(باخبر سوات ڈاٹ کام)وادیئ کالام میں سطح سمندر سے12700 فٹ بلندی پر واقع ایک کلومیٹرسے زائد احاطہ رکھنے والی ”کگہ ڈنڈہ“(ٹیڑھی جھیل) کا شمار پاکستان کی خوبصورت اور بلند ترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔ کگہ جھیل کو جانے کے لئے تین راستے ہیں لیکن زیادہ تر ٹریکرز کالام سے آگے اتروڑ کے راستے اس جھیل تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ”کگہ جھیل“ کو ”کگہ“ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ جھیل گول شکل کی نہیں بلکہ ٹیڑھی ہے، جس کی وجہ سے اس کو کگہ ڈنڈہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس جھیل میں برف سے پگلنے والا پانی جمع ہوتا ہے۔ جھیل کا پانی اتنا صاف ہے کہ اس میں آسمان اور برف پوش پہاڑ آئینے کے عکس کی طرح نظر آتے ہیں۔ کگہ جھیل کے چاروں طرف پچھلے برس کی برف ابھی بھی پڑی ہے۔ جھیل جانے والے ٹریکر ماجد مسعود نے مشرق کو بتایا کہ جھیل کا احاطہ چاروں طرف ایک کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یہ سوات کی سو سے زائد دریافت جھیلوں میں بہت خوبصورت ہے۔ جھیل کے اطراف میں جنگلی پھول اس جھیل کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ جھیل جانے والے ٹریکرز کا کہنا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی راستوں سے پر سفر کے بعد جب جھیل تک رسائی ہوتی ہے تو جھیل کی خوبصورتی جھیل جانے والوں کی ساری تھکن دور کردیتی ہے۔ جھیل تک جانے والا راستہ بہت خوبصورت ہے۔ اس جھیل کو جانے والے ٹریکر کامران خان نے باخبر سوات کو بتایا کہ راستے میں ہرے دشت نظر آتے ہیں۔ راستے میں آبشار، گلیشئیر،برف پگھلے پانی کی پُر شور ندیاں جانے والوں کو سکون فراہم کرتی ہیں۔ اس راستے میں خوبصورت وادی ”ایز میس بانڈہ“ بھی آتی ہے جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ اس جھیل کو جانے والے سیاح یا ٹریکرز ایز میس وادی میں خیمے لگا کر رات کا قیام کرتے ہیں اور صبح سویرے ناشتے کے بعد دوبارہ کگہ جھیل کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔جھیل تک جانے اور واپس آنے کے لئے شب و روز کا سفر درکار ہوتا ہے۔ جھیل جانے والے ٹریکر حضرت علی نے باخبر سوات کو بتایا کہ جھیل کو جانے کے لئے اتروڑ میں مناسب فیس پر مقامی گائیڈ ملتا ہے۔ اس جھیل کو جانے کے لئے مارچ سے ستمبر کے آخر تک سفر کیا جاسکتا ہے۔ باقی مہینوں میں جھیل اور راستے میں برف پڑی رہتی ہے جس کی وجہ سے جھیل جانا ناممکن ہوتا ہے۔ جھیل جانے والے افراد کو اپنے ساتھ رات کے قیام کے لئے خیمے، گرم کپڑے اور خوراک کا سامان اپنے ساتھ لے جانا پڑتا ہے۔
next post
