فضل محمود روخانکالم

کچھ سابق ایم پی اے محمد امین کے بارے میں 

ایک دن سابق ایم پی اے محمد امین میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ کالج سے چھٹی کے بعد طالب علم اپنے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے۔ اچانک میری نظر اُن پر پڑی، تو مَیں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کالج کیوں نہیں گئے ہیں؟ امین صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’’مجھے کالج سے نکال دیا گیا ہے۔‘‘ مَیں نے کہا، تو دوبارہ داخلہ لے لیں۔کہنے لگے: ’’مجھے داخلہ نہیں مل سکتا۔‘‘
اُس وقت امان الملک صاحب، جہان زیب کالج کے پرنسپل تھے۔ وہ اپنے نام کی بجائے ’’جاجا‘‘ کی عرفیت سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ اُن سے میری واقفیت تھی۔ دوسرے دن میں اُن سے ملا اور امین صاحب کے داخلے کی بات کی…… لیکن اُنھوں نے داخلہ دینے سے معذرت کی اور کہا: ’’روخان صاحب! مَیں امین کو دوبارہ کالج میں نہیں رکھ سکتا۔ مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ مَیں آپ سے معذرت کا اظہار کر رہا ہوں۔‘‘
یوں مَیں نے اُن سے رخصت ہونے کی اجازت لی اور مصافحہ کیا۔ اُن کے دفتر سے نکلنے والا تھا کہ اُنھوں نے مجھے مخاطب کرکے کہا: ’’روخان صاحب! آپ پشاور جاکر ڈائریکٹر کالجز سے امین کو داخلہ دلوا سکتے ہیں۔‘‘
اگلے روز میں عازمِ پشاور ہوا اور صوبے کے ڈائریکٹر کالجز سے اس حوالے سے بات کی۔ اُنھوں نے کہا کہ طالب علم کو داخلہ دینے کا اختیار کالج کے پرنسپل کے پاس ہوتا ہے۔ آپ اس بارے میں کالج کے پرنسپل سے بات کریں۔ مَیں نے جواباً کہا کہ ’’جاجا نے تو اس کام کے لیے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے!‘‘ یوں اُنھوں نے بھی اس معاملے میں معذوری ظاہر کی اور مجھے صوبائی سیکریٹری تعلیم سے ملنے کا کہا۔
مَیں اُس وقت کے سیکریٹری تعلیم اعظم خان سے اُن کے دفتر میں ملا۔ اُن کے ساتھ کوئی دوسرا سیکریٹری بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اعظم خان نے مجھے کہا کہ مجھے جنرل فضل حق سے ملنا ہے۔ اس لیے جلدی بتائیں، آپ کا کیا کام ہے ؟
مَیں نے اُن سے امین کے کالج میں داخلے کی بات کی، تو اُنھوں نے ہنس کر کہا: ’’برخوردار! مَیں کسی کو داخلہ نہیں دیتا۔ آپ غلط جگہ آئے ہیں۔ آپ سیکریٹری تعلیم کے پاس جائیں۔‘‘
مَیں نے جواباً کہا کہ مَیں آپ کے پاس آیا نہیں ہوں، بلکہ بھیجا گیا ہوں…… جس پر دوسرے سیکریٹری نے اعظم خان سے کہا کہ لگتا ہے کہ پرنسپل کالج اور ڈائریکٹر کالجز امین کو دوبارہ داخلہ نہیں دینا چاہتے۔ اس لیے یہ محترم آپ کے پاس آئے ہیں۔ تب اعظم خان نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ آپ جائیں، مَیں کچھ کرلوں گا۔
یوں مَیں واپس مینگورہ آیا اور دوبارہ کالج کے پرنسپل جاجا سے ملا۔ اُنھیں ساری رام کہانی سنائی۔ وہ غور سے سنتے رہے۔ بعد میں رخصتی کے وقت مَیں نے اُن سے کہا کہ سیکریٹری تعلیم کی منظوری سے مجھے آگاہ کیجیے گا۔
وقت گزرتا گیا اور مَیں انتظار کرتا رہا، لیکن انتظار ختم ہو نے میں نہیں آ رہا تھا۔ اس دوران میں جنرل فضل حق سوات کے دورے پر آئے۔ اُن دنوں فریدون خان سوات کے ناظمِ اعلا تھے۔ اُن سے بھی میری جان پہچان تھی۔ اُنھوں نے جنرل فضل حق کے لیے گالف کورس کبل سوات میں ایک میٹنگ رکھی تھی۔ مَیں بھی اسی کام کے سلسلے میں وہاں چلا گیا۔ وہاں لوگوں کا ایک جم غفیر دیکھنے کو ملا۔ مُجھے معلوم تھا کہ اعظم خان بھی جنرل فضل حق کے ساتھ دورے پر آئے ہوں گے اور مَیں اُن سے مل سکوں گا اور اُن کا وعدہ اُنھیں یاد دلاؤں گا۔
گالف کورس میں گورنر کاٹیج کے بند کمرے میں مختلف محکموں کے سربراہان جنرل فضل حق سے نمبر وار بند کمرے میں مل رہے تھے۔ اس وجہ سے مجھے اُن سے ملاقات کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ غالباً اس معاملے میں فضل ربی راہی بھی میرے ہم راہ تھا۔ صبح سے غروبِ آفتاب تک جنرل فضل حق سے وفود کی ملاقات کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اتنے میں اچانک مظروف سلام صاحب ڈائریکٹر سکول سوات کی نظر مجھ پر پڑگئی۔ وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ روخان صاحب آپ یہاں کیا لینے آئے ہیں؟ مَیں نے اُنھیں کہا کہ مجھے سیکریٹری تعلیم اعظم خان سے ملنا ہے۔ اُنھوں نے کہا: ’’روخان صاحب! یہاں آپ کا اُن سے ملنا محال ہے۔ رات کو والئی سوات نے اُن کو کھانے پر مدعو کیا ہے۔ آپ اُن سے والئی سوات کے محل میں مل لیجیے گا۔‘‘
مجھے ڈائریکٹر سکول مظروف سلام صاحب کی یہ تجویز بھلی لگی اور رات کو والئی سوات کے محل کا رُخ کرلیا۔ وہاں مَیں نے محل کے باہر بہت سے لوگوں کو دیکھا۔ مجھے اپنے کام سے غرض تھی۔ اس لیے محل کی جانب بڑھنے لگا۔ اتنے میں پیچھے سے آواز آئی کہ آپ آگے نہیں جاسکتے۔ مَیں واپس مڑا اور اُس آدمی سے ملا جس نے مجھے آگے جانے سے منع کیا تھا۔ اُس کا تعلق سپیشل برانچ سے تھا۔ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ محل کیوں جا رہے ہیں؟ مَیں نے جواباً کہا کہ مجھے سیکریٹری تعلیم اعظم خان سے ملنا ہے۔ سپیشل برانچ کا وہ اہل کار میرا واقف تھا۔ اُس نے بتایا کہ محل میں آپ کا وہاں جا کر ملنا مشکل ہے۔ البتہ صبح کمشنر کی انیکسی میں ان سے ملنے کی کوشش کریں۔ مجھے اُس کی یہ تجویز اچھی لگی اور صبح کمشنر ہاؤس جاکر انیکسی سے باہر اعظم خان صاحب کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن وہاں جاکر معلوم ہوا کہ جنرل فضل حق صاحب شکار کھیلنے سویگلئ تحصیل نیک پی خیل گئے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اعظم خان صاحب کمشنر ہاؤس کی انیکسی میں محوِ خواب ہیں۔ وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ دس بجنے لگے کہ اسی اثنا میں سینئر وزیر ارباب جہانگیر صاحب، اعظم خان سے ملنے کمشنر ہاؤس پہنچ گئے۔ بعد میں وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کرجا نے لگے۔ مَیں نے اعظم خان سے بات کی۔ اُنھوں نے دوبارہ پشاور آنے کا کہا۔ مَیں نے عرض کیا کہ یہاں آپ سے ملنے کی غرض یہ ہے کہ مجھے دوبارہ پشاور نہ آنا پڑے۔ کیوں کہ ایک دفعہ پہلے پشاور آچکا ہوں۔ تب اُنھوں نے کہا کہ ’’چلیں، مَیں پشاور جاکر آپ کا کام کروادوں گا!‘‘
چند دن بعد جاجا پرنسپل صاحب نے مجھے فون پر بتایا کہ محمد امین کو دو شخصی ضامنوں کے ہم راہ میرے دفتر میں کل صبح بھیج دیں۔ یوں محمد امین صاحب کو کالج میں دوبارہ داخلہ مل گیا۔
بعد میں محمد امین صاحب جماعتِ اسلامی کے ایک سرکردہ رہنما بن گئے اور انتخابات جیت کر ایم پی اے بھی منتخب ہوئے۔ اُنھوں نے اپنے حلقے کے لیے ڈھیر سارے تعمیراتی کام کیے، لیکن افسوس اب جب بھی محمد امین صاحب انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، تو جیت ان سے کوسوں دور چلی جاتی ہے۔ کیوں کہ ہمارے ہاں کسی کی اچھی کارکردگی کو جیت کی ضمانت نہیں سمجھا جاتا۔ اب تو ’’یوتھیوں‘‘ کا دور ہے، جو مزید کچھ عرصہ اور چلے گا۔ در اصل اس پارٹی میں صرف عمران خان کا نام چلتا ہے۔ کار کردگی کو نہیں دیکھا جاتا۔ اگر غور کیا جائے، تو امیر مقام نے بھی سوات میں ڈھیر سارے تعمیراتی کام کیے ہیں، لیکن جب بھی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، تو ناکامی کا منھ دیکھتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں سابق وزیرِ اعلا محمود خان نے سوات اور خاص طور پر اپنے حلقۂ انتخاب میں جو تعمیراتی کام کیا ہے، وہ ریکارڈ ہے، لیکن جب وہ عمران خان کی کشتی میں سوار نہیں تھے، توشکست کھاگئے، اور ایسے اشخاص اس پارٹی سے آزاد حیثیت سے جیت گئے جن کا نام بھی کسی نے نہیں سناتھا۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں