روح الامین نایابکالم

چوکیدار کون؟

محترم عمران خان کے وعدے کے مطابق پچاس لاکھ گھر تو اِن شاء اللہ بنیں گے، البتہ سواتی عوام وزیراعظم کے مشکور ہیں کہ ایک کروڑ نوکریوں کا آغاز سوات سے ہوچکا ہے۔ چلو اچھا ہوا ایک کروڑ میں سے تقریباً آٹھ دس لاکھ نوکریاں تو مل گئیں۔ سوات کے عوام اب دن رات ڈیوٹی پر ہیں۔ دن کو روزی روٹی کمانے کے لیے محنت مزدوری کرتے ہیں اور رات کو اپنے گھروں اور محلوں کی چوکیداری۔ لہٰذا اب دن رات عوام مصروف ہوگئے ہیں۔ اب اس سے آگے اور کیا ہوسکتا ہے؟
قارئین کرام! جب سے عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اُٹھایا ہے۔ اُسی وقت سے عوام کے گھروں میں سنگ باری شروع ہوگئی ہے۔ پتھرہیں کہ برس رہے ہیں۔ کبھی کبھی خاص مہربانی کرکے دروازے بھی پیٹے جاتے ہیں۔ ملک و قوم کی چوکیداروں (پولیس، ایف سی، سیکورٹی فورسز، انٹیلی جنس ادارے) سے شکایت کریں، تو وہ سخت غصہ ہوجاتے ہیں۔ ہم کیا کریں؟ تم لوگ چوکیداری کرو، چور کو زندہ پکڑنا ہے، گھر کے اندر داخل ہو، تو پاؤں پر گولی چلانا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ وہی معاملہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ بھئی، میں دن رات مزدوری کروں، تمہیں ٹیکس اور بلوں کی ادائیگی کروں، تمہارے لیے بوٹ، یونیفارم خریدوں، بندوق تھما کر دے دوں اور پھر چوکیداری بھی میں ہی کروں؟ عرض یہ ہے کہ تم کیا کروگے؟ کیا تم صرف مجھ پر حکومت کروگے؟ مجھ پر حکم چلاؤگے۔ تو پھر تمہارا کیا کام ہے؟ تمہاری ڈیوٹی کیا ہے؟ تم چوکیدار، میں چوکیدار، وہ چوکیدار، ہم چوکیدار، تو پھر یہ چور کون ہے؟ سو ملین کا سوال ہے ذرا سوچیے۔ اور ۔۔۔
ذرا گریبان میں جھانک لیں، اپنا ضمیر اگر نظر آئے، سمجھ آئے، تو سوال کریں کہ آخر یہ کیا ڈرامے وقتاً فوقتاً رچائے جا رہے ہیں۔ اور یہ تم لوگوں کو سواتی عوام ہی تنگ کرنے اور بے وقوف بنانے کے لیے نظر آ رہے ہیں؟ یہ پتھر پھینکنے، دروازے کھٹکھٹانے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے سرزمینِ سوات کے علاوہ اور کوئی جگہ نظر نہیں آئی؟ کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے کہ ایٹم بم بنانے کے مالک اور سیکڑوں میزائلوں کے تجربوں کے خالق، دنیا بھر میں جاسوسی کے لحاظ سے مشہور ایجنسیاں، جو دوسرے ممالک کے لیے بھی قیمتی خدمات سرانجام دیتی ہیں، قدم قدم پر سکیورٹی فورسز کی چوکیاں، تلاشیاں لیکن اس کے باوجود اگر معلوم نہ ہوسکا، تو صرف یہ کہ رات کو چند مخصوص علاقوں میں پتھر کون پھینک رہا ہے؟ کس نے عوام اور غریب دیہاتوں کے محنت کش لوگوں کی راتوں کی نیند حرام کی ہے؟
آپ سے التجا ہے کہ عوام کو اتنا بے وقوف نہ سمجھیں، جتنا آپ کا خیال ہے۔ پشتو کی کہاوت ہے: ’’پٹ غل بادشاہ دے‘‘ یعنی چھپا ہوا چور بادشاہ ہوتا ہے، یعنی یہ پھر آپ لوگوں کی کارستانی ہے۔ جب حکومتِ وقت ناکام ہو، مقامی اور ضلعی انتظامیہ ناکام ہو، تو پھر اس کا کیا مطلب لیا جائے؟ کیا سوات کے عوام اب یہ سوچنا شروع کر دیں کہ کسی نئے ڈرامے کے لیے میدان یا سٹیج بنایا جا رہا ہے؟ لیکن یہ خیال رہے کہ یہ 2006ء اور 2007ء نہیں۔ اب جو میں بات لکھ رہا ہوں انہیں غور سے سنیں اور پلو باندھ لیں کہ اگر یہ ڈراما بند نہ ہوا اور پتھر پھینکنے کا سلسلہ بند نہ ہوا، تو جو پتھر یہاں رات کو برس رہے ہیں، وہ عنقریب اسلام آباد میں دن کے اجالوں میں برسنا شروع ہو جائیں گے۔ اب مرضی آپ کی ہے، ایک ملک اور ایک ہی ملک کے باشندوں میں یہ فرق ناقابلِ برداشت ہے کہ کوئی آرام و سکون سے سویا رہے اور کوئی تمام رات چھتوں پر چوکیداری کرے اور نور کے تڑکے کے ساتھ سرمئی آنکھوں کو لے کر مزدوری کی خاطر روانہ ہو۔ اگر خدا سے نہیں، تو وقت سے ڈرو۔ کیوں کہ ’’العصر، ان الا انسان لفی خسر‘‘۔ سنبھل جاؤ، باز آجاؤ، ورنہ پھر خدا کی مار کے لیے تیار ہوجاؤ۔ کیوں کہ ’’زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے۔‘‘ (القرآن)

تبصرہ کریں