روح الامین نایابکالم

ظالمو، جواب دو! 

’’ظالمو، جواب دو! خون کا حساب دو!‘‘ ہاں، اب تو حساب دینا پڑے گا۔ اب تو ہر نقیب علی الاعلان نکلا ہے، چاک گریبان نکلا ہے۔ اب تو جواب دینا ہی پڑے گا۔ ساحرؔ نے اس بارے میں بہت پہلے کہا تھا
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
آخرِکار خون جم کر پہاڑ بن گیا ناں! اب کیسے پار کروگے؟ ہر مظلوم اپنے لہو کا ساگر پار کرچکا ہے، خوف و دہشت کو سنگسار کرچکا ہے، اب خوف کیسا؟ اب ڈر کیسا؟ سب کچھ پار کرکے اب مظلوم، ظالم کے درو بام پر دستک دے رہا ہے۔ ہم نے کہا تھا ناں! بار بار سمجھایا تھا ناں کہ اتنا ظلم مت کرو۔ اتنا خون مت بہاؤ۔ یہ اندھا دھند قتلِ عام مت کرو، در و دیوار مت گراؤ، عورتوں اور بچوں کو خون میں مت نہلاؤ۔ جوانوں اور بوڑھوں کا خون مت بہاؤ۔ یہ پختون ہیں، یہ وطن پر مرمٹنے والے مجنون ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ یہ وہی نقیب اللہ مسعود ہے جس کا پاک لہو کشمیر کی برف پوش وادیوں کو کب کا لالہ زار کرچکا ہے، اور اب کراچی کی تپتی ہوئی شاہراہوں پر اپنے رکھوالوں کے ہاتھوں بہایا جا رہا ہے۔ سمجھ اس بات کی نہیں آرہی کہ یہ ظلم اور تاریخ کا جبر ہم پر کیوں ہے؟ ہمارا گناہ یہ ہے کہ ہم پختون ہیں اور مروت کی وجہ سے خاموش ہیں۔ کیا یہ خاموشی اتنا بڑا گناہ کہ ہمیں خون میں نہلایا جائے؟ کاش، تم یہ خاموشی دھماکوں کی زبان میں نہ توڑتے، اگر چہ یہ دیر سے جاگتے ہیں لیکن جب جاگتے ہیں، تو پھر اُنہیں کوئی بھی محض’’لوری‘‘ دے کر سلا نہیں سکتا۔ کیوں کہ تمہاری سب ’’لوریاں‘‘ جھوٹی ہیں، مصنوعی ہیں۔ اب تو نقیب اللہ محسود وقت کا منصور بن چکا ہے اور وقت کے منصور کا سرخ بے قرار، بے چین لہو اب اک آن بان اور شان سے ’’انا لحق‘‘ کی صدائیں بلند کررہا ہے۔ اب یہ صدائیں کراچی کے میدانوں سے لے کر خیبر پختونخوا کے پہاڑوں، دریاؤں اور دشتوں میں گونج رہی ہیں۔ لاکھوں، کروڑوں نقیب اللہ محسود کے بھائیوں، بہنوں اور ماؤں کو جگا رہی ہیں۔ یہ لوگ امن کے پیامبر ہیں۔ امن کا سفید جھنڈا لے کر آئے ہیں۔ امن کی سفید فاختہ پر جان نثار کرتے ہیں۔ یہ پُرامن طریقے سے امن مانگ رہے ہیں، اپنی دھرتی اور مٹی کے لیے، اپنے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے لیے۔ یہ اقتدار نہیں اقدار مانگ رہے ہیں۔ یہ لوگ عصر حاضر کے قاضیِ شہر سے انصاف مانگ رہے ہیں۔ تمہارے انصاف کے ایوانوں سے انصاف مانگ رہے ہیں۔ تمہارے ایوانوں کو آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں کہ وہ ظالم اور مظلوم کی پہچان کرسکیں۔ کان کھلے رکھنے چاہئیں کہ مظلوموں کی فریاد سن سکیں، آہ و بکا محسوس کرسکیں۔ اب اندھا اور بہرا ایوان قبول نہیں۔ اے وقت کے منصف، اب باتوں، حیلوں اور بہانوں کا دور گزر چکا۔ بہت ہوچکا، اب ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہہ بھی دو۔
اے قلم کارو! اے ادیبو، دانشورو اور شاعرو، اب تو اُٹھو اس قوم کو راستہ دکھاؤ، راہنمائی کرو، ان کو وقت کی رفتار سے آگاہ کرو۔ اپنے شعر اور نغموں سے انہیں جگاؤ، انہیں سونے نہ دو، انہیں راستہ میں بھٹکنے نہ دو، انہیں دوست دشمن کی پہچان کراؤ، انہیں مذہبی پُرجوش نعروں میں کھونے نہ دو، اب یہ بقا کی جنگ ہے، اپنی نسل کشی کرنے والوں کے خلاف جنگ ہے، ہاتھوں میں ہاتھ دو ایک دوسرے کا ساتھ دو اور ایک نعرہ لگاؤ کہ ’’ہر خون کا حساب دو، ہر سوال کا جواب دو۔

تبصرہ کریں