’’یہ لوگ جہاں بھی ہوں گے ذلت و خواری سے دوچار ہوں گے۔ بجز اس کے کہ یہ خدا اور لوگوں کے پناہ میں آجائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی ہے۔ ‘‘
عزیزانِ من! سورۂ آلِ عمران میں یہ وہ فرمانِ خداوندی ہے جس میں بنی اسرائیل دنیا کی امامت سے ہمیشہ کے لیے معزول کر دیے گئے اور پروردگارِ عالم کی بارگاہ میں ملعون و مغضوب اور ذلت و رسوائی کے امیدوار قرار دیے گئے، ورنہ یہ وہ قوم تھی جس کو خدا نے اپنے لیے چنا تھا۔ جیسا کہ فرمایا ’’ان اللہ اصطفی آدم ونوحا وال ابراہیم وال عمران علی العالمین‘‘ (ترجمہ): اللہ نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو اہلِ عالم کی راہنمائی کے لیے منتخب فرمایا اور جن کو برتری کا سند ’’وانی فضلتکم علی العالمین‘‘ کے الفاظ میں دیا گیا تھا۔ بنی اسرائیل سیدنا یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کے لوگوں کے لیے توحید کے داعی اور ان کے شہر یروشلم کو توحید کا مرکز قرار دیا تھا۔ مشرق سے لیکر مغربی تک کی مخلوقات کو ان کا تابع کیا گیا تھا۔ طالوت، داؤد اور سلیمان جیسے بادشاہ ان کے تخت کے تاجدار تھے ۔ آصف بن برخیا جیسے صاحبِ علم ان کے وزیر تھے۔ جنات ان کی آرمی اور پرندے ان کی انٹیلی جنس فورس تھے۔ ناشتہ سے لے کر رات کے کھانے تک آسمانی رزق (من و سلویٰ) سے ان کا دسترخوان سجا رہتا تھا۔ جب دھوپ میں چلتے، تو بادل ان پر سایہ کرکے ساتھ چلتے تھے اور جب منزل دور ہوتی، تو گھوڑے یا اونٹ پر نہیں بلکہ ہوا کے دوش پر سوار ہو کر یہ قوم سفر کرتی تھی۔ ان کی عمارتیں بلند و بالا پہاڑوں کی مانند ہوتی تھیں اور ان کی گزر گاہیں ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ تھیں۔ سونا چاندی اور لعل و جواہر سے ان کی گلیاں اور در و دیوار مزین تھے ۔ سب سے بڑھ کر خدا کی وحی اور انبیا علیہم السلام کا سلسلہ ان میں ہر وقت جاری رہتا تھا، لیکن ان کی مسلسل کفرانِ نعمت کے سبب ان کو امامت کی بجائے لعنت کا مستحق قرار دیا گیا۔ تاقیامت خدا کے غضب میں گرفتار ہوئے۔ اب ان کے لیے خدا نے دو قوانین مقرر کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ قوم مستقل مصیبتوں اور تکلیفوں میں مبتلا رہے گی۔ البتہ درمیان میں امن و خوشحالی کے ایسے وقفے آتے رہیں گے، جب ان کو پروردگار براہِ راست یا کسی دوسری قوم کے ذریعے سے امن اور خوشحالی دے گا۔ دوسرا قانون، جسے سورۂ بنی اسرائیل میں کچھ اس طرح سے بیان کیا ہے کہ ’’جب بھی اس قوم کی بھلائیاں ان کی برائیوں سے زیادہ ہوں گی، تو پروردگار ان پر رحم فرمائے گا اور جب ان کے ہاں برائیاں غالب ہوں گی، تو آخرت کے ساتھ انہیں دنیا میں بھی عذاب ہوگا۔‘‘
عزیزانِ من! بنی اسرائیل یعنی یہودی کم و بیش 2800 سال سے ذلیل و خوار اور جلا وطن رہے ہیں۔ جب پہلی بار انہوں نے شہرِ مقدس یروشلم میں فساد برپا کیا اور سلطنت کے دو ٹکڑے کیے، تو خدا نے ان پر ایسی ضرب لگائی کہ ان کے بارہ قبیلوں میں سے دس گم گشتہ قبائل کی داستان کو آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا۔ پھر اس کے بعد بابلیوں کے ہاتھوں ان پر قیامت برپا کی گئی، ہیکل سلیمانی تک کی حرمت پامال کی گئی اور نام و نشاں مٹا دیا گیا۔ کبھی رومیوں کے ہاتھوں انہیں غلام بنایا گیا، تو کبھی مسلمانوں کے ہاتھوں سرزمینِ حجاز سے نکالا گیا۔ زمانۂ قریب کے عظیم ظالم ’’ایڈولف ہٹلر‘‘ نے تو 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کر کے ان کی نسل کشی کی، جسے دنیا ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ بالآخر مئی 1948ء کو برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے مملکتِ اسرائیل کا اعلان کیا گیا جس کی حدود متعین کرنے کی جنگ آج تک جاری ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود آج بھی یہودیوں کو دنیا پر اتھارٹی حاصل ہے۔ جس کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ یورپ اور امریکہ پر یہودیوں کو کتنا اختیار حاصل ہے؟ ’’راک فیلر‘‘ امریکہ کا امیر ترین خاندان ہے جو اصلاً یہودی ہے۔ یہ خاندان انتہائی پُراسرار طریقے سے اور پردے کے پیچھے رہ کر سیاسی، اقتصادی، عسکری، فلاحی اور مذہبی دنیا کی چولیں ہلا رہا ہے۔ یہ تجارت، بینکاری، ثقافتی تعلیم، صحت اور سائنسی تحقیق جیسے کاموں کی آڑ میں یہودی منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا، نیو ورلڈ آرڈر کو دنیا میں نافذ کرنا اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے راستے دنیا کی دولت کو اپنے قبضے میں کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خاندان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے مالکوں میں سے ہے۔ اقوامِ متحدہ ان کے گھر میں بنائی گئی ہے۔ امریکہ اور ساری دنیا کو کنٹرول کرنے والی ’’کاؤنسل آف فارن ریلیشنز‘‘ (سی ایف آر) کے یہ بانی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت اور خلائی تحقیقی ادارے ناسا میں ’’راک فیلر‘‘ خاندان انتہائی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو بھی انہوں نے بنوایا تھا۔ دنیا کی بڑی اسلحہ ساز فیکٹری کا مالک راک فیلر ہے۔ جنگِ عظیم اول و دوم میں اتحادیوں کو تیل اور اسلحہ اسی خاندان کی کمپنیوں نے فراہم کیا۔ ویتنام کی جنگ میں امریکہ کو لڑوانے والا یہی خاندان تھا۔ افغانستان پر امریکی حملہ اور قبضہ ان تمام آپریشن کی نگرانی اسی خاندان کا ایک بائیس سالہ نوجوان کر رہا تھا۔ روس کے اندر کمیونسٹ انقلاب کے لیے رقم فراہم کرنے والا شخص ڈیوڈ راک فیلر تھا۔ اور تو اور ماڈرن دنیا کی پسند و ناپسند، رہن سہن، کھانا پینا الغرض مکمل طرزِ زندگی کیسی ہوگی؟ اس کا فیصلہ بھی اس خاندان کی لڑکیاں کرتی ہیں۔ جی ہاں،ہالی ووڈ کو چلانے والی اسی خاندان کی لڑکیاں ہیں۔ اگر کوئی بھی امریکی صدر ان کے لکھے ہوئے ڈرامے میں ان کی ہدایات کے مطابق اداکاری نہیں کرتا، تو اس کا انجام سابق امریکی صدر ابراہام لنکن اور جان ایف کینیڈی کے قتل کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔ اس خاندان کے بارے میں تفصیل آپ’’فرڈیننڈ لنڈبرگ‘‘ کی کتاب ’’دی راک فیلرسنڈرم‘‘ میں پڑھ سکتے ہیں۔ دوسرا یہودی خاندان ’’روتھشیلڈ‘‘ ہے، جنہوں نے یورپ اور آسٹریلیا کو اپنے قبضے میں کیا ہوا ہے۔ 1980ء میں انہوں نے دنیا بھر کی قومی اداروں کی نجکاری کے لیے حکومتوں پر زور دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے برطانیہ جیسے ملکوں کی بڑی بڑی کمپنیوں کو خرید لیا۔ 1995ء میں سابق اٹامک انرجی سائنس دان ڈاکٹر ’’کٹی لٹل‘‘ نے دعویٰ کیا کہ روتھشیلڈ دنیا کی 80 فیصد یورینیم کی سپلائی پر قابض ہے، جس کی وجہ سے نیوکلیئر توانائی پر انکی اجارہ داری قائم ہے۔
قارئین، زیادہ تفصیل ہم یہاں ذکر نہیں کرسکتے۔ محقق حضرات اگر چاہیں تو ’’اینڈ ڈیری‘‘ کی کتاب (دی ہسٹری آف دی ہاؤس آف روتھشیلڈ) پڑھ سکتے ہیں۔ عزیزانِ من یہ تو بڑے مگرمچھ ہیں۔ ان کے چھوٹوں کے کارنامے بھی غور طلب ہیں۔ ’’اینٹل‘‘ ان کا ایک برانڈ ہے جس کا پروسیسر دنیا کی 80 فیصد کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس میں استعمال ہوتا ہے۔ الیکٹرانکس کی دنیا میں یہودی اینٹل، آئی بی ایم، ایچ پی، موٹورولا، سیمنز، ڈیل، مائیکروسافٹ ایکس پی، پلپس اورمشہورزمانہ ایپل کے آئی فونز وغیرہ کے خالق ومالک ہیں۔ میڈیا میں ڈزنی، دی اکانومسٹ، واشنگٹن پوسٹ، ایم ٹی وی اورسی این این وغیرہ اور مختلف برانڈز میں دی گیپ، نائک، ٹیمبرلینڈ، کیٹرپیلر، کوکا کولا، نیسلے، کیٹ کٹ، سنکیسٹ، میکڈونلڈز، کے ایف سی، شیل، پروکٹراینڈگیمبل اور لیور برادرز وغیرہ جیسے ہزاروں برانڈز یہودیوں کی ملکیت ہیں۔
اگر مملکتِ اسرائیل کی بات کی جائے جسے پاکستان کے بعد بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کے پاس دنیا کی سب سے بڑی تکنیکی ماہرین کی ٹیم موجود ہے۔ اسرائیل ٹیکنیکل مین پاور کے لحاظ سے دنیا کا نمبرون ملک ہے۔ اس وقت تقریباً 78 سائنسی تحقیقاتی ادارے کام کر رہے ہیں جن میں 13 ادارے صرف دفاع کے لیے مخصوص ہیں۔ اسرائیل کی خواندگی کی شرح 99 فیصد ہے۔ دنیا کی100 اہم یونیورسٹیوں میں سے 6 اسرائیل کی ہیں۔ اسرائیل سائنسی ترقی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا ملک ہے اور دنیا کی 64 ٹاپ کلاس ایجادات اسرائیل کی ملکیت ہیں۔
عزیزانِ من! اس کے برخلاف دنیا میں 57 اسلامی ممالک اور 150 کروڑ مسلمان آبادی ہے، لیکن کسی اسلامی ملک میں کوئی قابلِ ذکر سائنسی تحقیقاتی ادارہ موجود نہیں جو بین الاقوامی سطح پر اپنا پہچان رکھتا ہو۔ آج تو ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ مغل حکمران نے ساری دولت تاج محل بنانے پر خرچ کی تھی جس وقت یورپ میں یونیورسٹیاں بن رہی تھیں، لیکن آج ان ننگے پیر، ننگے تن صحرا نشیں چرواہوں سے کوئی یہ نہیں پوچھ سکتا کہ خدا نے تمہیں جو تیل کے ذخائر دیے ہیں وہ کیا ان بلند و بالا عمارتوں کو کھڑا کرنے کے لیے دی ہیں؟ عمارتیں تو مغل بھی بناتے تھے جن کو آج اہلِ عقل برا بھلا کہتے ہیں۔ آج یہ مٹی بھر یہودی پوری دنیا کی سیاسی اور معاشی طاقت ہیں جن کی اپنی زمین تک بنجر تھی اور مسلمان جن کے پاس بہترین زمین،تیل کے ذخائر،جنگلات و معدنیات کی کثرت الغرض ہر چیز ہے لیکن پھر بھی سائنس اور علم و فن کی ترقی میں موجودہ دنیا میں ان کی کوئی کنٹری بیوشن نہیں۔ مطلب جو قوم علمی ترقی اور اخلاقی لحاظ سے جتنا اونچی ہوگی، دنیا کا اقتدار ان ہی کے پاس ہوگا۔
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
