(باخبر سوات ڈاٹ کام) مینگورہ کے مدین روڈ پر سبزی منڈی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار اور نجی بنک کا سیکورٹی گارڈ جاں بحق ہوگئے۔ جمعرات کو صبح 8 بج کر 45 منٹ پر دو پولیس اہلکار مین روڈ پر گشت کر رہے تھے کہ تین مسلح افراد نے آکر ان پر پستولوں سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تھانہ مینگورہ کے دو اہلکار عمرا خان، اشرف علی ساکن امانکوٹ اور نجی بنک کا سیکورٹی گارڈ موسیٰ خان ساکن سنگوٹہ جاں بحق ہوگئے اور ملزمان واردات کے بعد فرار ہوگئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد شہر اور ضلع بھر میں ملزمان کی تلاش میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ جاں بحق پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن میں ادا کی گئی جس میں سرکاری افسران اور لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ بعد میں ان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کردیا گیا۔ دوسری جانب اپنے ایک بیان میں کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے واقع کی ذمے داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ بنجوٹ میں پولیس نے ہمارے جن تین ساتھیوں کو قتل کیا تھا، یہ اس کا بدلہ ہے۔مینگورہ میں جاں بحق پولیس اہلکاروں کے ورثا نے لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کچہری چوک میں لاشیں رکھ کر سیدو شریف اور مینگورہ روڈ کو ٹریفک کے لئے بند کردیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دن دہاڑے پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ بھرے بازار میں ملزمان کیسے فرار ہوگئے۔ بعد میں پولیس افسران سے مذاکرات کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کیا اور پولیس ساتھیوں کی لاشیں لے کر پولیس لائن روانہ ہوگئے۔بنجوٹ کی پہاڑی علاقہ دوشے میں 23 مئی کو مسلح افراد اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک شہری جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا۔ پھر پولیس کا بیان آیا کہ ملزمان رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے۔ اس کے بعد5 جون کو آئی جی پولیس اختر حیات گنڈا پور نے کبل پولیس لائن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بنجوٹ واقعے میں ملوث دہشت گرد رفیع اللہ اور سہولت کار عصمت اللہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک دہشت گرد ذاکر اللہ فرار ہوگیا ہے اور ان سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ پریس کانفرنس میں دونوں ملزمان کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اور ان کے چہرے بھی نہیں چھپائے گئے تھے۔ پھر اگلے دن6 جون کو بنجوٹ کے علاقہ دوشے میں فائرنگ کی آواز سنی گئی اور پھر پولیس کا بیان آیا کہ پولیس گرفتار ملزمان رفیع اللہ اور عصمت اللہ کو جگہ کی نشاندہی کے لئے لے جارہے تھے کہ دہشت گرد ذاکر اللہ نے فائرنگ کی جس سے زیر حراست ملزمان رفیع اللہ اور عصمت اللہ جاں بحق ہوگئے اور پولیس کی جوابی فائرنگ میں دہشت گرد ذاکر اللہ ہلاک ہوگیا۔
