کسی پارٹی یا کسی لیڈر کے لیے کوئی کیوں اپنا ایمان خراب کرے۔ برے کو برا سمجھنا چاہیے۔ غلط اور خلافِ حقیقت تمام چیزوں سے اجتناب ہر ذی شعور کا وطیرہ ہونا چاہیے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی لیڈران کے ہر غلطی کو حق بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کی جاتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکرز جو کہ فعال حیثیت سے اپنی پارٹی کے نظریات کی حفاظت و حمایت کرتے ہیں، ان کو اپنے علاوہ دوسری پارٹیوں کے صحیح نظریات، عمل اور بیانات کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا چاہیے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ کسی کے لیے کیوں اپنی آخرت کو خراب کیا جائے۔ کسی مقصد اور غرض کے بغیر کسی کا وکیل کیوں بنا جائے؟ سیاسی فعالیت بہترین آپشن ہے۔ سیاست سے ہی کسی مسئلے کا دیرپا حل نکل سکتا ہے۔ اخلاقی سیاست ’’عبادت‘‘ ہے۔ خدمت کے جذبے سے سرشاردوسروں کے مسائل حل کرنا اللہ تعالی کی رضا اور قرب کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یاد رہے دوسرے کی قبر میں کسی کو دفن نہیں ہونا ہے۔ ادارتی یا ملکی لیڈر کے احکامات ماننا ہر ممبر پر فرض ہوتا ہے، لیکن جو احکام مؤثر نہ ہوں یا وہ احکام معروض کی کسی وجہ سے قابل عمل نہ ہوں اور یا دیگر کسی دلیل یا مفروضے پر رد کرنے کے قابل ہوں، تو چاہیے کہ ان کو نہ مانا جائے۔ ایسے احکام یا پروپیگنڈا کو حکمت کے ساتھ برسرِ عام چیلنج کرنا چاہیے۔ اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھانی چاہیے۔ کم از کم اس پر تعمیری طور اختلاف رائے کا حق قانون بھی دیتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ ہمارا ہر عمل لازمی طور پر رد عمل پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کسی بھی اچھے یا برے فیصلے کا ظہور لازمی طور پر ہونا ہوتاہے۔ غلط سیاسی فیصلے دوررس نتائج کے حامل ہوتے ہیں اور اکثر اوقات آئندہ نسلوں تک اپنے اثرات دکھاتے رہتے ہیں۔ اب اگر غلط فیصلے لیے جائیں یا کروائے جائیں، تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ مذکورہ فیصلے شائد وقتی لیتے ہوں گے، لیکن فطری نتائج کے طور پر فطری انصاف قدرت کا قانون ہے۔ جیسا کہ قانون ہے کہ ہر عمل کا رد عمل ضرور ہوتا ہے۔سیاسی امور کے علاوہ دنیاوی امور میں بھی ایسا اس لیے بھی ہونا چاہیے کہ جب ہم غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہیں گے، تو لازمی امر ہے کہ اس سے معاشرے کے افراد کو صحیح اور غلط بات معلوم کرنے میں آسانی ہوگی اور اس کے خلاف مؤثر اور جان دار آواز اٹھائی جاسکے گی۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا اور متعلقہ ادارے یا اشخاص کے علم میں وہی کام لایا جائے، تو اس سے ہوگا یہ کہ اس فرد کی ذمہ داری ساقط ہوجائے گی۔ باقی قانون جانے اور قانون نافذکرنے والے ادارے۔ ریاستی امور اس طرح ہوتے ہیں کہ اس میں ادارے اپنے صواب دیدی احکام کو نافذ کرتے ہیں۔ اس کو یوں سمجھا جائے کہ جہاں ریاست کی رسائی مشکل ہو، وہاں اگر اس کے لیے قانون موجود ہے، تو اپنے طور سزا دینا خود کو مجرم بنا دینے کے مترادف ہے۔ میرا خیال ہے کہ قانون کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے عام عوام بھی امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کے کسی حد تک ذمہ دار ہیں۔ کم از کم اپنے خاندان اور ماتحتوں تک اس کا دائرہ کار واضح ہے۔ ہاں، اگر آپ کا کسی کے ساتھ لین دین ہو، تو چاہیے کہ معاہدہ کے مندرجات پر عمل کیا جائے۔ روزانہ ہمارا کسی نہ کسی طور پر عام عوام، ریڑھی بانوں، دکان داروں وغیرہ سے رابطہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ قانون اور اخلاقیات کے دائرہ کار کے اندر معاملہ کرنا چاہیے۔ اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے اور اپنا ذہن اور آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں۔ دوسرے کے کام میں بلاوجہ مداخلت بد مزگی پیدا کرتی ہے۔ اعتماد اس حد تک کرنا چاہیے کہ دوسرا آپ کے ساتھ دھوکے کا متحمل نہ ہو۔ مذکورہ دکانوں، اشخاص اور ہنرمندی کے بھیس میں آپ کو چور، کام چور، ہڈ حرام، سست،چالاک، بد گو، بد اخلاق، بے ایمان وغیرہ ہر قسم کے لوگ ملتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی لمحے آپ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ موجود رہے گا۔
برسبیلِ تذکرہ میں اپنا ایک واقعہ آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔ کسی کی دل آزاری ہر گز مقصود نہیں، بس صرف اس طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ میں پرسوں پٹرول بھروانے کے لیے پٹرول پمپ گیا، جیسے ہی مَیں وہاں پہنچا، تو اگلے لمحے دوسری طرف مستری خانے میں ٹائر بھروانے کی مشین پھٹ گئی۔ دھماکے کی آواز سن کر سب لوگ وہاں پر دوڑتے چلے جا رہے تھے۔ یہاں یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ اس طرح کے بے شمار واقعات روزانہ بازاروں میں ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں زیادہ تر لوگ تو انسانی ہمدردی اور خدمت کے جذبے کے تحت اور دوسری طرف کچھ لوگ بازاروں میں صرف اس وجہ سے ٹکے رہتے ہیں کہ کہیں ایسا واقعہ ہوجائے اور کسی کی جیب پر ہاتھ صاف کیا جائے۔ الغرض اس طرح کے قسم قسم کے لوگ حادثات اور واقعات کو دیکھنے آتے ہیں۔
واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ اس وقت ایک موٹر سائیکل والے کو پمپ ملاز م تیل سپلائی کر رہا تھا۔ اس سے پہلے میں نے ملازم کوبتایا کہ مجھے پانچ سو روپے کا تیل ڈلوا دو۔ اس نے پہلی فرصت میں فوری طور پر موٹر سائیکل والے کو ڈھائی سو روپے کا تیل ڈالا اور پٹرول ہینڈل سیدھی موٹر سائیکل کی ٹینکی سے نکال کر بغیر میٹر کو زیرو پر لے آتے ہوئے میری موٹر کار کی ٹینکی میں ڈھائی سو روپے سے آغاز لے کر پانچ سو کے ہندسے پر روک لیا۔ میں انتہائی حیران ہوا اورسوچا کہ اس بندے نے مجھے میٹر نہیں دکھایا اور یہ کہ میں نے دیکھا کہ میٹر کی شروعات 250 کے ہندسے سے ہوئی ہے، تاہم میں نے اپنے آپ کو تسلی دی کہ شائد اس نے مجھے پانچ سو روپے کا تیل ڈالا ہو، لیکن شک اس وقت شروع ہوا جب اس نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ جو جلدی جلدی جا رہے ہیں، وہاں پر مشین پھٹی ہے۔ اس وجہ سے مجھے شک ہوا کہ یہ مجھ سے کیوں اس طرح کہہ رہا ہے؟ حالاں کہ اس کو پتا تھا کہ میں دھماکے کے وقت سے ہی وہاں کھڑا تھا۔ میں خود بھی اس وقت کھڑا تھا اور یہ ملازم بندہ بھی میرے ساتھ کھڑا مجھے دیکھ رہا تھا، لیکن بد مزگی سے بچنے کی خاطر میں نے گاڑی روانہ کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کو کہہ دیا کہ بھائی آپ نے پٹرول پورا بھروا دیا ہے ناں؟اس نے سنی اَن سنی کردی۔ بہر حال اس وقت میں چلا گیا، لیکن دل میں ایک کھٹکا سا تھا کہ کچھ نہ کچھ اس نے گڑ بڑ کی ہے۔ میں بار بار اپنے موٹر کار کی میٹر ریڈنگ چیک کر رہاتھا، لیکن اس میں بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی ۔ سرِدست ایک جملۂ معترضہ عرض ہے کہ تبدیلی دراصل مہنگائی ہی ہوتی ہے۔ تاہم اس وقت میں عدالت چلا گیا اور پھر دفتر۔ اس وقت رات ہوچکی تھی۔ شک تھا کہ میرے دل میں برقرار تھا، جس کی وجہ سے میرے دل میں آیا اور میں اپنے ساتھ ہم کلام ہوا اور کہا کہ اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میرے تو کوئی خاص پیسے نہیں تھے اور نہ ہی اس دن کوئی ایمر جنسی تھی، لیکن شائد کسی کے ساتھ ایمرجنسی میں اس طرح کا واقعہ ہوجائے، تو بہت بر اہوگا۔ سوچا کہ یہ بندہ کل کسی اور کے ساتھ بھی چوری وغیرہ کرسکتا ہے۔ اس لیے واپسی پر میں سیدھا پٹرول پمپ چلا گیا اور وہاں پمپ پر منیجر صاحب کو شکایت کرنا چاہی، مجھے پیسے واپس لینے تھے نا پٹرول ڈلوانا تھا،لیکن بد قسمتی سے اس وقت منیجر نہیں تھا۔ اس وقت پٹرول پمپ کا ایک دوسرا ملازم ملا۔اس نے کہا کیا کام ہے؟ میں نے صبح کی سب روداد سنائی۔ اس نے مجھے کہا آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ اس ملازم میں یہ مسئلہ ہے۔اس نے طنزیہ کہا کہ اللہ اس کو غرق کرے۔ پھر اس ملازم نے گزارش کی۔اس وقت کئی دوسرے لوگ بھی کھڑے تھے۔ اس نے کہا کہ شکر ہے آپ نے منیجر کو نہیں بتایا۔ اس چور کے ساتھ ساتھ ہماری بھی واٹ لگنی تھی۔ آپ مہربانی کریں اور ہمیں اجازت دیں، تاکہ ہم آپ کا بقایا پٹرول ڈلوا سکیں۔ میں نے کہا کہ میں پیسے یا پٹرول بھروانے کے لیے قطعی نہیں آیا ہوں، لیکن وہ اور دوسرے لوگ ضد کررہے تھے۔ اس لیے میں نے مجبوراً ان کا دل رکھنے کے لیے ہاں کردی اور اس طرح بقایا پٹرول بھروا دیا۔ تاہم میں نے اپنا وزیٹنگ کارڈ اس کو دیا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ اگر وہ ملازم اپنی صفائی پیش کرنا چاہتا ہے، تو لازمی طور پر مجھے اس کے پیسے واپس دینا ہوں گے۔
قارئین، میں صرف اس غرض سے دوبارہ گیا تھا کہ آج اس نے میرے ساتھ یہ چوری کی ہے، کل کسی اور کے ساتھ کرے گا اور نہ جانے کتنوں کے ساتھ اس نے ایسا کیا ہوگا۔ اس کی بے عزتی کرنا بالکل بھی مقصود نہیں تھا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں اور یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے حق کے لیے کھڑے ہوجائیں اور کسی کو بھی اس کی قصداً غلطی پر سرزنش کریں ۔
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
