روح الامین نایابکالم

کرکشن (آخری حصہ)

کتاب میں دنیائے فکشن کے مشہور روایت ساز نمائندہ ’’جورج آرویل‘‘ کا بھی تفصیلی ذکر ہے۔ اُس کے دوشہرہ آفاق ناولوں ’’اینمل فارم‘‘ اور 1984ء کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ارمان کہہ رہے ہیں کہ آرویل ایک سچا ڈیموکریٹ سوشلسٹ تھا۔ اینمل فارم میں انہوں نے اپنی اُن یادداشتوں کو تمثیلی زبان دی ہے جو کچھ انہوں نے سپین کی خانہ جنگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ یہ ناول روسی انقلاب اور اُس کے بعد سٹالن کے ظالمانہ دور پر ایک سفاک طنز ہے۔ شخصیت پرستی اور ریاستی جبر کے خلاف یہ ناول ایک مصدقہ آواز ہے۔ اس ناول کے بعد آرویلی نے ایک اور ناول 1984ء کے نام سے لکھا ہے۔ 1984ء میں ٓرویل نے اپنی تمام علمیت، خبرداری اور دیانت کی پوری سچی گواہی دی ہے۔ یہ ناول 1949ء میں شائع ہوا اس ناول کی نوعیت یا قسم کو ’’ڈسٹوپین فکشن‘‘ کہتے ہیں، جس میں بڑے بڑے مرکزی تصورات، ریاستی جبر و تشدد کے ساتھ ساتھ دوغلے پن کی جھوٹی سیاست کی تہیں کھولنی پڑتی ہیں۔ انفرادی آزادی اور اظہار کے آنکھوں پر پردے پڑے رہتے ہیں۔ یہاں پر سمیع الدین ارمان کا خیال ہے کہ ’’ڈسٹوپین فکشن‘‘ کی یہ نوعیت مختلف اوقات میں مختلف صورتوں میں فطری اور علمی طور پر سامنے آ رہی ہے جیسے کہ ناول نگار ’’میری شیلے‘‘ کے ’’فرینکنسٹاپن‘‘ نامی ناول میں ’’مونسٹر‘‘ کا کردار ہے یا مشہور روسی ناول نگار ’’میخائیل بلگاکوف‘‘ کے مشہور ناول ’’ہارٹ آف ڈاگ‘‘ میں اُس کتے کا کردار ہے جس میں انسانی دماغ کے ساتھ تمام صلاحیتیں ودیعت کی گئی تھیں۔ اس نے ایک عام کتے ’’شیرک‘‘ سے ایک معتبر اشرافیہ کتا ’’شیر کوف‘‘ تک کا سفر کیا تھا۔ ارمان صاحب ’’آرویل‘‘ کے اعتدال پسندانہ رویے کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ کمیونسٹ تو ہے، لیکن کمیونزم کے انتہا پسندانہ رویے پر اُس کی گہری نظر ہے۔ وہ سوشلسٹ ہے، لیکن سوشلزم کے نظریاتی حوالے سے کسی خفیہ مقاصد حاصل کرنے کا روا دار نہیں۔
کتاب میں ناول کے مستقبل کے بارے میں ضمناً 1962ء میں مغربی دانشوروں کے اُس عالمی کانفرنس کی بھی بات کی گئی ہے جو ’’ایڈنبرا‘‘ میں ناول کے حوالے سے بلائی گئی تھی۔ اس کانفرنس کے آگے ایک سوال رکھا گیا تھا کہ ’’ناول کی صورت حال کیا ہے؟‘‘ یہاں پر جو کچھ کہا گیا وہ ناول کے بارے میں اُمید افزا نہیں تھا، جب کہ ارمان صاحب اس سے اختلاف رکھتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ دنیا میں عالمی ناول عروج کی طرف تیز رفتاری سے پیش قدمی کر رہا ہے اور اس کے لیے مشہور ادبی تجزیہ کار شمس الرحمان فاروقی کے اُس مقالے کا حوالہ دے رہے ہیں جس نے 1971ء میں ’’آج کا مغربی ناول‘‘ نظریات اور تصورات کے عنوان سے لکھا تھا اور اُس میں ایڈنبرا کانفرنس کے اعلامیے سے اختلاف کیا گیا ہے۔ ہوسکتاہے کہ فاروقی اور ارمان صاحب کا مؤقف صحیح ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی عالمی ادب کے اچھے خاصے حلقے ناول کے بارے میں اس کا مستقبل مخدوش قرار دے رہے ہیں۔ دنیا سکڑ رہی ہے لہٰذا فکشنی ادب بھی سکڑ رہا ہے، کمیت کے حوالے سے نہیں بیانیے کے حوالے سے۔
کتاب میں لاطینی امریکہ کے مشہور دانشور اور ناول نگار ’’گبریل گارسیا مارکیز (گیبو) اور اُس کے یادگاری فکشن کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ چیکو سلواکیہ کے مشہور عالم اور ناول نگار ’’میلان کنڈیرا‘‘ کے ناولیانہ حکمت عملی کا تفصیلی ذکر ہے۔ ناول کے بارے میں میلان کنڈیرا کا خیال ہے کہ ’’ ناول اپنے آغاز کے لیے لکھنے والے کے ذہن میں ایک دُھندلا سا مجموعی تصور بنا دیتا ہے، پھر جب ناول کا آغاز ہوجاتا ہے، تو کردار، پلاٹ، زمان و مکاں اور بیان خود بہ خود ناول کا تحریری سفر آگے دھکیلتے رہتے ہیں۔ اس تصور کے محرک کو میلان کنڈیرا ناول کا دانش، دانائی، حکمت اور قوت قرار دے رہے ہیں لیکن ساتھ اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ ناول کا دانش، فلسفی کے دانش سے الگ ہے۔ کیوں کہ فلسفی کا دانش نظریات کی روح سے جب کہ ناول کا دانش مِزاح کے روح سے جنم لیتا ہے۔
کتاب کے آخر میں ایک بہت اہم موضوع کو ادبی تاریخ کے حوالے سے چھیڑا گیا ہے کہ فکشن عملی سائنس کے لیے کیسے راستے کھول دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مشہور ناول نگار پاولو کویلو کا ذکر ہے جس کے مشہور زمانہ ناول ’’الکیمسٹ‘‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا کی 80 سے زیادہ زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔ الکیمسٹ کا اردو میں تین بار ترجمہ ہوچکا ہے جب کہ پشتو میں راشد خٹک اور صفیہ حلیم نے بھی ترجمہ کیا ہے۔ اس ناول کی اب تک 150 ملین کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں جوسٹین گارڈ کے مشہور عالمی زمانہ ناول “Sophies World” یعنی ’’سوفی کی دنیا‘‘ کی بات کی گئی ہے جس کا مشہور ساٹھ زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور 1991ء سے 2011ء تک اس ناول کی 40ملین کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔
قارئین کرام! تحریر طول پکڑ گئی۔ یہ کتاب اپنی اہمیت، مغربی ناول نگاروں، اُن کے لکھے ہوئے مشہورِ زمانہ ناولوں، اُن کی ساخت، جدیدیت، اقسام، عصر حاضر کے تقاضوں کے ساتھ پشتو ادب میں ایک نئی، منفرد اور قیمتی اضافہ سمجھی جائے گی۔
میں سمیع الدین ارمان کو اس کتاب پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں اور خداوندِ کریم سے دعا گو ہوں کہ ارمان صاحب کا زورِ قلم اور زیادہ ہو۔

تبصرہ کریں