روح الامین نایابکالم

منگلور پلے گراونڈ

قارئین کرام! بعض زمینی اور تاریخی حقائق کو ایسے مسخ کیا جاتا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور کچھ نہ کرنے کی صورت میں اپنے غصے کی آگ میں جل کر انسان خود راکھ ہوجاتا ہے۔ اس وقت یہی صورتحال منگلور گاؤں کے کھیلوں کے میدان پر ایکسلشئر کالج کی انتظامیہ اور منگلور قوم کے درمیان ایک دیرینہ تنازعہ کی شکل میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کالج انتظامیہ ببانگ دُہل اس گراؤنڈ کی ملکیت کی دعویٰ دار ہے۔ وہ اس گراؤنڈ کے خسرہ نمبر، فرد نمبر اور کتونی نیز انتقال کے تمام کاغذات کے موجود ہونے کے ساتھ اپنے دعویٰ ملکیت کے لیے اچھے خاصے ثبوت رکھتی ہے۔ کالج انتظامیہ کے بقول ایک لکھے ہوئے معاہدے کے تحت منگلور گاؤں کے بچے دوپہر 2 بجے کے بعد اس گراؤنڈ میں کھیل تو سکتے ہیں لیکن اس کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرسکتے اور نہ ہی گراؤنڈ میں کالج انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کچھ بنا یا بگاڑ سکتے ہیں۔
دوسری طرف منگلور قوم کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین اور گراؤنڈ منگلور قوم کی جائیداد ہے، جسے رواج میں دوتر کہا جاتا ہے۔ سابق والئی سوات کے دور 1960ء کی دہائی میں اسے منگلور کے ملک خیل یا حقدار خیل سے خریدا جا چکا ہے اور پھر والئی سوات کے کہنے پر منگلور کی غیور قوم اور عوام نے اپنا پسینہ بہاکر اسے گراؤنڈ کی شکل دے کر کھیلنے کے قابل بنایا ہے۔ اُس وقت ایکسلشئر کالج کا نام و نشان تک نہ تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت منگلور کا قومی جرگہ جب یہ بات کہہ رہا ہے، تو اس جرگے کے تمام ممبران مجھ سمیت ہائی سکول منگلور کے نام اور ملکیت پر اس گراؤنڈ میں کھیل چکے ہیں۔ اب یہ ایسے تاریخی حقائق ہیں جن پر چاہتے ہوئے بھی آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ پٹوار کے کاغذات، منگلور، چارباغ، منگلور کے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگ اس حقیقت کی گواہی دیں گے کہ یہ گراؤنڈ منگلور ہائی سکول کا تھا، ہے اور رہے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ والئی سوات کے بعد آخر سوات کی ضلعی انتظامیہ کا وہ کون سا افسر یا عہدیدار ہے جس نے بلا سوچے سمجھے اور قوم سے پوچھے بنا اتنی بڑی ناانصافی اور ظلم کا ارتکاب کیا ہے؟ اگر قانون اور انصاف کی نظر سے دیکھا جائے، تو یہ تو کھلم کھلا دھوکا ہے، قومی ڈاکا اور چوری ہے۔
ہمیں پرنسپل صاحب سے کوئی شکایت ہے نہ دشمنی۔ وہ تو منگلور قوم کا مہمان ہے اور منگلور کے باسی اپنے مہمان کی قدر اور سلامتی خوب جانتے ہیں۔ یہ کالج، یہ عمارت ہمارے بچوں کے لیے ہے۔ ایکسلشئر کالج کے بچے اور تمام سٹاف ممبران کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے بچے، ہمارے بھائی اور رشتہ دار ہیں، لیکن بات یہاں پر آکر مروت اور محبت سے نکل کر تلخی اور نفرت میں بدل جاتی ہے، جب منگلور کا تحصیل ناظم صوبائی فنڈ لگا کر بچوں کے فلاح و بہبود کے لیے ایک ڈریسنگ روم بنانا چاہتا ہے، تو اُسے کام سے روکنے کی دھمکی دے کر ایک کاغذ پر ایسی تحریر کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ یہ زمین ایکسلشئر کالج کی ملکیت ہے اور جب بھی وہ چاہے اس آبادی کو گراسکتا ہے، یعنی معاملہ ملکیت کا ہے، کھیلنے کا نہیں۔
قارئین کرام! اب آپ خود اندازہ لگالیں کہ کیا یہ ’’اُور لہ راغلے، د کور میرمن شوے‘‘ والا معاملہ نہیں ہے؟ یعنی ہماری زمین اور ہماری جائیداد پر صرف ایک کمرہ بنانے کے لیے اب ہمیں غیروں سے اجازت لینی پڑے گی؟ نتیجہ صاف واضح تھا۔ منگلور قوم نے کام بند نہیں کیا اور پرنسپل صاحب کو درخواست کی کہ آپ اپنے بڑوں کو خواہ وہ ڈی سی سوات ہو، کمشنر ہو یا چیف سیکرٹری، اُس کو تحریری اطلاع دے دیں کہ منگلور قوم اس گراؤنڈ پر کسی کی ملکیت تسلیم نہیں کرتی۔ یہ گراؤنڈ منگلور قوم کی ملکیت تھی، ہے اور رہے گی۔ ہم اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
میں یہاں پر بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کے سوات کی ضلعی انتظامیہ سے درخواست کرتا ہوں، اس سے پہلے کہ یہ معاملہ نازک صورتحال اختیار کرے اور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوجائے، برائے مہربانی اس مسئلے یا تنازعے میں جلد از جلد مداخلت کریں اور دونوں فریقین کے درمیان بامقصد مذاکرات کرکے کسی تصفیے یا حل کی طرف رسائی کی کوشش کریں۔ منگلور کے لوگ اس بارے میں بہت حساس واقع ہوئے ہیں۔ مجھے یہ ڈر ہے کہ ہماری انتظامیہ اکثر اُس وقت حرکت میں آتی ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ انتظامیہ میرے اس کالم پر توجہ دے گی اور اس نازک مسئلے کو حل کرنے کیلئے عملی اقدام کرے گی۔

تبصرہ کریں