ایک دفعہ چاچا کریم بخش کے گھریلوملازم اسماعیل نے آکر مجھے بتایا کہ خان عبدالغفار خان بابا آئے ہوئے ہیں۔ اور یہ کہ دیرے میں اُن کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ اگر کچھ دیر کے لیے بابا کے ساتھ نشست ہوجائے، تو بہتر ہوگا۔
مَیں نے اسماعیل کو ہاں کردی،لیکن جانے سے پہلے مجھے گھر سے باچا خان بابا کی ایک تصویر جوکہ اُن کی جوانی کی تھی، ساتھ لے جانا بہتر سمجھا، تاکہ اُس پر میں اُن کے آٹو گراف لے سکوں۔ جب مَیں باچا خان بابا سے ملنے گیا، تو اُن کا خادم اُن کو بٹھانے میں مشغول تھا۔ بابا کے بیٹھنے کے لیے خادم نے پہلے ایک درمیانے سائز کا ایک ٹائرزمین پر رکھا اور اور بابا کو اُٹھا کر بڑے آرام سے ٹائر کے درمیانے حصے میں بٹھا دیا۔ مَیں نے بابا کو تصویر دیتے ہوئے آٹو گراف دینے کا کہا۔ بابا نے غور سے تصویر کو دیکھا اور کہا کہ یہ میری تصویر نہیں۔ اس لیے کہ مَیں نے زندگی بھر سر پر پگڑی نہیں باندھی ہے۔ اس تصویر میں پگڑی ہے۔ لہٰذا یہ میری نہیں۔
مَیں نے بابا سے عرض کیا کہ یہ آپ کی جوانی کی وہ تصویر ہے جس میں حاجی صاحب ترنگزئی نے آپ کی دستار بندی کی ہے، لیکن وہ پھر بھی نہیں مانے۔ اس کے بعد اُنھوں نے پوچھا: ’’یہ آٹو گراف کیا ہوتا ہے؟ مَیں کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہوں۔ مَیں ایک مصلح ہوں۔ میں لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ یہ اُس کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔ میرا کام نصیحت کرنا ہوتا ہے۔‘‘
اس کے بعد اُنھوں نے کل پھر آنے کے لیے مجھے دعوت دی۔ وہ لوگوں سے خطاب کرنے جا رہے تھے۔ اس لیے مجھے بھی دعوت دی گئی۔
باچا خان بابا سے میرا ملنا جلنا کئی سالوں سے تھا۔ مَیں نے اُنھیں پہلی دفعہ کنگم پارک میں غالباً 1972ء میں دیکھا تھا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے، جب صوبے کے وزیرِ اعلا مولانا مفتی محمود تھے۔ اُن کی سربراہی میں باچا خان بابا کو کابل سے لانے کے لیے ایک جرگہ گیا ہوا تھا۔ اُن کو میرے سامنے ایک ٹرک کی چھت سے کنگم پارک میں ایک بہت بڑے سٹیج پر اُتارا گیا۔مَیں نے ہزاروں لوگوں کے درمیان اُنھیں سنا۔
بابا کا سوات آنا جانا رہتا تھا۔ چاچا کریم بخش اور کامران خان کے ہاں وہ ٹھہرتے تھے۔ وہاں مَیں باچا خان بابا سے بھی ملا کرتا تھا۔ کیوں کہ میرے لیے ان کا ایک الگ مقام تھا۔ وہ میرے لیے قابلِ قدر بزرگ تھے۔
واپس چاچا کریم بخش صاحب کے دیرے پر آجاتے ہیں۔ چوں کہ باچا خان بابا نے مجھے کل آنے کا کہا تھا۔ مَیں دوسرے روز دیرے پر باچا خان بابا کو سننے کے لیے گیا۔ دیرے میں لوگوں کا کافی رش تھا۔ ایک خوب صورت اسٹیج پر باچا خان بابا بیٹھے ہوئے تھے، لیکن بابا تلاوتِ قرآن پاک کے بعد بھی خاموش تھے۔ مَیں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ سید طہار ایڈوکیٹ میرے پاس آئے اور کہا کہ بابا نے تقریر کرنے سے انکار کردیا ہے۔ کہتے ہیں کہ میری تقریر سے پہلے ایک شاعر کو بلالو، تاکہ میں اُس کو سنوں۔ اس لیے ہم نے سٹیج سیکرٹری کو آپ کا نام دیا ہوا ہے۔ اس لیے آپ تیار رہیں۔ مَیں معذرت کرنے ہی والا تھا کہ اسٹیج سے میرا نام پکارا گیا۔ مَیں نے اسٹیج پر جاکر اللہ کا نام لیا اور اپنا کلا م سنانے لگ گیا۔ اسٹیج سے اُتر کر واپس لوگوں میں بیٹھ گیا، لیکن بابا نے نہایت خوش دلی سے اپنی تقریر جاری رکھی۔
اختتام پر باچا خان بابا کو ایک بڑے ہال میں لایا گیا۔ وہ ایک صوفے میں لیٹ گئے۔ مَیں بھی اُس وقت وہاں موجود تھا۔ مَیں نے فوٹو گرافر کو بلا یا اور بابا سے ایک تصویر بنوانے کی درخواست کی۔ اُنھوں نے ہامی بھرلی۔مَیں بابا کو تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا۔ مَیں نے ان سے عرض کیا کہ آپ اس طرح لیٹے رہیں۔ مَیں آپ کے قریب بیٹھ جاؤں گا۔ لوگوں نے جب مجھے اور بابا کو دیکھا، تو وہ آگئے اور تصویر بنوانے کے لیے ہمارے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ یہ 1988ء کا سال تھا اور یوں ہم نے ایک یاد گار تصویر بنوائی ۔
اس طرح ایک دن مَیں پشاور کے اندر بازار میں مہابت خان مسجد کے قریب گزر رہا تھا۔ مجھے قصہ خوانی جانا تھا کہ ایک زرگر کی دُکان میں مجھے باچا خان بابا کی جوانی کی تصویر نظر آئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’یہ تصویر صرف میرے پاس ہے۔کہیں اور سے آپ کو یہ نہیں مل سکتی۔‘‘
مَیں نے اُنھیں کہا کہ اس کی ایک کاپی فوٹو گرافر سے مجھے بنوانی ہے۔ لہٰذا یہ مجھے دے دیجیے۔ اُنھوں نے کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دکان کی دیوار سے تصویر اُتاری اور فوٹو گرافر کی دکان تک میرے ساتھ گئے۔ فوٹو گرافر سے مَیں نے ایک کاپی تیار کروائی۔ واقعی یہ ایک نایاب تصویر تھی، جس کی ایک کاپی مَیں نے اپنے ہاتھ سے ولی خان کو دی، دوسری پروفیسر جہان زیب نیاز لالا کو اور تیسری پرویش شاہین کو دی۔سب نے تصویر کو پسند کیا۔
لیکن وائے قسمت کہ جب مَیں نے باچا خان بابا سے آٹو گراف لینے کے لیے وہ تصویر اُن کو دی، تو اُنھوں نے پگڑی کی وجہ سے انکار کیا کہ اُنھوں نے کبھی زندگی بھر پگڑی نہیں باندھی تھی۔
اس کے بعد ایک ادبی پروگرام کے سلسلے میں ڈاکٹر شیر زمان، مفلس درانی اور شیر شاہ ترخوی سوات آئے ہوئے تھے۔ رات کو میرے مہمان تھے۔ مَیں نے وہ تصویر اُن کے سامنے رکھی اور کہا کہ اِس تصویر سے بابا نے انکار کیا ہے کہ یہ میری نہیں۔ اور یہ کہ اس میں پگڑی ہے۔ شیر شاہ ترخوی نے تصویر کو غور سے دیکھا اور پشاور کے ایک آرٹسٹ کا نام لے کر کہا کہ وہ اکثر تصویروں میں ہاتھ سے رد و بدل کیا کرتا تھا۔ یوں تصویر میں پگڑی کے اضافے کو اس کا مصورانہ کمال قرار دیا۔پگڑی میں پنسل کے کام کو پہچان کر سب کو دِکھایا ۔
قارئین! یوں بابا کی بات کی تصدیق ہوگئی کہ اُنھوں نے ٹوپی کے علاوہ زندگی میں کبھی پگڑی نہیں باندھی تھی اور بابا کی تصویر میں پگڑی اُس مصور کا مصورانہ کمال تھی۔
