ابراہیم دیولئیکالم

بابائے قوم کا پاکستان اور یونانی آرٹسٹ کا مجسمہ

کاش! ملک آزاد ہوتے ہی بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھی کوئی نہ کوئی نظام عنایت فرما دیتے، تو آج مملکتِ خدا داد پاکستان باالفاظ دیگر ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا یونانی آرٹسٹ کے مجسمے والا حشر نشر نہ ہوتا۔
مشہور واقعہ ہے کہ یونانی آرٹسٹ جب بھی کوئی مجسمہ بنا کر نمائش کے ل لیے رکھ دیتا، تو ہزاروں یونانی مجسمہ دیکھ کر تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے، لوگوں کی دلچسپی کا امتحان لینے کے لیے ایک دفعہ موصوف نے ہر زاویہ سے بے انتہا متوازن، خوبصورت، مضبوط قد کاٹھ کے ایک جوان شخص کا دلکش دھڑ بنا دیا۔ مجسمہ گردن تک مکمل انسان تھا، لیکن گردن کے اوپر ایک سپاٹ پتھر جس پر کوئی خد تھا نہ ہی خال۔ آرٹسٹ نے چوک میں مجسمہ کے قریب نرم مٹی کا ڈھیر لگا کر اعلان کر دیا: ’’لوگو! گردن کے اوپر تمہیں جیسے خدوخال پسند ہیں، بنا دو۔ اچھے اعضا بنا نے والوں کو انعام دیا جائے گا۔‘‘ ہزاروں لوگ شہر کی طرف دوڑے مجسمے کے قریب پہنچ کر چہرہ سازی شروع کی۔ کسی نے کہا اس خوبصورت دھڑ کے ساتھ ستواں ناک اچھی لگے گی۔ کسی نے کہا، نہیں اتنے متوازن بدن پر ستواں ناک بری لگے گی۔ ایک چلایا، ناک پتلی ہونی چاہیے۔ دوسرا چلایا، ناں بابا ناں، آنکھیں تیکھی ہونی چاہئیں۔ اگلے نے اور آوازدی، گول آنکھیں۔ ایک نے آواز دی،لمبے بادام جیسے۔ پیچھے سے کچھ لوگوں نے لمبے بال، گھنگھریالے بال اور کیڈٹ کٹ کی آواز لگائی۔کسی کا بڑے ہونٹوں پر اختلاف تھا۔ اس بحث مباحثے اور تکرار پر کسی نے آگے بڑھ کر ناک بنا دی، تو کسی نے توڑ دی، ایک نے آنکھ بنالی، تو دوسرے نے مسترد کر کے توڑ ڈالی۔ یوں بنانے اور توڑنے کے عمل کے دوران میں لڑائی شروع ہوگئی۔ لوگ لہولہان ہوگئے۔ حکومتی اہلکاروں نے آکر بڑی مشکل سے اس ہجوم پر قابو پالیا۔ مجسمہ ساز لڑائی جھگڑے کا سن کر خود بھی پہنچ گئے، جب میدان صاف ہوا اور مجسمہ ساز نے اپنے مجسمہ کی حالتِ زار دیکھی تو اس کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا۔ انتہائی خوبصورت دھڑ پر انتہائی بد شکل، مضحکہ خیز چہرہ، ایک کی بجائے دو ناک، دو کی بجائے چار آنکھیں اور ایک کان چھوٹا دوسرا بڑا دیکھ کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ حیران پریشان کھڑا مجسمہ کو دیکھنے لگا،مگر تھوڑی دیر بعد دل کو خود ہی بہلانے کے لیے اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے مجسمہ اُٹھا کر ہجوم سے مخاطب ہوا: ’’قصور آپ کا نہیں بلکہ میرا ہے۔ کیوں کہ چہرہ بھی اس کو بنانا چاہیے تھا جس نے دھڑ بنایا تھا۔‘‘
قارئینِ کرام! ہماری یہ مملکتِ خداداد بھی بدقسمتی سے یونانی مجسمہ ساز کا وہی مجسمہ ہے جس کو بنانے والوں نے ’’پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ اللہ‘‘ کا نعرہ دے کر صرف دھڑ تو بنا دیا تھا، لیکن چہرہ اور خد و خال بنانے کا کام آنے والوں پر چھوڑ دیا تھا، جو 71 سال گزر جانے کے باوجود اس ملک کو کوئی نظام نہ دے سکے اور ملک لمبے عرصے تک سرزمینِ بے آئین رہا۔ جب نام نہاد جمہوریت کا دورچل پڑتا، تو کوئی سوشلسٹ ناک لگا دیتا، کوئی سرمایہ دارانہ، تو کوئی لبرل، ایسے میں کوئی اسلامی نظام کا واویلا مچا دیتا، کوئی سرپر عمامہ باندھ لیتا، تو کوئی جناح کیپ پہنا دیتا، کوئی اس کی آنکھیں جھکا دیتا، تو کوئی اُٹھانے کوشش کرتا، کوئی اسے شلوار قمیص پہناتا، تو کوئی سوٹ پہنا دیتا، کوئی کلین شیو، توکوئی اس کے چہرے پر داڑھی کو موزوں قرار دیتا، ہر پانچ سال بعد الیکشن میں نیا نعرہ دے کر چہرہ بدل جاتا، کبھی اسے اسلام کا قلعہ گردانتا، تو کبھی اسے بین الاقوامی سلامتی کا داعی کہلواتا، کبھی ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ تو کبھی امریکہ اور کبھی چین کی لازوال دوستی پر فخر۔ یوں 71 برسوں میں ہم لوگ اس مجسمے کے چہرہ سازی کا فیصلہ نہیں کرپائے، بلکہ آج کل جب ’’نئے پاکستان‘‘ کا واویلا سنتا ہوں، تو دل و دماغ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ خدانخواستہ کہیں ایک بار پھر ’’مشرقی پاکستان‘‘ والا سانحہ رونما ہونے والا تو نہیں؟ آپ سب کو تو یاد ہوگا جب مشرقی پاکستان ’’بنگلہ دیش‘‘ میں تبدیل ہوا، تو بجائے افسوس کے بڑے فخر سے بچے کھچے پاکستان کو ’’نئے پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا اور اس وقت کے قائدِ جمہوریت خان عبدالولی خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر اس وقت کے وزیر داخلہ عبدالقیوم خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر چھوٹے صوبوں کے ساتھ آپ لوگوں کا یہی رویہ جاری رہا، تو خدانخواستہ آخر میں آپ لاڑکانہ کو بھی نیا پاکستان کا نعرہ دینے اور وزیرداخلہ بننے پر فخر محسوس کریں گے۔ مجھ سمیت اس ملک کا ہر باشعور انسان حیران و پریشان ہے کہ آخر ہم اس ملک کے ساتھ کرنا کیا چاہتے ہیں اور کس طرف لے کر جانا چاہتے ہیں؟‘‘
ایک ’’سی مین‘‘ کی حیثیت سے میں پوری دُنیا دیکھ چکا ہوں۔ دعوے سے کہتا ہوں کہ ایک سال میں چار مختلف اور بہترین موسم، معدنیات، جنگلات، میٹھا پانی، افرادی قوت اور قدرتی وسائل کے لحاظ سے پاکستان جیسا ملک روئے زمین پر ڈھونڈے سے نظر نہیں آئے گا، لیکن حوسِ اقتدار و دولت، انتقامی اور جذباتی سیاست نے اس انعامِ خداوندی کو نہ صرف اپنی ہی قوم کے لیے قتل گاہ اور جہنم بنا دیا ہے بلکہ صاحبِ اقتدار طبقے کی بھی دُنیا میں کوئی قدرو عزت اوراحترام نہیں بچا ہے۔ وہ اس لیے کہ بدقسمتی سے اس ملک کو کبھی سنجیدہ قیادت نصیب نہیں ہوئی کہ وہ اس ملک کو درست نظام دینے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ جذبات کی رُو میں بہتے ہوئے تو سائیکل بھی نہیں چلائی جاسکتی جب کہ ہم سیماب صفت لوگ ملک چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ اس بے چہرہ ملک کو چہرہ کب اور کس کے ہاتھ سے نصیب ہوگا؟
خدانخواستہ ہماری غفلت اور نااہلی کی وجہ سے بچا کھچا پاکستان بھی اُس یونانی آرٹسٹ کے مجسمے کی طرح ہم سے کوئی اُڑا نہ لے اور ’’نئے پاکستان‘‘ کا نام دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے۔ اگر آج قائد اعظم محمد علی جناح زندہ ہوتے، تو شائد وہ ان لٹیروں، نالائق اور نااہلوں کو اپنے مجسمہ ’’پاکستان‘‘ کے قریب پھٹکنے بھی نہ دیتے، جنہوں نے چہرہ سازی تو کجا بڑی مشکل سے بنائے گئے دھڑ کی بنگلہ دیش کی صورت میں حصے بخرے کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ جاتے جاتے میری یہی دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جغرافیائی لحاظ سے ’’نئے پاکستان‘‘ کی بجائے پرانے اور موجودہ پاکستان کا حافظ و ناصر ہو، آمین!

تبصرہ کریں