Swat

سوات، بابائے قطعہ عبدالرحیم روغانیؔ سپردِ خاک

(باخبر سوات ڈاٹ کام) پشتو کے نامور شاعر، ادیب اور بابائے قطعہ71 سالہ عبدالرحیم روغانیؔ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ جگر کے کینسر میں مبتلا تھے۔کئی دنوں سے سیدو شریف تدریسی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ عبدالرحیم روغانی المعروف روغانی بابا کی نمازِ جنازہ بت کڑہ جنازگاہ سیدو شریف میں ادا کی گئی جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ بعد میں ان کو بت کڑہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت کی وجہ سے جنازگاہ میں جگہکم ہوگئی۔ عبدالرحیم روغانیؔ 1950ء میں سوات کے علاقہ مٹہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایم اے پشتو کے بعد پی ٹی سی اور سی ٹی کے کورس کیے۔ مٹہ کے ایک سرکاری سکول میں بحیثیتِ استاد بھرتی ہوئے۔ ساٹھ سال کی عمرمیں ریٹائر ہوئے۔ طالبان کی دھمکیوں کے بعد وہ اہلِ خانہ سمیت مینگورہ منتقل ہوئے۔ جہاں بت کڑہ میں رہائش پذیر تھے۔ روغانیؔ بابا کی شاعری میں وطن سے محبت، بھوک و افلاس، پختونوں پر ہونے والے مظالم، امن کا پیغام اور طنز کے نشتر ملتے ہیں۔ ان کی مزاحیہ شاعری میں بھی کوئی نہ کوئی پیغام ہوتا تھا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں رہنے والے پختون ان کو جانتے تھے۔ آسان زبان اور سبق آموز قطعات کی وجہ سے ان کو بابائے قطعہ کا خطاب بھی ملا تھا۔ روغانیؔ بابا بلند پایہ شاعر ہونے کے علاوہ ایک اعلیٰ پائے کے ادیب بھی تھے۔ عبدالرحیم روغانی کی 9 کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب”نوے نغمہ“1992میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد شاعری کی کتب”ٹولگہ“، ”زوریدلی احساسات“، ”سندریز احساس“، ”د رنڑا ساسکی“، ”سندرے او خبرے“ جب کہ نثری کتب میں ”کوربانہ خیالونہ“ اور ”خود غرض“ شامل ہیں۔ خود غرض کا انگریزی زبان میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔روغانی بابا نے عام لوگوں کی شاعری کی جس کی وجہ سے ان کی شاعری کو پسند کیا جاتا تھا۔عبدالرحیم روغانیؔ کی زیادہ تر شاعری مختصر ہوتی تھی۔ اُن کا کلام بامعنی تھا جس پر مشہور گلوکاروں ہارون باچا، سردار علی ٹکر، کرن خان اور دوسرے نامی گرامی گلوکار اپنی آواز کا جادو جگا چکے ہیں۔ ان کی زیادہ مشہور ہونے والی غزل کا مقطع ہے”بیا چہ شي تازہ زاڑہ یادونہ روغاني تہ، خدای د ی سوات تہ راولہ د سوات پہ بہانہ“،”ستوری د سبا پہ راختو خکاري، دور د تیارو پہ تیریدو خکا ري“، ”روغانے د چونی گٹ دے، چہ لمدیگیی نو تودیگیی“، ”د روغانی خفہ کول سہ دومرہ گرانہ نہ دہ، تہ تی خفہ شہ روغانے غریب خفہ خفہ دے۔“

تبصرہ کریں