قارئین کرام! یہاں لفظ ’’کرکشن‘‘ کا مطلب ’’کَرِکشَن‘‘ (اصلاح) نہیں بلکہ یہ لفظ ’’کرِکشَن‘‘ انگریزی زبان کے ’’کریٹی سِزم‘‘ (criticism) اور ’’فکشن‘‘ (Fiction) دونوں کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے، یعنی ’’ایک وجود میں دو ہم معنی ایسے لفظوں کا ملاپ جس سے ایک نیا لفظ وجود میں آجائے، جو معنی بھی دے۔‘‘ میں مزید وضاحت کے لیے چند مثالیں دوں گا۔ افغانستان اور پاکستان کے لیے ایک مشترکہ لفظ ’’ایفپاک‘‘ (AFPAK) استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح یورپ اور ایشیا کے لیے مشترکہ لفظ ’’یوریشیا‘‘ (Eurasia) اور مائیکرو کمپیوٹر اور سافٹ وئیر کے لیے’’مائیکرو سافٹ‘‘ (Microsoft) استعمال ہوتا ہے۔ سابق صدر امریکہ، بل کلنٹن اور اُس کی بیوی ہیلری کلنٹن کے لیے ایک مشترکہ لفظ ’’بیلیری‘‘ استعمال ہوتا تھا۔ ہندی اور انگریزی زبانوں کا مشترکہ لفظ ’’ہنگلش‘‘(Hinglish) ہے۔ اس طرح آج کل برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے خبروں میں آپ سب نے ایک لفظ ’’بریگزٹ‘‘ (Brexit) سنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل رہا ہے۔ یہاں جو بھی نیا مشترکہ لفظ استعمال ہوا ہے، اُسے ادبی زبان کی اصطلاح میں فرانسیسی زبان میں ’’پورٹ منٹو‘‘ (Portmanteau)کہا جاتا ہے۔ دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی اس طرح پورٹ منٹوز بنے ہوئے ہیں۔ خود ’’کرکشن‘‘جیسے اپنے وجود میں ایک نئے معنی کا مخفف ہے۔
اس طرح اردو زبان میں نثر اور نظم کا مشترکہ پورٹ منٹو ’’ثم‘‘ بننے کا امکان ہے۔ عالمی زبانوں میں پورٹ منٹو کی یہ اصطلاح پہلی بار پشتو زبان میں کون متعارف کرارہا ہے؟
قارئین کرام! یہ کارنامہ سمیع الدین ارمان نے سرانجام دیا ہے۔
یہ صاحب کون ہیں؟ یہ نوجوان دانشور، محقق اور نقاد ہیں۔ وہ اس وقت ایڈورڈز کالج پشاور میں علومِ اسلامیہ کے اُستاد ہیں۔ اُن کا میدانِ تخصیص ’’تقابل ادیان‘‘ (سامی مذاہب) ہے۔ وہ اسلامک سنٹر یونیورسٹی آف پشاور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں، یہاں ان کا میدان تخصیص ’’ادب اور تنقید‘‘ ہے۔ انفارمل ایجوکیشن کلیۃ الشریعہ یعنی (اسلامی جورسپونڈنس) ہے۔ وہ ایک جوان، ہنس مکھ انسان ہیں۔ گھنی خوبصورت سیاہ داڑھی چہرے پر سجائے علمی، تحقیقی اور پُرنور صورت کے مالک ہیں۔ وہ بہ مشکل تیس پینتیس سالہ نوجوان ہیں، لیکن اُن پر اللہ تعالیٰ نے علم و دانش کے دروازے کھول دیے ہیں۔ وہ سادگی، انسانیت و محبت کا پیکر ہیں، جس سے ہر کوئی پہلی ملاقات میں متاثر ہوئے بنا نہیں رِہ سکتا۔ وہ پشاور چارسدہ روڈ پر ’’ہریانے‘‘ نامی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ اب تک اس نوجوان دانشور کی تقریباً چھے عدد کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن میں ’’تنقیدی تعبیرات‘‘ (دو جلد)، ’’زرپاش‘‘، ’’تنقیص‘‘، ’’باتیں ہمارے باچا خان کی‘‘ اور ’’کرکشن‘‘ شامل ہیں۔ ’’کرکشن‘‘ میں فکشن (ناول) کے ساتھ ’’کریٹی سزم‘‘ بھی شامل ہے۔
قارئین کرام! میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کو سمیع الدین ارمان کی کتابوں کو حاصل کرنے اور خریدنے کے لیے کوئی پتا یا بک سٹال کا حوالہ دوں، کیوں کہ اُن کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ گرم کیک کی طرح نکل جاتی ہیں۔ مجھے بہ مشکل دو عدد کتابیں ہاتھ آئیں اور اُس کے لیے میں اپنے پیارے دوست اور مہربان ہمایوں مسعود صاحب کا نہایت شکر گزار ہوں، کہ وہ ہر بار اچھی کتابوں میں میرا حصہ ضرور کرتے ہیں اور اس احسانِ عظیم میں مجھے نہیں بھولتے۔ میں اس کالم میں ’’کرکشن‘‘ کتاب پر مختصر بات کروں گا۔
کرکشن پر سمیع الدین ارمان کا جو اپنا مقدمہ ہے، وہ پڑھنے کے لائق ہے۔ اس مقدمے میں اس نے پوری کتاب کا ایک مختصر خاکہ کھینچا ہے۔ اس میں زیادہ تر ادبی اصطلاحات کی وضاحتیں کی گئی ہیں۔ کتاب کے اندر یورپی، امریکی، جرمنی اور روسی ناول نگاروں کے حالاتِ زندگی اور اُن کے عالمی شہرت یافتہ ناولوں کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح اپنے علاقے، خطے کی جبر و بے انصافیوں کو ’’ناولوں‘‘ میں بیان کرکے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، لیکن یہاں اس بیانیے میں سمیع الدین ارمان نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ ’’کیوں ہمارے اس خطے کے ادب نے عالمی ادب میں اپنا مقام نہیں بنایا؟ ہمارے ہاں تو بہت المیوں نے جنم لیا ہے۔ برسہا برس بے مقصد رزمیے چل رہے ہیں۔ خون بہایا جا رہا ہے۔ مضبوط، خوبصورت نازک جسموں کے پرخچے اُڑائے جارہے ہیں۔ چھوٹے، معصوم پھول جیسے بدن سزا پا رہے ہیں۔ پھر بھی ایسا کچھ نہیں لکھا گیا جو عالمی ادب کو متوجہ کرسکے۔‘‘
سمیع الدین ارمان نے کتاب میں اس سوال کے بارے میں مختلف وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔
کتاب پر حیات روغانےؔ اور ڈاکٹر ہمدرد یوسف زئی کی تعارفی تمہید بھی پڑھنے لائق ہے، جس میں کتاب کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مزید اصطلاحات کے بارے میں وضاحتیں دی گئی ہیں۔
کتاب کے گیارہ عدد مضامین میں یورپ، امریکہ،روس، فرانس اور جرمنی کے مشہور ادیبوں (ناول نگاروں) کے دلچسپ مختصر حالاتِ زندگی اور اُن کے شاہکار ناولوں پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ وہ تمام ادیب اور ناول نگار اپنی تخلیقات اور فن پاروں کے لیے کتنی تکالیف، جبر اور پابندیوں سے ہوگزرے؟ حقیقت یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد انسانی عقل ششدر رہ جاتی ہے۔
کتاب میں اصل معلومات یہ ہیں کہ ہر مصنف نے اپنا فن پارہ لکھنے کے لیے کون سا طریقۂ ادب اور اندازِ بیانیہ استعمال کیا ہے؟ جیسے کہ مشہور افسانہ نگار ہیمنگوے نے اپنے افسانوی تکنیک میں ’’آئس برگ تھیوری‘‘ کے متعلق تفصیل سے بات کی ہے جسے ’’تھیوری آف اومیشن‘‘ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ بعد میں اسی ’’آئس برگ تھیوری‘‘ کی مشہور نفسیاتی دانشور فرائڈ نے اُس وقت نفسیاتی نقطۂ نظر سے تشریح کی جب اُس نے شعور، تحت الشعور اور لاشعور کی توضیحات بیان کیں۔ انہی توضیحات کی روشنی میں مشہور افسانہ نگار نے افسانہ لکھنے کے لیے آئس برگ تھیوری کو کار آمد بنانے پر زور دیا ہے۔
اس طرح فرانز کا فکا جو ’’پراگ‘‘ شہر میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا مشہور ناول ’’میٹا مار فوسزز‘‘ جس کا دنیائے ادب میں اچھے ناولوں میں شمار ہوتا ہے، جو انسان کی مختلف نفسیاتی حالتوں پر لکھا گیا ہے اور جس میں وجودی اور غیر وجودی تبدیلی کا تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے، اس کی سمیع الدین ارمان نے دورِ جدید کی تبدیلیوں کے تناظر میں دل کش انداز میں تشریح کی ہے۔
اس طرح برطانیہ کی ورجینیا وولف جس کی اپنی زندگی دُکھوں، المیوں، حادثوں سے عبارت تھی، کوسگمنڈ فرایڈ کا ہم عصر مانا جاتا ہے۔ اس کے فن کے تعین کے بارے میں اکثر نقادوں نے اسے ’’مابعد فرایڈی ادب‘‘ میں اپنے زمانے کی نمائندہ خاتون ادیب مانا ہے۔
(جاری ہے)
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
