فضل محمود روخانکالم

ہسپتالوں کی حالت زار

گذشتہ دنوں ایک مریض کے ساتھ سنٹرل ہسپتال جانا ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں۔ کھڑکی پر ایک جمِ غفیر ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ایک قطار مردوں کی لگی ہوئی ہے اور ایک قطار خواتین کی۔ مجھے یوں لگا گویا کسی سنیما ہال میں انڈین فلم لگی ہو اور ٹکٹ خریدنے لوگ جمع ہوں۔ حالاں کہ یہ بے چارے ڈاکٹر معائنہ کے لیے چھٹی بنوا رہے تھے۔ اگر اس عمل پر اک آدھ گھنٹہ لگ رہا تھا، تو آگے جاکر ڈاکٹر کے معائنہ پر انتظار میں کتنا وقت لگتا؟ یہ اندازہ لگانے کے لیے ہمارے ایم پی اے فضل حکیم صاحب کو خود ایک مریض کے ساتھ جاکر ایک دن کی تکلیف اٹھانی چاہیے۔ لمبی لمبی قطاروں سے بچنے کے لیے اور مریضوں کو تکلیف سے بچانے اور وقت کو ضائع کرنے سے یہ بہتر ہے کہ چھٹی بنانے کے لیے سنٹرل ہسپتال میں زیادہ سے زیادہ کھڑکیاں ہوں اور خواتین مریضوں کے لیے چھٹی بنانے کے لیے الگ الگ کھڑکیوں کا انتظام کرنا چاہیے۔
جہاں تک ڈاکٹر صاحبان کی حالتِ زار کی بات ہے، تو وہ اگر مجھ سے نہ پوچھا جائے، تو بہتر ہے۔ مریضوں کے رش کی وجہ سے اُنہیں سر کھجانے کے لیے اور کمر کو سیدھا کرنے کے لیے دو منٹ بھی میسر نہیں تھے۔ وہ بے چارے مریضوں کے معائنے میں جت گئے تھے۔ رش کی وجہ سے اُن سے جتنا بھی ممکن ہوتا ہے، وہ مریضوں کا معائنہ کرتے رہتے ہیں، لیکن اگر مجھ سے پوچھا جائے، تو وہ کام کی زیادتی کی وجہ سے اپنی ڈیوٹی سے انصاف نہیں کرسکتے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹروں کی تعداد میں مزید اضافہ فرمائے۔ اگرچہ اس حکومت نے گذشتہ سالوں میں ڈاکٹروں کی تعداد میں کافی اضافہ کیا تھا، لیکن پھر بھی اسے مزید ڈاکٹر لینے چاہئیں۔ اس طرح میل اور فی میل نرسنگ سٹاف میں بھی اضافہ کرنا چاہیے۔
جہاں تک ہسپتال میں صفائی کا انتظام ہے، تو وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ صفائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نصف ایمان ہے، لیکن ہسپتالوں میں کیا، ہمارے پورے معاشرے میں یہ نصف ایمان ہمیں کہیں بھی نظر نہیں آرہا۔ یوں لگ رہا ہے کہ گویا ہم اس نصف ایمان سے محروم ہیں۔ باقی نصف ایمان ہمیں مسجدوں میں نماز پڑھتے ہوئے نمازیوں کے طریقِ کار میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
قارئین، ہمارے معاشرتی مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ہم اللہ میاں کے حضور کھڑے ہوکر بھی خود کو یکسو نہیں پاتے، بلکہ ہمارا ذہن منتشر ہی رہتا ہے۔
بات ہورہی تھی ہسپتال میں صفائی کی، تو جہاں ڈاکٹر ہوتا ہے، وہاں تو صفائی کا بہتر انتظام ہونا چاہیے۔ کیوں کہ جب ماحول صاف ستھرا ہو، تو وہاں بیماری نہیں پھیلے گی، لیکن مجھے یہ لکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کا معائنہ روم بھی صاف ستھرا نہیں ہوتا اور جہاں مریضوں کے ہال اور کمرے ہیں، تو وہاں بھی صفائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر داخل شدہ مریضوں کے ہال سے منسلک واش روم کو دیکھا جائے، تو اُس کا بھی برا حال ہے۔ صفائی کا انتظام بہتر کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے کہ ہسپتالوں میں صفائی کیسے بہتر کرنی چاہیے؟ خاک روبوں کی تعداد بڑھانے اور اُن سے ہمہ وقت صفائی کا کام لینے کی اشد ضرورت ہے۔

تبصرہ کریں