مڑ ھغہ شی چی ئے نوم اور نہ نشان وی
تل تر تلہ پہ خہ نوم پائی خاغلی
حسبِ معمول فیس بک صفحہ کھولا، تو بیٹے لیاقت علی خان ’’الدمام‘‘ سے میسج ملا کہ اے این پی سعودی عرب کاصدر محترم گل زمین خان انتقال کر گئے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِناَّ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ کہتے ہوئے مجھ پر سکتہ سا طاری ہوگیا اور گم صم بیٹھ گیا۔ اول تو یقین نہ آیا اور خود سے ہی سوال کرنے لگا کہ گل زمین خان صدر جیسا مضبوط اعصاب کا مالک ہمہ وقت ہشاش بشاش ، چاق و چوبند اور ہنستا مسکراتا انسان بغیر بیماری اور کسی حادثہ کے کیسے مر گیا؟ کافی دیر بعد ہمت سے کام لیتے ہوئے قریبی ساتھیوں ایاز خان یوسف زئی، روستم خان جنرل سیکرٹری اے این پی سعودی عرب انجینئر سلیم خان، عمران خان سرہ مانڑئی اور خان نواب سے رابطہ کرنے پر تصدیق ہوئی کہ واقعی صدر صاحب کی روح پیکر عنصری سے پرواز کر چکی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عقیدہ اور ایمان کو مزید پختگی ملی کہ ’’کل نفس ذایقۃ الموت‘‘ یعنی ہر ایک نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اس دوران میں انجینئر محمد سلیم خان، ایاز خان یوسف زئی اور عمران خان نے بتایاکہ ANP سعودی عرب کے مشران کی طرف سے بار بار تاکید کی جاتی ہے کہ صدر صاحب کی موت کی خبر کو حتی الوسع صیغۂ راز میں رکھا جائے، تاکہ سعودی عرب کے قوانین، لمبے پیپرورک پراسز اور میت کی کلیئرنس ملنے، وطن پہنچانے تک اہل خانہ اور عزیزواقارب اس بڑے سانحے کے صدمے سے دوچار نہ ہوں۔ مَیں نے رسماً ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اپنی تیار کردہ تفصیلی پوسٹ شیئر کرنے سے تو روک دیا، لیکن ذہنی طور پر گل زمین خان جیسی معروف سیاسی و سماجی شخصیت کی موت کو سوشل میڈیا کے یلغار سے بچا کر زیادہ دیر تک صیغۂ راز میں رکھنے پر آمادہ نہیں تھا اور پھر یوں ہی ہوا۔ تھوڑی دیر بعد صدرصاحب کے معتقدین اور سیکڑوں پارٹی کارکنوں نے موصوف کی تصاویر اپنے اپنے پروفائل پر چھڑا کر پوسٹیں شیئر کرکے خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دی۔ امریکہ، انگلینڈ اور عرب امارات سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے کالز کے ذریعے رابطوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔
قارئین کرام! مرنا تو واقعی ہم سب کو ہے، لیکن میرے تجزیے کے مطابق موت کی بھی کئی اقسام ہیں۔ کسی کی موت پر اس کی فیملی یا زیادہ سے زیادہ محلے گاؤں کی حد تک لوگ متاثر ہوتے ہیں، لیکن گل زمین خان کی ناگہانی موت نے سعودی عرب میں مقیم تنظیم اور پختونوں سمیت پورے پختونخوا، عرب امارات، یورپ اور امریکہ میں رہائش پذیر لاکھوں پختونوں کو رُلا کر صفِ ماتم بچھا دیا۔ وہ اس لیے کہ باچاخان کا حقیقی پیروکار ہونے کے ناتے موصوف کی زندگی عملی طور پر خدمتِ انسانیت سے عبارت تھی۔ موصوف کا زمانۂ طالب علمی سے نیپ، این ڈی پی اور موجودہ اے این پی قیادت سے قریبی روابط رہے۔ باچاخان کے فلسفۂ عدم تشدد، ولی خان کے جمہوری واصولی مترقی طرزِ سیاست اور ملی مشر اسفندیار ولی خان کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت صوبائی خود مختاری کے حصول، کالاباغ ڈیم کا قضیہ پُرامن جمہوری جدوجہد سے حل کرنے، صوبے کو آئینی طور پر خیبرپختونخوا نام دینے اور فاٹا کو صوبے میں شامل کرنے والے مؤقف پر ثابت قدم رہنے والے تاریخی کارناموں سے انتہائی متاثر تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد سعودی عرب چلے گئے، تو رزقِ حلال کمانے والی دُشوار ترین زندگی کے باوجود ظہور احمد، فضل غنی، انعام خان، حبیب یونس، ڈاکٹر مزمل شاہ، روستم خان، گوہرخان مردان، انجینئر محمدسلیم، ایازخان یوسف زئی، عمران خان، حیدر گل لالہ، باچاگل، ملک سید زمان، میر امجد خان، پیر سید نادرشاہ، حیات محمد خان، نوید خان، سیماب یوسف زئی اور ادم خان جیسے شعوری نظریاتی ساتھیوں کی ٹیم نے ریاض میں اے این پی کی تنظیم قائم کی جس نے قلیل عرصے میں تناور درخت کی شکل اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب کے دیگر مختلف شہروں میں ذیلی تنظیمیں کھولیں اور یوں پارٹی قائدین ہر ایک جلسے اور تقریب میں سعودی عرب تنظیم کی مثالیں دے کر تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے، حتی کہ عمرے سے واپسی پر مبارکباد کے موقع پر ANP KSA کی تنظیم کے حوالے سے ملی مشر اسفندیار ولی خان نے میرے سوال کے جواب میں بتایا کہ اگر ANP سعودی عرب والی تنظیم اور کارکنوں کا شعوری نظریاتی جذبہ یہاں پیدا ہوا، تو میں نہیں سمجھتا کہ کسی بھی پختون کے گھر پر اے این پی کے علاوہ کسی دوسرے پارٹی کا جھنڈا نظر آئے گا، جب کہ اس تنظیم کی بہترین کارکردگی اور ساتھیوں کی ذہن سازی میں تنظیم کے چند دیگر ساتھیوں سمیت مرحوم گل زمین سید کا بحیثیت صدر بہت بڑا عمل دخل تھا۔ کیوں کہ موصوف کو باچا خان اور ولی خان کی تاریخی جدوجہد پر مکمل عبور حاصل تھا۔ کرشمہ ساز شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پائے کے مقرر، حسنِ اخلاق کا پیکر، بغض و حسد، تنگ نظری اور گالم گلوچ کی سیاست سے کوسوں دور، دلیل اور منطق سے مخالف کے ساتھ بحث کرنے اور سیاست سے بالاتر خدمتِ انسانیت کے قائل انسان تھے۔ ساتھیوں کو ہمیشہ سعودی عرب کے قوانین کا احترام کرنے، حلال روزی کمانے، اپنی بہترین کارکردگی کی بنیاد پر وطن کا نام روشن کرنے اور بچوں کی تعلیم پر توجہ دینے کا درس دیتے تھے۔
میت کے حوالے سے کلیئرنس کے کاغذات ملتے ہی عوامی نیشنل پارٹی سعودی عرب کے نائب صدر محمد انعام خان نے فون پر بتایا کہ’’ابراہیم صاحب! مجھے احساس ہے کہ آپ سمیت ہر باشعور سیاسی کارکن کو صدمہ ہوگا، لیکن گل زمین خان صدر صاحب کی رحلت سے ہم سعودی عرب والے تو سیاسی طور پر یتیم ہوگئے۔‘‘ انعام خان نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب کی سفارتی تاریخ میں شاید یہ پہلا اور حیران کن واقعہ ہوگاکہ کسی غیر ملکی میت کو ہفتوں اور مہینوں کی بجائے ایک ہی دن میں کلیئرنس ملی ہو،لیکن اس میں کسی کا کمال نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور گل زمین مرحوم کی پُرخلوص خدماتِ انسانیت کا نتیجہ تھا کہ مرحوم کی میت کو اگلے روز یعنی 31 اکتوبر کو 5 بجے سے پہلے پہلے باچا خان ایئر پورٹ پہنچا یا گیا،جس کو ریسیوکرنے کے لیے پہلے سے پارٹی کے مشران میاں افتخار حسین، سبز علی خان، حمایت اللہ مایار، ارباب طاہر، حاجی ہدا یت اللہ، خان نواب، وقاراحمد خان اور مابت خان کاکا کی قیادت میں بلوچستان سے آنے والے وفد سمیت پارٹی کے سیکڑوں کارکن موجود تھے۔میت کو باچا خان مرکز پہنچانے اور وہاں پر جنازہ کی ادائیگی کے لیے سبز علی خان، حمایت اللہ مایاراور دیگر ساتھی انتظامات مکمل کر چکے تھے۔
پارٹی رہنما حاجی ہدایت اللہ کی امامت میں نمازجنازہ پڑھنے کے بعد یہ قافلہ مرحوم کے آبائی علاقہ ضلع دیر خال کے لیے روانہ ہوا۔ خان نواب اور سعودی سے میت کے ساتھ آنے والوں ڈاکٹر مذمل شاہ صدر دمام ریجن ملک سید زمان سے مسلسل رابطہ میں رہا۔ ضلعی صدر حسین شاہ نے بتا یا کہ غمزدہ خاندان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے نمازِ جنازہ کا وقت بدھ 31 اکتوبر 11 بجے سے تبدیل کر کے نمازِ ظہر کے بعد دو بجے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ بلوچستان سمیت دیگر دوردراز علاقوں سے آنے والے لوگ باآسانی نمازِ جنازہ میں شریک ہوسکیں۔ ہم لوگ بھی کافی تعداد میں صبح سویرے کی بجائے آٹھ بجے تحصیل کبل سے روانہ ہوئے۔ پونے بارہ بجے پہنچ کر معلوم ہوا کہ بلوچستان سے مابت خان کاکا وفد سمیت پشاور، مردان، سوات، شانگلہ، اپر دیر، باجوڑ، بٹگرام الغرض ملک بھر کے مختلف علاقوں سے کثیر تعداد میں لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ ضلع اپر دیر، لویر دیر کے صدور راجہ امیر زمان، حسین شاہ، ملک محمود زیب اور واصل خان سمیت پارٹی کارکنوں نے سرخ و سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ مہمانوں کو ریسیو کرنے اور دریا ئے پنجکوڑ کے کنارے وسیع و عریض جناز گاہ کے انتظامات کو عملی شکل دینے میں مصروف تھے۔ نمازِ ظہر کے بعد مرحوم کی وصیت کے مطابق صدرصاحب اپنی تقریروں کو اکثر ان شعروں پر سمیٹ لیتے کہ
کہ پہ ژوندن باندی پورہ نہ شوہ ارمان دے زما
د انقلاب جھنڈہ زما پہ جنازہ اوتڑئی
مرحوم کے غیور خاندان اور ضلع دیر اے این پی کے غیور ساتھیوں نے گل زمین خان صدر صاحب (مرحوم) کی یہ خواہش اور ارمان بھی پورا کرکے دکھایا کہ مرحوم کے جنازے پر سرخ چادر اور پرچم بھی بندھا لہرا رہا تھا۔ چوں کہ ملی مشر اسفند یار ولی خان کسی بیرونی ملک کے دورے پر تھے، اس لیے نمازِجنازہ کے بعد مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے موقعہ مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے مشر اسفندیار ولی خان کی جانب سے ایمل ولی خان، ایوب خان اشاڑی، ایم پی اے فیصل زیب، نثارخان، ہدایت اللہ، حسین شاہ یوسف زئی اور راجہ امیر زمان سمیت مرحوم گل زمین خان کی قبر پر پھول چھڑا کر مرحوم کی مغفرت، غمزدہ خاندان اور پارٹی کارکنوں کے لیے صبرِجمیل کی دُعا مانگی۔
یہ تمام مناظر دیکھ کر میں نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے گل زمین خان صاحب کو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد اور خدمت انسانیت کے عوض ضرور بخشا ہوگا اور یہ بھی احساس ہوا کہ لمبے عرصے تک مرحوم کی کمی ضرور محسوس ہوگی۔ صدرصاحب نے جس انداز اور خلوص کے ساتھ سعودی عرب میں تنظیم کے ساتھیوں کی باچاخان بابا کے فلسفۂ عدم تشدد اور ولی خان بابا کے سیاسی افکار کی روشنی میں شعوری و نظریاتی ذہن سازی کی ہے، یہی ساتھی گل زمین خان مرحوم و مغفور کے لگائے ہوئے سیاسی پودے کو تروتازہ رکھنے کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، تعزیتی ریفرنسوں اور تقاریب میں مرحوم کی کاوشوں اور خدمات کو یاد رکھیں گے۔
مرحوم کے لیے دُعائے مغفرت، غمزدہ خاندان، پارٹی قیادت اور کارکنوں کے لیے دُعائے صبر و استقامت مانگتے ہوئے جاتے جاتے اپنی تحریر کو اس شعر پر ختم کرنا چاہوں گا کہ
ملگری تہ مڑ مہ وائی د لاری یو مشال شو
پہ ہر پل بہ دا شمع بلہ وڑو وڑاندی بہ زو
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
