ارباب سکندر خان خلیل جو نیشنل عوامی پارٹی کی طرف سے صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے گورنر تھے، جو بعد میں کسی کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے، یہ ان دنوں کی بات ہے کہ مولانا مفتی محمود صاحب ان کے ساتھ صوبے میں وزیر اعلا تھے اور مرکز میں ذوالفقار علی بھٹو وزیرِ اعظم پاکستان ہوا کرتے تھے، جن کو بعد میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے پھانسی چڑھاکر اقتدار کے نشے میں ان کو بھی شہید کیا گیا۔
ارباب سکندر خان خلیل کا دادا ارباب بہرام خان خلیل اپنے پیر سید احمد سے ملنے رائے بریلی جا رہے تھے ۔سفر کے دوران میں گوجرانولہ کے قریب راستے میں انھیں پیاس لگی، تو وہ پانی پینے ایک کنویں پر چلے گئے، لیکن کنویں پر اس وقت چند عورتیں پانی بھر رہی تھیں۔ اس لیے وہ اپنی باری کے لیے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوگئے۔ عورتیں پانی بھر نے کے بعد چلنے لگیں اور آپس میں پشتو میں باتیں کرنے لگیں۔ ارباب بہرام خان خلیل نے ان کی باتیں سنیں، تو انھوں نے عورتوں سے پوچھا کہ بہنو! یہ تو پنجاب کا علاقہ ہے، یہاں کے لوگ پنجابی بولتے ہیں اور آپ پشتو بول رہی ہیں۔ عورتوں نے جواب دیا کہ ہم پشتون ہیں اور یہاں سکھوں نے ہم سے زبردستی شادی کی ہے۔
اُس زمانے میں راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی۔ اس کی ایک بیوی پشتون تھی۔ چاندنی راتوں میں وہ کشتی میں دریائے راوی کی سیر کیا کرتے تھے ۔
ارباب بہرام خان خلیل نے سید احمد یعنی اپنے پیر کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا ۔ سید احمد نے انھیں کہا کہ اس سال ہم حج کرنے جا رہے ہیں، واپسی پر جہاد کی غرض سے آپ کے پاس آئیں گے۔ جہاد کی تیاری کے سلسلے اور پشتونوں کے علاقے کا جائزہ لینے کے لیے شاہ اسماعیل مداری کے بھیس میں ڈگڈگی بجاتے اور ریچھ کو نچاتے ہوئے جگہ جگہ قیام کرتے، مقامی لوگوں اور سکھاشاہی کی بود و باش کا جائزہ لینے کے لیے کچھ عرصہ پختونخوا میں گزار کر واپس چلے گئے اور رپورٹ سید احمد کو پیش کی۔ سید احمد نے ٹونک کے نواب جو یوسف زئ پشتون تھے اور سوات سے ان کا تعلق تھا( بعض لوگ بونیر سے ان کا تعلق بھی بتاتے ہیں) کو سارا ماجرا بیان کیا۔ سید احمد بریلوی مجاہدین کو ساتھ لے کر جہاد کے لیے روانہ ہوئے اور سندھ کے راستے بلوچستان میں درۂ بولان سے افغانستان ہوتے ہوئے درۂ خیبر کے راستے 182 6ء میں موجودہ پختونخوا میں داخل ہوئے۔ 1814ء میں سکھوں نے اٹک قلعہ کو افغانستان کے بارک زئ سرداروں سے قبضے میں لے لیا تھا۔ بارک زئ سردار کشمیر سے اس قلعے کو کنٹرول کر رہے تھے، اس لیے سکھ بڑی آسانی سے قلعہ میں داخل ہوئے تھے اور یوں سکھاشاہی پختونخوا پر قبضہ کرنے کے لیے پر تول رہے تھے۔ پشاور پر بارک زئی سرداروں کی حکومت تھی۔
1823ء میں نوشہرہ کے مقام پر سکھوں کے خلاف جنگ لڑی گئی تھی، جس میں یوسف زئ پختو نوں کے بہت سے جوان شہید ہوئے تھے۔ یہ جنگ بارک زئی سرداروں کی آپس کی بے اتفاقی کی وجہ سے ہاری گئی تھی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض سردارانِ بارک زئی نے سکھوں سے پیسے لیے تھے اور وہ صحیح معنوں میں لڑنا نہیں چاہتے تھے۔ بعد میں سکھوں سے لڑائی میں سید احمد بریلوی اور ان کے مجاہدین پیش پیش تھے، لیکن ان کے لیے بھی بارک زئی سرداروں کی بے اتفاقی دردِ سر بنی ہوئی تھی۔ اس لیے سید احمد بریلوی نے پنجتار کے آزاد علاقے کو اپنا جنگی مرکز بنا کر سکھوں سے نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز کیا۔ وہ جو بھی علاقہ سکھوں سے قبضے میں لے لیتا۔ وہاں عشر کا نظام رائج کر دیتا۔ آخرِکار 6مئی1831ء کوبالاکوٹ کے مقام پر سکھوں سے ایک لڑائی میں جامِ شہادت نوش کیا اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ُآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
