فضل محمود روخانکالم

کپتان شیر علی خان کی یاد میں

  برٹش انڈین آرمی میں شیر علی خان کیپٹن تھے اور جب میری اُن سے راہ و رسم بڑھی، تو وہ سوات کے ایک انقلابی شاعر کی حیثیت سے پختون خوا میں جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ وہ تحصیل نیک پی خیل میں دریائے سوات کے کنارے غوریجہ گاؤں کے ایک نامی گرامی خان تھے۔ صحیح معنوں میں پشتو اور پشتونوں کے تمام اوصاف پر پورا اترتے تھے۔ اعلا تعلیم یافتہ تھے۔ وہ اپنے گاؤں اور ارگرد کے دیہاتوں کے لیے کسی مسیحا کی حیثیت رکھتے تھے۔ سب کے کام آتے تھے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں رضاکارانہ دن رات کام کرتے تھے۔
ایک دن انھوں نے مجھے بتایا کہ کچے کے علاقے میں ہم ڈاکوؤں کا پیچھا کر رہے تھے۔ مَیں جیپ چلا رہا تھا۔ میری ساتھ والی نشست پر میرا انگریز میجر بیٹا ہوا تھا، جس نے اپنی موچھ کو تاو دیا ہوا تھا، جس سے وہ بڑا دبنگ لگ رہا تھا۔ ہماری جیپ ایک ایسے موڑ پر پہنچی، جہاں سے آگے سڑک کا نام ونشان تک نہ تھا۔ آگے دلدلی علاقہ تھا۔ مَیں نے جیپ کو دلدلی زمین پر دوڑانا شروع کیا اور کافی دیر تک ڈرائیو کر تا رہا۔ جب ہم ڈاکوؤں کی کمین گاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور جیپ سے اُتر گئے، تو مجھے انگریز میجر کی موچھ تاو کے بغیر نظر آئی، یعنی وہ سہمے سہمے نظر آئے۔
اس طرح ایک دفعہ انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک دن باچا صاحب، والیِ سوات کے لیے رشتہ مانگنے علیگرامہ میں ہمارے حجرے تشریف لائے۔ہمارے حجرے میں ’’پیشئ‘‘ نام کا ایک آدمی ہوا کرتا تھا، جو طنز و مزاح کا سامان کرتا تھا اور اداکاری میں لاثانی تھا۔ پیشئی جب باچا صاحب کے سامنے سے گزر رہا تھا، تو اُس نے اپنے خط و خال بدل کر رکھے تھے۔ جب وہ دوبارہ باچا صاحب کے سامنے گزر رہا تھا، تو خط و خال پہلے سے بدل کر پیش کیے۔ یوں پیشئ ایک طرح سے باچا صاحب کو پیغام دے رہا تھا کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھنے والی۔ باچا صاحب سوات نے شاد محمد خان (جو کپتان شیر علی خان کے والد تھے) سے اپنے بیٹے جہانزیب (کراؤن پرنس) کے لیے اُن کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ شاد محمد خان نے کہا کہ میاں گل صاحب آپ نے دیر کردی۔ اُن کی پہلے ہی منگنی ہوچکی ہے۔ باچا صاحب درپردہ اس رشتے کے ذریعے نوابِ دیر سے اپنا رشتہ استوار کر نا چاہتے تھے۔ کیوں کہ شاد محمد خان کی بہن نوابِ دیر کی بیوی تھی، لیکن کام نہیں بنا۔
کپتان شیر علی خان، پاکستان بننے کے چند مہینے تک پاک آرمی میں رہا، لیکن جلد ہی ملازمت سے استعفا دے دیا اور عازمِ سوات ہوئے۔ یوں ریاستِ سوات میں محکمۂ تعلیم کو جوائن کیا اور ایک مقامی سرکاری سکول میں استاد مقرر ہوئے۔ پھر جب جنرل فضل حق صوبے کے کرتا دھرتا بنے، تو بیمار ہونے بہانے میڈیکل سرٹیفکیٹ بنایا اور محکمۂ تعلیم سے بھی سبک دوش ہوگئے۔ اس کے بعد قوم پرست سیاست دان بنے۔ عوامی انقلاب لانے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنے میں دن رات کوشش کرتے رہے۔ ولی خان، اجمل خٹک، لطیف آفریدی اورافراسیاب خٹک کے قدردان تھے۔
ادب کے میدان میں شیر علی خان کو سوات ادبی سانگہ کا پلیٹ فارم میسر رہا، جس سے وہ انقلابی شاعری کو دوام بخشتے رہے۔ اُنھوں نے پشاور کے ایک پریس (غنی سنزپرنٹر) کو دو کتابوں کے مسودے اور پیشگی نقد ادائی کی اور سوات آگئے۔ اس کے بعد اپنی کتابوں کی چھپائی کا انتظار کرنے لگے، لیکن چھپائی میں سالوں لگے۔ آخرِکار سوات کے میاں سیدلالا، جو پشاور صدر میں ایس پی آفیسر تھے، کی مداخلت سے کپتان شیر علی خان ایک کتاب کے مصنف بن گئے۔ ’’د قافلے جرس‘‘ نامی کتاب شائع ہوکر مارکیٹ میں دست یاب ہوئی۔
دوسری کتاب کا مسودہ پریس میں گم ہوگیا۔ چند ماہ بعد بیماری میں مبتلا ہوئے۔ بیماری کی تشخیص ہوئی، تو پتا چلا کہ وہ کینسر مرض کے آخری سٹیج پر تھے۔ علاج کی غرض سے اسلام آباد جا رہے تھے کہ حسن ابدال کے قریب پانی کے لیے رُکے۔ پانی پینے کے بعد اپنے بیٹے محمد علی خان سے کہنے لگے کہ آتے وقت ہمیں خیال نہ رہا کہ روخان کو اپنے ساتھ لے آتے۔ یہ کَہ کر چند لمحے بعد وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔
اُن کے بیٹوں میں ڈاکٹر محمد حنیف خان سوات میڈیکل کالج میں پروفیسر ہیں، جب کہ ڈاکٹر محمد منیب خان اس وقت سیدو شریف ہسپتال کے ڈی ایم ایس ہیں۔ محمد سلیم خان کافی عرصے سے سعودی عرب میں رہایش پذیر ہیں۔ سوات آتے جاتے ہیں۔ احمد علی خان صاحب بھی دیار غیر میں ہوتے ہیں اور آج کل سوات آئے ہیں۔
مرحوم کے بڑے بیٹے محمد علی خان صاحب گاؤں میں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالا، کپتان شیر علی خان مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، آمین!

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں