روح الامین نایابکالم

یوٹرن یا موقع پرستی

آج کل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان کے بیان کا بہت چرچا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ جب عمران خان کے یوٹرن بہت زیادہ ہوگئے اور ہر روزکے حساب سے پارٹی کے نظریاتی اور بنیادی مؤقف سے انحراف کیا جانے لگا، تو سبکی اور شرم سے بچنے کے لیے یہ سوچاجانے لگا کہ کیوں نہ اس گناہ کو جائز اور حلال کیا جائے! چناں چہ وزیراعظم کی طرف سے یہ بیان آیا کہ ’’جو لیڈر یوٹرن نہ لے، وہ لیڈر ہی نہیں ہوتا، بلکہ بے وقوف ہوتا ہے۔ اگرنپولین اور ہٹلر یوٹرن لے لیتے، تووہ نقصان نہ اُٹھاتے۔‘‘
اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے اگر نپولین اور ہٹلر یوٹرن لے لیتے، تو آج اُن دونوں کو کوئی یاد نہ کرتا اور نہ عمران خان خود ہی اُن کی مثال دیتے۔ دنیائے تاریخ میں وہ اس لیے زندہ ہیں اور اپنا مقام اس لیے بنایا ہے کہ انہوں نے ’’یوٹرن‘‘ نہ لیا اور اپنی بات اور مؤقف پر ڈٹے رہے۔
کیا عمران خان پیغمبرِ اسلامؐسے لے کر طارق بن زیاد اور سلطان ٹیپو تک اُن سیکڑوں، ہزاروں مجاہدوں، غازیوں، بہادروں اور ہیروز کی تاریخ بدلنا چاہتے ہیں، اُن سب کو کچھ اور نام دینا چاہتے ہیں جنہوں نے اپنے سر تو کٹوائے، لیکن جھکے نہیں؟ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی جدوجہد اور اپنے لہو سے تاریخ کے صفحات رنگین کیے لیکن یوٹرن نہیں لیا۔
مجھے نہیں معلوم کہ وزیراعظم نے ایسا بیان کیوں دیا؟ وہ خود بے شک بے شمار یوٹرن لیتے رہیں، لیکن اسے قانونی اور انصاف کا تقاضا قرار نہ دیا کریں۔ خدا کے لیے وہ دوسروں کو مختلف قابلِ اعتراضات القابات سے بھی نہ نوازیں۔ یہ بہت نازک معاملات ہیں۔ یہ ایسے اصطلاحات ہیں جن کی تشریح اور توضیح اپنی خواہش اورمرضی سے نہیں ہوسکتی۔
یوٹرن کے جو معنی اور مطلب عمران خان عوام کو سمجھانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ’’یوٹرن‘‘ نہیں، بلکہ صرف ’’ٹرن‘‘ ہے، یعنی اپنی منزل یا مقصد تک پہنچنے کے لیے تھوڑا سا راستہ بدلنا، یا دیر اور یا حالات کے مطابق جلدی فیصلہ کرنا۔ اگر آپ کراچی جانا چاہتے ہیں اور موٹر وے بند ہے، تو جنرل روڈ سے جائیں یا ٹرین سے، لیکن ’یوٹرن‘ کامطلب بالکل مڑنا اور واپس پشاور جانا ہے۔
آپ نے نظریاتی پارٹی بنانے کا وعدہ کیا، ’’سیٹس کو‘‘ مٹانے کا نعرہ لگایا۔ دوسری پارٹیوں سے پرانے ’’جھوٹوں‘‘ اور ’’کرپٹ‘‘ لوگوں کو نہ لینے کا بار بار تکرار کیا۔ آپ نے باہر سے امدادلینے کو شرم کا باعث کہا اور اس کے بجائے خودکشی کو ترجیح دی۔ آپ نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی، اسے جھوٹوں کی ٹولی کہا اور پارلیمنٹ میں جانے والوں کو لعنتی کہا۔ آپ نے چار مہینے کے دھرنے میں حکومت توکیا ریاست کو کمزور کیا۔ ٹیکس دینے، بجلی بِل داخل کرنے، باہر سے بنکوں پر پیسہ بھیجنے سے انکارکیا اور عوام کو بھی منع کیا۔ لیکن۔۔۔!
آپ نے پارٹی میں بنیادی اور نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کیا۔ سوات مینگورہ کے بنیادی رکن محمد رحمان ماما کو بالکل بھول گئے، جنہوں نے پارٹی کا جھنڈا تخلیق کیا اور جنہوں نے مالی و جانی قربانی دے کر پارٹی کو حیاتِ جاوِداں بخشا، جن کو آپ نے پورے پاکستان کا ماما قراردیا تھا۔ آج وہ گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ اپنے موجودہ عمل اور سیاست سے ’’سیٹس کو‘‘ مضبوط کر رہے ہیں۔ دوسری پارٹیوں سے چن چن کر اعلیٰ طبقے کے لوگ لے رہے ہیں۔ دوسری پارٹیوں کے جھوٹوں، کرپٹ اور دغابازوں کو تحریک انصاف کی لانڈری میں دھوکر ’’صاف‘‘ کر رہے ہیں اور پارٹی میں اعلیٰ عہدوں پر لگارہے ہیں۔ باہر سے امداد کو شرم کا باعث قرار دینے کے بجائے فخر اور خوشی کا باعث گردان کر قوم کو سعودی امداد کی خوشخبری ٹیلی وِژن پر دی۔ آپ نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے اور غیر حاضر رہنے کے باوجود آپ اور آپ کے ممبران نے اُسی ’’لعنتی‘‘ پارلیمنٹ سے پوری تنخواہیں وصول کیں اور مراعات بھی لیں۔ اُن تنخواہوں پر قوم کا حق ہے، آپ سب نے قومی خزانے کا پیسہ لوٹا ہے۔ آپ نے چار مہینے کے دھرنے میں ریاست کا اربوں ڈالر نقصان کیا ہے۔ سرکاری املاک کو تباہ و برباد کیا ہے اور اُن سب ناجائز حرکات کوجائز اور اپنا جمہوری حق جانا ہے، لیکن اب آپ کے دورِ حکومت میں تین دن کا دھرنا آپ لوگوں سے برداشت نہ ہوا۔ انہیں باغی قرار دیا۔ ریاست کا دشمن کہا۔ نیز سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ کون سچا ہے اور کون جھوٹا، کون غلط ہے اور کون صحیح،کیا کوئی معیار آپ نے چھوڑا ہے؟ آخر کس معیار اور کسوٹی کو بنیاد بنا کر آپ ایک کو صحیح جانتے ہیں اور دوسرے کو غلط؟
عمران خان صاحب، جو آپ کہہ رہے ہیں اور جو کچھ کر رہے ہیں، یہ تو ’’یوٹرن‘‘ کی بدترین شکل ہے۔ ایک دور اندیش لیڈر قلابازیاں نہیں کھاتا۔ بار بار مؤقف بدلنا اور ’’یوٹرن‘‘ لینا ایک ہوشیار اور سنجیدہ لیڈر شپ کی نشانی نہیں۔ یہ تو ناسمجھی کی انتہا ہے۔ دور اندیش، سمجھ دار اور سنجیدہ لیڈروہ ہوتا ہے جو کم بولے، اورجب بولے تو اُس پر ڈٹ کر رہے، ورنہ جس ’’یوٹرن‘‘ کو صحیح اور قابل عمل سمجھا جا رہا ہے، دوسرے الفاظ میں وہ موقع پرستی ہے، کہ جہاں اپنے غرض اور مفاد کا موقع دیکھا، وہاں فوراً سجدہ ریز ہوگئے۔
عمران خان کے موجودہ بیان سے تو عجیب صورت حال پیدا ہوگئی ہے، یعنی وزیراعظم کا کوئی بیان، مؤقف، وعدہ اور قول قابلِ اعتبار نہیں رہا، اُسے کسی بھی بیان یا مؤقف پر پکڑا نہیں جاسکتا، یعنی وہ اپنے پچھلے قول و مؤقف سے کسی وقت بھی انکار کرسکتے ہیں، اور ’’یوٹرن‘‘ کو جائز قرار دینے سے آپ اُسے پکڑ سکتے ہیں نہ موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں