امجدعلی سحابؔکالم

تصویر کا دوسرا رُخ

مانتا ہوں کہ پختونوں پر ظلم ہو رہاہے۔ پختون نوجوان بے دردی سے قتل ہورہے ہیں۔ تلاشیاں لی جارہی ہیں۔ چیک پوسٹوں پر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے نوجوان، بوڑھے اور بچے ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔ عورتوں کی بے پردگی ہورہی ہے۔ قطاروں میں کھڑے طویل انتظار میں بیمار بچے’’ ڈاکٹر اور دوائی ‘‘ کی امید میں مر جاتے ہیں۔ پختون مر بھی گئے اور دہشت گر دی کاٹھپا بھی بین الاقوامی سطح پر قوم کے نام لگ گیا۔ ایسے میں کراچی میں نقیب اللہ محسود کا ماور ائے عدالت قتل جلتی پر تیل کاکام کرگیا۔ پختون تحفظ موومنٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان سے اسلام آباد تک مارچ کیا۔ پختونوں کے تحفظ کا نعرہ لگایا ۔ مطالبات کیے۔ سول اور فوجی حکمرانوں کے کانوں تک اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔ منظور پشتین کے نام پر نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی۔ جاگنے کا وقت آگیا۔ بیداری کی نئی لہر اٹھی اور پھیلتی چلی گئی۔ یہ موجودہ وقت میں جو کچھ ہورہاہے درست ہے۔ پختونوں کے تحفظ کے نام پر حالیہ احتجاجی تحریک جاری رکھنا کوئی بری بات نہیں، اچھی بات ہے۔ انسانی حقوق کا تقاضا جمہوریت کا خاصا ہے۔ لیکن ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہم ہروقت ایک ہی رُخ پر توجہ رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب تک حالات و واقعات یا حادثات ہمیں زبردستی دوسرا رُخ دیکھنے پر مجبور نہ کرے۔
1988ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی جمہوری حکومت بنی اور وہ اپنے پہلے دورۂ چین پر جانے والی تھی، تو سوات میں کانجو ائیر پورٹ پرچند افراد نے قبضہ کیا اور حکومت کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کیا۔ مینگورہ میں کئی مقامات پر گولیاں چلیں جس میں ایک وزیر کو بھی بے دردی سے قتل کیا گیا۔ شریعت یا شہادت کا نعرہ لگایا گیا۔ شریعت تو خیر ٹھیک ہے،لیکن ایک اسلامی ملک میں مسلمانوں کے مقابلے میں شہادت کے نعرے کا کیا مطلب تھا؟ مجھے نہیں معلوم کہ دہشت گرد کے سینگ ہوتے ہیں یا دم؟ اور سوال یہ ہے کہ اس تمام کارروائی میں کون شریک تھا؟ کیا سواتیوں کے علاوہ اور کوئی تھا؟ کیا دیر اور باجوڑ میں شریعت آچکی تھی؟ جو صوفی محمد صاحب سوات میں لانا چاہتے تھے؟ کیا سوات کے عوام میں سے کسی نے اس سے پوچھا تھا کہ دیر کے لوگ اٹھ گئے ہیں یا صرف ہم سواتیوں پر ’’شریعت یا شہادت‘‘ والا حکم جاری ہوچکا ہے؟ اور پھر اس کے چند سال بعد ایک آدمی آیا، اس نے چند تقاریر کیں، اسلام کا نام لیا۔ ایف ایم ریڈیو کے ذریعے لوگوں کے گھروں تک پہنچنا اور عجیب صورتحال یہ ہوئی کہ پختون روایات کے برعکس عورتیں، مردوں پر بھاری ہوگئیں۔ مولانا کے دامن میں بغیر پوچھے، بغیر سوچے سمجھے نقد، سونے اور زیوارت کے انبار لگا دئیے۔ کیوں، کس نے کہا تھا؟ اس کے قدموں میں ٹی وی سی ڈی وغیرہ کے ہزاروں قیمتی سیٹ جلائے گئے۔ گاؤں گاؤں چندے ہونے لگے اور پھر وقت نے وہ لمحات بھی دیکھے کہ جس نے ذرا بھی مخالف کی، تو اس کا گلہ کاٹا گیا۔ اب تو یہ گِلہ ہے کہ ہمیں کان پکڑنے کا کہہ کر مرغا بنایا جاتا ہے، وہ حضرات تو کان کاٹتے تھے۔ اب تو مظاہرہ ہوسکتا ہے، نعرے لگائے جاسکتے ہیں لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر سچ بتائیے اس وقت کوئی اُف تک کرسکتا تھا؟ شکوہ شکایت تو دور کی بات تھی۔ اب یہ نہ کہنا کہ یہ سازش تھی ارے بھائی، ہمارے اپنے بھائی بندے تھے۔ اپنے پیارے تھے۔ رشتہ دار تھے۔ ہم جانتے ہیں اور اب بھی ہیں۔ اب خاموش ہیں لیکن اگر وقت نے پلٹا کھایا، تو وہ پہلے سے بھی زیادہ وحشی اور ظالم ثابت ہوں گے۔ کس نے کہا تھا اور کس نے مجبور کیا تھا کہ صوفی محمد کے ساتھ امریکہ کے خلاف جہاد کے لیے افغانستان چلے جائیں؟ جو سواتی گئے تھے، کیا وہ واپس آئے؟ سوات کے لوگو! ذرا حقیقت پسندانہ سوچ لو، اب چند دن پہلے اپنے اسلامی ہیرو صوفی محمد صاحب کا بیان پڑھا ہے؟ اس نے اپنی پچھلی سوچ اور فکر کی نفی کی ہے۔ حکومت کو اسلامی قرار دیا ہے اور اس کے خلاف ہر قسم کی جدوجہد اور تحریک کو غیر اسلامی قراردیا ہے اور مزید بارہ سو علما اورمفتیوں کا فتویٰ الگ ہماری پچھلی تمام ’’ اسلامی‘‘ کار گزاریوں پر سوالیہ نشان ہے۔
میرا خیال ہے کہ کوئی بھی جنگ مذہبی نہیں ہوتی۔ صرف جنگ کو مقدس بنانے کے لیے اور عوام کو دھوکا دینے کے لیے مذہب کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ 1979ء میں ایران اور افغانستان میں نئی حکومتی تبدیلیوں کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی مفادات کے لیے مذہب کا نام استعمال کیا گیا۔ انتہا پسندوں کو فروغ دیا گیا اور اسی حقیقت کو جرمنی کے میونخ سیکورٹی کانفرنس میں ہماری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجودہ صاحب نے تسلیم کیا اور ببانگ دہل کہا کہ چالیس سال پہلے انتہا پسندی کے فروغ پانے والی سوچ کو واپس لانے میں اب وقت لگے گا۔
ایک ملنگ بابا نے بار بار خبردار کیا تھا کہ کرسی اور پیسے کی لالچ پختونوں کو تباہ کرنے والی ہے، ذلیل کرنے والی ہے۔ اسے بدلے میں ہندو کہا گیا، روسی اور ہندوستانی ایجنٹ کہا گیا۔ وہ گڑ گڑاتا ر ہا، چیختا رہا کہ میں ہندو سہی تم تو مسلمان ہو، ایسا مت کرو۔ اس ہاتھیوں کی جنگ میں مت کودو، روند دیے جاؤگے، مسل دیے جاؤگے۔ جب تک وزیرستانیوں پر ڈالروں اور ریالوں کی بارش ہو رہی تھی، تو ہر کوئی دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہاتھا، اس میں صرف وردی والے شامل نہیں تھے بلکہ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے مختلف سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں سے لے کر عام رکن تک سب شامل تھے۔ اس میں شیخ رشید جیسے ابن الوقت نام نہاد لیڈر بھی شریک تھے اور بہتی گنگا میں سب دھو رہے تھے۔
یہ یاد رکھئے کہ افراتفری میں گناہگار اور بے گناہ کا فرق مشکل ہوجاتا ہے۔ سچ اور جھوٹ کی پہچان ختم ہوجاتی ہے۔ دوست دشمن بمشکل پہنچانا جاتا ہے۔خشک لکڑیوں کے ساتھ گیلی لکڑیاں بھی جل جاتی ہیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پھس جاتا ہے۔
قارئین، یہی تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ گریبانوں میں دیکھ لیں اور اپنا محاسبہ کریں۔ اب وقت انتہا پسندی کا نہیں م اب وردی والے ہوں یا بغیر وردی کے، ٹھنڈے ہوکر ہوش کے ناخن لیں۔ ضد پر اڑنا ترک کردیں۔ مسئلے کا حل ڈھونڈیں۔ خدا کے لیے حالات کی نزاکت کو سمجھئے،ورنہ تباہی و بربادی ہم سب کا مقدر بن جائے گی۔

تبصرہ کریں