ایڈووکیٹ نصیراللہ خانکالم

تھوڑا سا تذکرہ شعور کا بھی ہونا چاہیے

میرا قوی خیال ہے کہ درحقیقت ’’شعور‘‘ جاگتے ہوئے کسی واقعے، حالات کے منفی اور مثبت اثرات کو دیکھنے اور سمجھنے، خیالات اور تعلقات کو سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی دماغی اِستعداد بذریعہ حواس کو کہتے ہیں۔ جب کہ یہ مذکورہ واقعات و حالات شعور کے راستے لاشعور میں جگہ پاتے ہیں۔ سائنس دانوں نے شعور کی جگہ کو ماتھا اور لاشعور کو کھوپڑی کا پچھلا حصہ بتایا ہے۔ بالفاظِ دیگر صرف سمجھنا اور دیکھنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ منفی اور مثبت حالات کا ادراک کرتے ہوئے اس پر حرکت میں آنا یا کسی کو لانا شعور کا مقصد ہوتا ہے۔
منفی اور مثبت ہر عمل لاشعور میں محفوظ ہوتا جاتا ہے اور کسی وقت اس کا مظاہرہ خودکار طور پر ہوتا ہے۔ شعور اور علم سیکھنے کا عمل وہ ہوتا ہے جب تجربہ کی بنیاد پر رویوں کی ٹریننگ اور پڑھنے کی مشق کے ذریعے شعور میں تبدیلی لائی جاتی ہے۔ مطالعہ بھی اس میں کردار ادا کرتا ہے۔ سیکھنا، پڑھنا اور سننا زندگی کی طرح ایک جاری طویل عمل ہے۔ ’’سیکھنا‘‘ ایک عمل سے دوسرے کی جانب سفر ہے۔ شخصیت کی متوازن ترقی میں سیکھنے سے مدد ملتی ہے۔ تدریسی عمل کے حصول سے سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ یاد رہے کہ سیکھنا لازمی طور پر بہتری ہے۔ کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے کے عمل میں سیکھنے کا عمل دخل اعلیٰ طریقۂ کار کا حامل ہوتا ہے۔ مسئلہ کو سیکھنے سمجھنے کے لیے سنجیدہ صلاحیتوں کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے سوچ، استدلال، مشاہدہ، تخیل، غور وفکر وغیرہ۔ علم و شعور، معاشرتی مسائل اور لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی مشکلات پر قابو پانے کے لیے بہت مفید ہے۔ شعور، لاشعور میں کیسے تبدیل ہوتا ہے؟ شعور درحقیت کسی چیز کا احساسِ علم ہوتا ہے، جو بالحواس جسم اور دماغ میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس منتقلی کے عمل کو ذہن کسی خیال کو شعور کی سطح سے لاشعور میں منتقل کرتارہتا ہے۔
آپ نے سنا ہوگا کہ فلاں میں کوئی شعور نہیں، فلاں بندہ ’’ڈَل مائنڈڈ‘‘ ہے۔ سرے سے کوئی سوچ نہیں رکھتا۔ ذہن سے کا م نہیں لیتا۔ یہ ضروری نہیں کہ جب کوئی ایسا فرد مذکورہ خصلتوں کا مالک ہوتا ہے، تو لازمی طور پر اس میں شعور کی کمی ہے بلکہ ایسے حالات سے اس کا واسطہ ہوتا ہے، جس میں اس فرد کا احساس نہ تو داخلی انفرادی مسائل کی طرف ہوتا ہے اور نہ ہی وہ معاشرتی مسائل کا ادراک رکھتا ہے۔ ایسے افراد کی ٹریننگ بذریعۂ کتاب، فلم، ٹی وی، مکالمہ وغیرہ کرائی جاسکتی ہے۔ انسان کی شخصیت اور رویہ آگاہی کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ شعور دراصل ایک نفسیاتی رجحان ہے، جتنا ایک فرد آگاہ ہوگا، اتنا اس کو کسی بھی حالات میں فیصلہ کرنے کی آسانی ہوگی۔ کسی بھی شخص کی آگاہی کا فریضہ بذاتِ خود ایک مشکل امر ہوتا ہے۔ اس میں فرد کی اپنی داخلی کوشش اور خارجی عنصر کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ میں مانتا ہوں کہ تعلیم حاصل کرنا شعور کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ البتہ اس مضمون میں یہ بات غیر اہم ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کی بہ نسبت غیر تعلیم یافتہ افراد معاشرے میں کم کرپشن کے ذمہ دارہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ غریب اور کم تعلیم یافتہ افراد دوسرے کے دکھ درد میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ خیال اور فکر کے مابین فرق کیا ہوتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ خیال وہی ہوتا ہے جب انسان کسی چیز کا سطحی طور پر تصور کرے اور فکر وہ ہے کہ وہی فرد اسی خیال کو مختلف زاویوں سے پرکھنا سیکھ سکے ا ور اس خیال کو گہرائی میں جاکر دیکھ سکنے کے قابل ہو جائے۔ میرا خیال ہے کہ معاشرے میں جتنا پسماندہ طریقۂ علم و عمل ہوگا، تو اتنا شعور کا معیار پست ہوگا۔
کوئی بھی شخص جب شعور کی سطح پرمعاشرہ اور اپنی شخصیت کو دیکھنے لگتا ہے، تو سوچ کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ ایک ذی شعور شخص جب معاشرے کو دیکھتا ہے، تو کچھ اس طرح کے احساسات کا آنا لازمی ہوتا ہے۔ امن، بقا اور انسانیت کا فلسفہ تاریک دور سے نکل کر روشنی کی طرف گامزن ہے۔ کچھ ایسے انسان دوست لوگ بھی موجود ہیں جو ترقی اور انسانیت کا رونا رو رہے ہیں۔ غور و فکر کرتے ہوئے اس دنیا کو جنت بنانا چاہتے ہیں۔ دنیا کو جنگوں کی بھٹی میں جھونکنے والوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ غریب اور بے بس انسانوں اور اقوام کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ وسائل پر اختیار چند لوگوں کا حق نہیں سوچتے، بلکہ اس کی بجائے فرضی طور پر کھینچی گئی لکیروں کو انسانیت کی توہین سمجھتے ہیں۔ امن اور فراخی کو اپنا نصب العین مانتے ہوئے اس کو عملی طور پر لاگو کرنے کی تدابیر کرتے ہیں۔ دنیا کو کلاس سسٹم سے چھٹکارا دلانا چاہتے ہیں۔ جھوٹے تعصبات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ غلامی کو انسانیت کاطوق سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ صحت، تعلیم، چھت اورروزگار کو بنیادی انسانی مسائل مانتے ہیں۔ ترقی پسند لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت کرنا صرف اشرافیہ کا حق نہیں مانتے، بلکہ مزدور اور کسانوں کی نمائندگی ضروری خیال کرتے ہیں۔ موروثی لیڈر شپ سے چھٹکارا پانا چاہیے۔ اداروں کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنا چاہیے۔ مساوات اور برابری ہونی چاہیے۔ علم کی قدر دانی ہونی چاہیے۔ کامیاب لوگوں کی ستائش ہونی چاہیے۔ عدل و انصاف سب لوگوں کا حق ہے۔ بغیر امتیازات انصاف کی فراہمی ہونی چاہیے۔ کرپشن کے ہر صنف کو برا سمجھا جانا چاہیے۔ ذات برادری پر یقین نہیں رکھنا چاہیے۔ پرہیزگاری کو اپنا شیوہ اور کریڈٹ گرداننا چاہیے۔
دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ اخلاقی نظام پست ہوچکا ہے۔ شرفِ انسانیت اور انسانی وقار ناپید ہے۔ فکری اور نظریاتی الجھاؤ نے رہی سہی کسرپوری کر رکھی ہے۔ مادہ پرستی اور مادہ پسندی نے انسانیت کا مقام نیچے گرا دیا ہے۔ انسانیت کی جگہ حیوانی مفاد پرستی نے لے لیا ہے۔ مقصد ان باتوں کا یہ ہے کہ چہار سو شیطا نیت کا راج ہے۔ اس حال میں پوری دنیا (بشمول پاکستان) بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ دنیا میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں۔ باالفاظ دیگر گمراہ لوگ زیادہ ہیں۔ ایک طرح سے دنیا میں نیکی اور بدی کی جنگ برپا ہے ۔ منافقت، چاپلوسی، مکر و فریب، دھوکے بازی، فراڈ، سازش اور شیطانی ذہنیت نے دنیا کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ برے لوگ چہار سو پھیلے ہوئے ہیں۔ عقل و فکر اوربصیرت کا فقدان ہے۔ غور و فکر کی جگہ ذاتی منفعت، جمود اور انا نے لے لی ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں باعمل اور باکردار افراد کی زندگی جہنم بنا دی گئی ہے۔ چور، ڈکیت اور راہزنوں کا راج ہے۔ کرپشن نے سارا سسٹم بلاک کردیا ہے۔ شخصیات کو پوجا جاتا ہے۔ ادارے اپنا کام دایرۂ اختیار سے ہٹ کر کرتے ہیں۔ مذکورہ اشخاص اگرچہ وقتی طور پر کامیاب ہیں، لیکن ابدی ناکامی ان لوگوں کا مقدر ہے۔

تبصرہ کریں