلیم، صحت، بے روزگاری، اور لوڈشیڈنگ کی تکالیف کی کوئی خبر نہیں اور نہ احساس ہی ہے۔ کیوں کہ ان کی زندگی ان تمام تکالیف سے ماورا ہے۔ انہیں علم ہی نہیں کہ بھوک کیا ہوتی ہے، بیماری کیا ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کا کیا مطلب ہے؟
تاریخی جبر تو یہ ہے کہ یہی لوگ عام پاکستانی کی نمائندگی جمہوری اداروں یعنی پارلیمنٹ میں کررہے ہیں۔ اس سے پاکستانی قوم کی حالت کیا بدلے گی؟ لہٰذا موجودہ استحصالی نظام میں تبدیلی کے تمام دعوے جھوٹے ہیں۔ مختلف ناموں اور خوشنما نعروں پر عوام کو لولی پاپ دیا جا رہا ہے۔ عوام کو جھوٹی تسلیوں پر ورغلایا جا رہا ہے۔ انہیں ہوائی جھولوں میں جھلایا اور سلایا جا رہا ہے۔ انہیں مختلف شخصیات کے چہرے دِکھا کر یہ اُمید دلائی جا رہی ہے کہ اب تبدیلی آئے گی اور سب مسائل حل ہوجائیں گے، جب کہ عوام کے مسائل چہروں کے بدلنے سے نہیں بلکہ نظام کے بدلنے سے حل ہوں گے۔
اس وقت پاکستان معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ہزاروں لاکھوں مسائل منھ پھاڑے موجود ہیں۔ اندرونی خطرات بیرونی خطرات سے بڑھ کر ہیں۔ بیرونی خطرات بھی کچھ کم نہیں۔ امریکہ اور چین میں رسہ کشی انتہا کو پہنچ گئی ہے کہ اس خطے پر معاشی بادشاہت کون کرے گا؟ سوال یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ ان دو سپر طاقتوں کے بیچ ہمارا کیا بنے گا؟ ہمارے وجود، ہمارے امن، ہمارے استحکام اور ہمارے جان و مال کا کیا ہوگا اور ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟
ان تمام خطرات کے باوجود پاکستان کے لوگ اکہترواں یوم جشن آزادی جوش و خروش سے منا گئے۔مَیں ان کے حوصلوں کو داد دیتا ہوں اور میں بھی قوم کو جشن آزادی کی مبارک باد دیتا ہوں۔

تبصرہ کریں