روح الامین نایابکالم

د ارمان پہ سلی (تبصرہ)

دا لا سنگہ زندگی دہ سہ لٹی لٹی ژوندون دے
چی تیاری می دی پہ سترگو دا سنگہ سباؤن دے
د راتلو پہ انتظار کے ستا د یاد ڈیوی بلیگی
ہر یو آہ می د ارمان دے پہ سلگو می زڑہ چاودون دے
کہ دی سل کالہ سزا وے زہ سائر پری ووم خوشحالہ
زۂ دی ٹول عمر سزا کڑم ستا د مینی سنگ قانون دے
’’د ارمان پہ سلی‘‘ پشتو شاعری کا یہ مجموعہ ہمارے پشتون شاعر دوست غلام حق سائرؔ کا ہے جو سوات کی کبل تحصیل کے رہنے والے ہیں۔ یہ کتاب جولائی 2014ء میں شائع ہوچکی ہے جبکہ مجھے اتلؔ افغان کی طرف سے بہ طور تحفہ 21 فروری 2015ء کو ملی۔ دیر آئد درست آئد کے مصداق ہم بہ حیثیت پختون کالم نگار اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ سوات کے شاعروں اور ادیبوں کی کوئی بھی کتاب اگر ہمیں ’’تحفتاً‘‘ دی گئی ہو، تو اُس پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
زیرِ نظر کتاب پر بہت سے دانشوروں، اہلِ قلم، شاعروں اور ادیبوں نے زبردست تبصرے کیے ہیں، جو کتاب میں مختلف عنوانات کے تحت تحریر ہوچکے ہیں۔ لہٰذا کتاب پر مزید کچھ لکھنا یا تبصرہ کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔ اُن حضرات میں مرحوم پروفیسر محمد نواز طائرؔ اور بابائے قطعہ عبدالرحیم روغانیؔ کے علاوہ محترم شیر زمان سیمابؔ ، نقیب احمد جانؔ ، اتلؔ افغان، محمد الیاس الیاسؔ اور پس ورق اباسینؔ یوسف زئ کی تحریر بھی شامل ہے۔ غلام حق سائرؔ کے ساتھ ساتھ میں بھی ان تمام محترم حضرات کا مشکور ہوں کہ انہوں نے غلام حق سائرؔ صاحب کی مختلف الفاظ اور تحاریر سے حوصلہ افزائی کی ہے۔
قارئین کرام! میں اس کتاب پر تبصرہ اس لیے نہیں لکھتا کہ آپ حضرات کو کتاب خریدنے پر مجبور کروں، کیوں کہ مجھے معلوم ہے کہ پختون قوم اپنی زبان کی کتاب پر پیسے دینے کے عمل کو گناہِ عظیم سمجھتی ہے اور یہی ہمارا المیہ ہے۔ ہم ہر حوالے اور ہر لحاظ سے اپنی قومیت، اپنی پہچان اور اپنی زبان سے بے گانہ ہو رہے ہیں۔ پشتو زبان کی کتابوں سے دوکانیں بھری پڑی ہیں۔ ہمارے قلم کار، دانشور، ادیب اور شاعر حضرات خود اس ڈھونڈ میں لگے ہوتے ہیں کہ کہیں سے انہیں کتاب مفت میں مل جائے تو از چہ بہتر!
قارئین، دراصل غلام حق سائرؔ درد و الم کا شاعر ہے۔ اُس کا درد بناوٹی اور مصنوعی نہیں بلکہ اُس کے چھوٹے بچے اَنس کی بے وقت شہادت نے اُسے مغموم کر دیا ہے جبکہ اُس کے پیارے چھوٹے بھانجے شاہ زین کی شہادت نے رہی سہی کسر پورا کر دی ہے۔ ان دو صدمات نے ان کی شاعری میں سوز و گداز پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بے انتہا دکھ اور دردکو الفاظ کا جامہ پہنا کر دوسروں کو بھی رلانے پر مجبور کیا ہے۔
میں اُن کے احساسات و جذبات کو اپنے دل میں محسوس کررہا ہوں اور کیوں نہ کروں؟ ہر شاعر حساس دل رکھتا ہے۔ اس لیے میں اُس کے دکھ درد کو بحیثیت ایک شاعر اپنا دکھ درد سمجھتا ہوں۔ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اُسے شاعری کا ملکہ حاصل ہے۔ اُس کے دکھ، درد، آہوں اور سسکیوں نے اُس کی شاعری کو اگر ایک طرف چار چاند لگادیئے ہیں، تو دوسری طرف اُن زخموں پر مرہم کا کام بھی دیا ہے۔ ورنہ سائرؔ صاحب پاگل ہوجاتے۔ ہر درد اظہار کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ لیتا ہے، بصورت دیگر انسان پر دیوانگی سی طاری ہوجاتی ہے۔
سائرؔ کی کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے اَنس کا غم اور درد زندگی بھر اُس کے ساتھ رہے گا۔ خاص کر ’’د سوات د آپریشن نہ وروستو‘‘ نامی غزل انسان کو خون کے آنسو رلاتی ہے۔
سنگ د ی ماشومی اداگانی د زڑہ اوباسمہ
کڑم لیونے یی پہ خندا کلی تہ سنگ لاڑ شمہ
تہ چی زما مرور تللی د عقبا پہ لوری
دا زہ سائر بہ بی لتا کلی تہ سنگ لاڑ شمہ
سائرؔ کی شاعری میں بلا کی روانی ہے، نزاکت ہے اور کہیں کہیں عشقیہ بیانیہ بھی ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ عشق تو شاعری کے لئے ضروری ہی ہے۔
مذکورہ کتاب میں معاشرے کا عکس بھی ملتا ہے۔ یہ ایک طرح سے سوات کے مخصوص حالات کا آئینہ ہے، جسے پڑھتے ہوئے حساس انسان کے دل پر خنجر چلتے ہیں۔ میں اس خوبصورت کتاب پر غلام حق سائرؔ کو مبارک باد دیتا ہوں اور اتلؔ افغان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ایک اچھے اور معروف کتاب کا تحفہ مجھے دیا ہے۔ اس دعا کے ساتھ اجازت کہ خداوند کریم غلام حق سائرؔ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور چھوٹے اَنس اور معصوم شاہ زین کی شہادت قبول فرمائے۔
اس اُمید کے ساتھ اجازت کا خواست گار ہوں کہ اُن معصوموں کا خون رنگ لائے گا اور سوات میں امن و محبت کی کلیاں ضرور کھل اٹھیں گی۔
زما د اوخکو قافلو چی خڑوب نہ کڑو وطن
دا ورتہ ستا د شہادت بندونو لار بندہ کڑہ

تبصرہ کریں