ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) نے 2002 ء سے لے کر 2008ء تک خیبر پختونخوا میں بلا شرکت غیرے دھڑلے سے حکومت کی۔ لیکن افسوسناک اور حیرت ناک بات یہ ہے کہ اُن کی مشترکہ قومی مفاد کی کارکردگی پر کوئی بات یا بحث نہیں ہورہی ہے بلکہ اُس زمانے کے قومی، صوبائی ممبران کی ذاتی اور شخصی خوبیوں پر بات ہورہی ہے۔ کیوں کہ ان کی مجموعی کارکردگی نہ ہونے کی برابر تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک علاقے، صوبے یا قومی مسائل کے سفر میں ایک شخصی شرافت و دیانت کی کوئی اہمیت ہوتی ہے؟ ایک واقعاتی سیاسی مثال سے اس سوال کی وضاحت ہوجائے گی۔
2002ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ایم ایم اے نے آئینی طور پر 2007ء تک حکومت کرنی تھی لیکن بے نظیر بھٹو کی راولپنڈی میں حادثاتی موت کی وجہ سے یہ انتخابات 2007ء کے بجائے 2008ء میں منعقد ہوئے۔ 2007ء کے آخر تک ضلع سوات میں خاص کر اور پورے پاکستان میں عام طور پر دہشت گردی کا وہ پودا تناور درخت بن چکا تھا، جس کا بیج جنرل ضیاء نے اپنی ذاتی اقتدار کے لیے اسلام کے مقدس نام پر مذہبی جماعتوں کی ایما اور تعاون پر بویا تھا۔ جس میں اُس وقت جماعت اسلامی کا سو فیصدی تعاؤن امرِ وقت کو حاصل تھا۔ روسی ریاستوں میں اسلامی جھنڈا گاڑنے اور افغانستان میں دو رکعت نماز پڑھنے کے لیے وہ پورے پاکستان کو داؤ پر لگانے کو تیار بیٹھے تھے۔ باہوش، سیاسی سنجیدہ حلقوں نے بار بار سمجھایا کہ یہ اسلام کی نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کی اس خطے میں مفادات کی لڑائی ہے۔ مفادات پر جب سمجھوتہ ہوجائے گا تو ہم سے پوچھے بغیر وہ ایک طرف نکل جائیں گے لیکن ہم ایسے پھنس جائیں گے کہ برسہا برس تک اس خطے میں خونی ڈرامے شروع ہوجائیں گے۔ دہشت و خوف کا ایک عالم وجود میں آئے گا۔ جو اس علاقے کا امن ایک اژدھا کی طرح ہڑپ کر جائے گا۔ پھر کوئی بھی قوت اُسے کنٹرول نہ کرسکے گی۔اورپھر وہی ہوا ۔ اب تک بے گناہ عوام کے خون سے ہر جگہ یہ ہولی کھیلی جارہی ہے۔ کیوں؟ جنرل ضیاء اور اُس کی مددگار مذہبی قوتوں کو چلانے والی اعلیٰ شخصیتوں کے ذاتی کردار اعلیٰ سے اعلیٰ تر تھے۔ نمازیں پڑھتے تھے، حج اور عمرے ادا کرتے تھے۔ لمبی داڑھیاں اور لمبی تسبیہات زوروں پر تھیں۔مولانا مودودی، مولانا منور حسن، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق غرض تمام دیوبندی اور بریلوی علمائے کرام کے ذاتی کردار پر کون شک کرسکتا ہے ،یا انگلی اٹھا سکتا ہے؟ لیکن اُن کی پارٹی پالیسی اور پارٹی سیاست نے پاکستان اور پاکستانی عوام کو ہر طریقے اور ہر زاویہ سے آج تباہ و برباد کردیا ہے۔ کشت و خون کا بازار گرم تھا اور ابھی تک ہے۔ ضلع سوات میں وہی پارٹی پالیسی اختیار کی گئی۔
2007ء کے آخر تک سوات میں باقاعدہ دہشت گرد کارروائیاں شروع ہوگئی تھیں۔ مولانا فضل اللہ اپنی پوری دہشت کے ساتھ سوات بھر میں دندناتھا پھر رہا تھا۔ چوکوں میں لوگ ذبح ہورہے تھے۔پل، سڑکیں، سکول تباہ و برباد ہورہے تھے۔ بے گناہ سواتی عوام پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا تھا۔ بے نظیر بھٹو راولپنڈی میں سوات پر پاکستانی جھنڈا لہرنے کا اعلان کررہی تھی، جس کا خمیازہ اُسے خون میں ڈبو کردیا گیا۔ ایسے میں ایک بار سوات میں امن و امان قائم کرنے کے لیے مشرف حکومت نے آپریشن کے لیے فوج بھیج دی لیکن ایم ایم اے کی حکومت نے اپنی ایک ’’خاص پالیسی‘‘ کے تحت اُسے یہاں ٹھکنے نہیں دیا۔ اور فوج کو واپس سوات سے نکال دیا گیا حالاں کہ اُس وقت مولانا فضل اللہ اور اُس کے چند گنے چنے ساتھیوں پر قابو پانا آسان تھا۔ لیکن ایم ایم اے کی ایک خاص حکمت عملی نے ایسانہ ہونے دیا۔اور وہ حکمت عملی (جس کا بعد پتہ چلا) یہ تھی کہ چوں کہ انتخابات قریب آرہے ہیں، لہٰذا سوات میں موجودہ خراب صورت حال ایسے ہی رہنے دیا جائے۔ مطلب یہ کہ مولانا فضل اللہ اور اُن کے ساتھیوں پر کوئی توجہ نہ دی جائے۔ اُن سے تعلقات خراب نہ کئے جائیں۔ اگر ایم ایم ا ے الیکشن جیت گئی یا مذہبی قوتیں جیت گئیں تو مولانا فضل اللہ سے بات چیت کرکے اُسے رام کیا جائے گا اور ہمیں سیاسی کریڈٹ مل جائے گا۔ عوام میں نام ہوگا۔ بصورت دیگر یعنی ہارنے کی سورت میں’’ لوہار جانے انگار جانے۔‘
‘ چناں چہ وہی ہوا، 2008ء کے انتخابات میں یہ لوگ بری طرح سے ہارے اور عوام نے بہ حیثیت مجموعی اے این پی کے حق میں اپنی رائے دے دی۔
اور پھر اُسی امن پسند لوہار نے انگار میں ہاتھ ڈالے پورا بدن جھلسادیا۔ پہلے جرگے کئے، منتیں کیں م اُن کی شرائط مانیں، قیدی رہا کئے، عدالتی مطالبات مانے، کیوں کہ اے این پی کی پارٹی پالیسی امن کی پالیسی تھی۔ ذاتی شخصیات کے کردار میں خاصی خم ہوں گے، وہ فرشتے نہیں ہیں۔ لیکن پارٹی پالیٹکس اور پارٹی پالیسی پختون قوم کے امن، مفاد، تعلیم پر مبنی ہے اور سوات میں امن کے پھول کھلانے کے لیے پارٹی کے رہنماؤں نے، کارکنان نے اپنا لہو بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ اپنے سر کٹوائے لیکن جھکائے نہیں۔ اسمبلی کے ممبران خون میں نہلائے گئے۔ نوجوان کارکن خون کے ساگر میں ڈبوئے گئے۔ بشیر بلور جیسے مخلص، نڈر اور بہادر راہنما نے پشاور کی دھرتی کو خون سے لالہ زار کیا۔ اور اب ان کے بیٹے ہارون بلور بھی ایک دھماکے میں شہید کردئے گئے۔ افتخار صاحب کے ایک بیٹے نے سینے پر گولیاں کھا کر جام شہادت نوش کیا۔ ڈاکٹر شمشیر علی خان جیسے خوبصورت، ہنس مکھ نوجوان کو دھماکے سے ریزہ ریزہ کیا گیا۔ گھر بار لوٹے گئے، حجروں خاندانوں کو تاراج کیا گیا۔ کیوں؟ یہ کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی ۔صرف اور صرف اس لیے کہ سوات کی مٹی پر امن قائم ہوجائے۔ سوات کے باشندے اپنے گھروں اور آشیانوں میں واپس آجائیں۔ لہٰذا سوات کے لوگوں، ذاتی شخص کے کردار کو نہیں پارٹی کو ووٹ دو۔ پارٹی پالیسی اور پارٹی پالیٹکس کو ووٹ دو۔
کیوں کہ اُس وقت سوات کے ایم ایم اے کے صوبائی ممبران بہ شمول محمد امین صاحب، اپنے صادق، امین ہونے کے باوجود ایم ایم اے کی پالیسی کے آگے کچھ نہیں کرسکے۔ اُن کے صادق اور امین ہونے کے باوجود دیکھتے ہی دیکھتے سوات دہشت گردی کے نرغے میں چلا گیا اور یہ کچھ نہ کرسکے۔ کیوں کہ وہ جماعت اسلامی کی پالیسی کے آگے مجبور تھے۔ جبکہ دوسری جانب اے این پی کی امن پسند پالیسی نے اپنے کارکنان اور ممبران کی بے تحاشہ قربانیاں دے کر سوات میں دوبارہ امن کا قیام ممکن بنادیا۔
سوات کے لوگو! عوامی نیشنل پارٹی کو ووٹ دینا آپ پر اس لہو کا قرض ہے۔ جو پارٹی کے نڈر، بہادر کارکنان اور اس دھرتی کے جوان بیٹوں نے اس لیے بہایا کہ سر زمین سوات پر امن و محبت کے پھول کھل سکے۔ آگے بڑھو، آج اس قرض کو ادا کرنے میں کوئی ڈر، خوف، ہچکچاہٹ محسوس نہ کرو ورنہ پھر کوئی بھی سر پھرا اپنا لہو نہیں اُچھالے گا۔
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہماری جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
