فضل محمود روخانکالم

فلسفی غنی خان بابا کی یاد میں

14 مارچ 1996ء کی صبح کی خبروں میں نیوز کاسٹر نے یہ دل خراش خبر ٹی وی سے نشر کی کہ پشتو زبان کے عظیم فلسفی شاعر، مصور، سنگ تراش اور باچاخان بابا کے فرزندِ ارجمند عبدالولی خان رحلت کرگئے۔
مجھے یہ خبر سن کر دلی صدمہ پہنچا ۔مَیں غنی خان بابا کے جنازے میں شرکت کرنے ان کے گھر محمد ناڑئی چارسدہ جانے کا قصد کیا اور مینگورہ سوات سے رختِ سفر باندھ لیا اور صبح 11 بجے غنی خان بابا کے حجرے جاپہنچا۔ حجرے میں عبدالولی خان بابا سے بہت بڑی تعداد میں لوگ غم رازی اور فاتحہ خوانی میں مصروف تھے۔ ولی خان بابا نے اُٹھ کر مجھے گلے سے لگایا۔ مَیں فاتحہ پڑھنے کے لیے اُن کے قریب بیٹھ گیا۔ اُن کے ساتھ پارٹی کے اکابر ین بیٹھے ہوئے تھے، جن میں غلام احمد بلور، حاجی عدیل، ولی خان کو کی خیل آفریدی نمایاں تھے۔ ولی خان بابا ہر آنے والے کے ساتھ معانقہ کرتے، تو اُن کے ساتھ ولی خان کوکی خیل بھی ایک ساتھ کھڑے ہوتے۔ ظہر کی نماز ہم نے حجرے میں پڑھی۔ بعد ازاں ان کے آبائی قبرستان جانے کے لیے لوگ گاڑیوں بیٹھنے لگے۔ ڈاکٹر شیرین جان نے اپنے بھائی ڈاکٹر اسماعیل کی گاڑی میں مجھے بٹھایا اور مَیں اُن کے ہم راہ گاڑیوں کے ایک بڑے جلوس میں روانہ ہوگیا۔
عبد الغنی خان بابا کا جنازہ ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں اُن کے آبائی قبرستان جو اتمانزئی میں واقع ہے، پہنچا یا گیا۔ ان کے جنازے میں کافی لوگ شریک ہوئے۔ جنازے میں شرکت کرنے کے لیے اُس وقت کے صدرِ پاکستان جناب غلام اسحاق خان صاحب بہ نفسِ نفیس شریک ہوئے اور مجھے بھی اللہ تعالا نے یہ اعزاز بخشا کہ مجھے بھی ان کی تدفین اور جنازے میں دیگر لوگوں کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا۔
جنازہ پڑھنے کے بعد بابا کی قبر تیاری میں کاریگر اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ ایک کشادہ قبر تیار ہو رہی تھا۔ کھدائی مکمل ہونے کے بعد چاروں طرف خالی اینٹوں سے دیواریں کھڑی کی جارہی تھیں۔ مقبرے میں بھی لوگ فاتحہ خوانی میں مصروف تھے۔ مَیں اُن کے آبائی قبرستان کا جائزہ لے رہا تھا، جس میں اُن کے خاندان کے لوگوں کی قبریں تھیں۔ مجھے قبروں کے علاوہ مٹی سے بنے ہوئے دو الگ الگ ڈبے نظر آئے۔ ایک ڈبا باچا خان بابا اور دوسرہ ڈبا ان کی بیگم اور علی خان کی ماں کی یاد میں بنایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ باچاخان بابا اور ان کی بیگم حج کرنے کے بعد بیت المقدس کی زیارت کے لیے فلسطین گئے ہوئے تھے۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ اسرائیلی ریاست ابھی وجود میں نہیں آئی تھی۔اہلِ فلسطین اپنی جائیدادیں یہودیوں کے ہاتھ فروخت کررہے تھے۔ باچا خان نے فلسطینیوں کو اس سے منع کرنا چاہا……لیکن فلسطینیوں نے جواب میں کہا کہ مہدی علیہ السلام آکر ان لوگوں سے ہماری زمینوں اور گھروں کا قبضہ واپس لیں گے۔ یوں ہمیں اِس وقت پیسے اور اُس وقت جائیداد واپس مل جائے گی۔
اس دوران میں باچاخان بابا کی بیگم انتقال کرگئیں۔اُن کی قبر بیت المقدس میں ہے۔ موقع کی مناسبت سے سے یہاں یہ بھی عرض کروں کہ مولانا محمد علی جوہر نے دوسری گول میز کانفرنس سے لندن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مَیں ہندستان کوآزاد کرنے یہاں آیاہوں۔ اگر آپ مجھے آزادی نہیں دے سکتے، تو مَیں غلام ملک میں دفن ہونا نہیں چاہتا۔ آپ کو میری قبر کے لیے جگہ دینا ہوگی۔ اللہ تعالا کی کرنی کہ کانفرنس سے واپسی پر اُن انتقال ہوگیا۔ یوں اُن کو بھی بیت المقدس میں دفن کیا گیا۔ واضح رہے کہ مولانا محمد علی جوہر کے آبا و اجداد مرغز صوابی سے ہندوستان میں آباد ہوئے تھے، یعنی کہ محمد علی جوہر بھی پختون تھے…… اور وہ اپنے بزرگوں کے آبائی وطن دیکھنے صوابی مرغز بھی آ ئے ہوئے تھے۔
باچاخان بابا کی وصیت کے مطابق اُن کو جلال آباد افغانستان میں دفن کیا گیا۔ اُن کی یاد میں یہ دوسرا ڈبا بنایا گیا تھا۔ تاکہ اُن کو بھی لوگ دعاؤں میں یاد رکھیں۔
اچھا تو مَیں بات کر رہا تھا کہ غنی خان بابا کی قبر تیاری کے آخری مراحل میں تھی۔ ان کی میت صندوق میں بند تھی۔ خشک خالی اینٹوں سے قبر کو اوپر سے بند کرنے کا آغاز ہوا۔ کاریگر اینٹوں کو آپس میں جو ڑ رہے تھے اور یہ کام اتنی جلدی ہورہا تھا کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ جب ڈاٹ لگ گیا، تو علی خان نے اس کے اوپر چل کر اس کی مضبوطی کا جائزہ لیا۔ تسلی ہونے پر اس کے اوپر سیمنٹ ڈالا گیا اور اس کے بعد منوں مٹی ڈالی گئی۔ یوں غنی خان بابا ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
غنی خان بابا سے میری روحانی مراسم تھیں۔ ایک وقت تھا کہ اُنھوں نے پختونوں کو یک جا کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔ میں نے اس کام میں اُن کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ میرا آدمی آپ کے پاس آئے گا اور باقی باتیں وہ آپ کو زبانی بتائے گا۔ بابا نے کہا تھا کہ ’’مَیں پختونوں کے آپس میں اتفاق پیدا کرنے کے لیے گھر گھر، قریہ قریہ جاؤں گا۔‘‘ اور اس نیک کام میں، مَیں نے ہمیشہ کے لیے اُن کا ساتھ دینا تھا۔
بابا سے ملاقات کرنے کے لیے سوات مینگورہ سے جو بھی جاتا تھا، تو اُس سے بابا، کامران خان اور میرے متعلق ضرور پوچھتے۔ مجھے اُن سے دلی عقیدت تھی۔ لاریب، وہ بہت پیارے انسان تھے ۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں