الیکشن سر پر ہے۔ ہر طرف سے صرف ایک ہی آواز آتی ہے کہ’’ ووٹ کس کو دوگے؟ ‘‘ہر کوئی صرف ایک ہی سوال پوچھتا ہے۔ کہ ’’کونسی پارٹی کو سپورٹ کروگے؟‘‘ کسی کے پاس کرنے کو اور کچھ نہیں، سوائے الیکشن، ووٹ، پارٹی، حلقہ اور نمائندہ وغیرہ کے۔
جس کا بھی منھ کھلتا ہے، وہ سب سے پہلے اس بارے میں بات کرے گا اور اس کے بعد ہی کچھ اور بولے گا۔ ہر کسی کو بس ایک ہی بات ستا رہی ہے کہ آیا میری پارٹی، یعنی جسے میں سپورٹ کررہا ہوں، جیت جائے گی یا نہیں؟ گویا الیکشن نہ ہوا بلکہ میدانِ محشر ہوا۔
ہر کسی کو بس اپنے ہی بارے میں فکر ہے۔ چلو یہ تو ٹھیک ہے کہ ہر کسی کو اس ملک کو ٹھیک کرنے اور بہتر بنانے کی پڑی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کی یہ جنگ سوشل میڈیا اور بالخصوص فیس بک پر جس طرح جاری ہے، اللہ ہر کسی کو حفظ و امان میں رکھے۔ ہر کوئی اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ جتنا ہوسکے، میں اپنی پسندیدہ پارٹی اور متعلقہ امیدوار کی تصاویر شیئر کروں۔ جس حد تک ممکن ہو، میں اسی پارٹی کا خوب پرچار کروں۔ جہاں تک میرا بس چلے، میں لوگوں کو اس بات پر قائل کروں کہ بھئی، بس یہی پارٹی اچھی ہے۔ اسی ایک پارٹی میں ہم سب کے ساتھ اس ملک کی بھی بھلائی ہے، لہٰذا صرف اسی پارٹی کوہی سپورٹ کرنا چاہئے۔
باقی تمام پارٹیاں تو کرپٹ ہیں۔ لیکن ان کو کرپٹ لفظ کے معنی تک کا بھی پتا نہیں ہے۔ ان کو یہ نہیں پتا کہ ہم جب کسی کیفے، ہوٹل وغیرہ میں اپنی چائے میں ضرورت سے زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں، تو یہ بھی کرپٹ ہونے کی علامت ہے۔ ہم جب بلا ضرورت ٹشو پیپر زیادہ استعمال کریں، تو یہ بھی کرپشن ہے۔ لیکن نہیں، کرپشن تو اُن کے مطابق صرف پیسے چوری کرنے کا نام ہے۔
فیس بک پر آج کل یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ جب کوئی اپنی پسندیدہ پارٹی یا نامزد اُمیدوار کی تصاویر وغیرہ شیئر کرتا ہے تو مخالفین کی طرف سے کمنٹس کے ذریعے ایسے الفاظ سے تبادلہ کیا جاتا ہے کہ الامان الحفیظ۔
اور تو اور، ایک ہی گھر میں دو دو پارٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ باپ ایک پارٹی کے حق میں ہوتا ہے جبکہ بیٹا اُسی پارٹی پر لعنت بھیج کر کسی دوسری پارٹی کے حق میں دلائل دیتا ہے ۔یہی چیز سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
قارئین کرام ،یہ الیکشن صرف چند دنوں کی بات ہے،جو ختم ہوجائے گا۔ لیکن اس میں ہر کسی کے اخلاق، کردار، زبان، بیان اور اعمال کا پتہ چلتا ہے۔ ہمارے ہاں الیکشن کا عمل ہر پانچ سال بعد ہوتا ہے ۔ پانچ سال میں اس ایک موقعہ پر کیوں آپسی دوستیوں اور رشتہ داریوں کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جائے؟ لہٰذا جہاں تک ممکن ہو، ان تمام بری باتوں، برے اقوال اور افعال سے خودد کو حتیٰ الوسع بچانے کی کوشش کریں۔ اللہ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
