قارئین! مَیں جمعہ پڑھنے حضرت مولانا رحیم اللہ بابا جی کی مسجد جایا کرتا تھا۔ جب تلک وہ حیات تھے، تو یہی میرا معمول تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد مَیں اُن کے حجرے میں کچھ سننے، سیکھنے اور مختلف لوگوں کو قریب سے دیکھنے کی غرض سے جاتا۔ اگر اُس دن میرے ساتھ کوئی مہمان بھی ہوتا، تو مَیں اُسے بھی ساتھ لے جاتا اور باباجی سے اُس کا تعارف کرا دیتا۔ باباجی اُسے خصوصی دعائیں دیتے۔
جمعے کے روز باباجی کے حجرے میں دور دور سے لوگ اُن سے ملنے آتے تھے۔ وہ آئے ہوئے سب مہمانوں کی آؤ بھگت کرتے۔
ایسے ہی ایک دن جب مَیں جمعہ پڑھنے مسجد گیا، تو خلافِ معمول مجھے کسی خاص ہستی کی موجودگی کا احساس ہوا، لیکن مَیں اُنھیں پہچاننے سے قاصر تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد مَیں دیگر لوگوں سے پہلے حجرے جا پہنچا، تو میری نظر ایک اجنبی پر پڑی، جو دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ ساتھ ہی باباجی اُس کے آرام کی خاطر اُس کے سرہانے تکیہ رکھ رہے تھے۔ مَیں سمجھ گیا کہ وہ ہستی یہی اجنبی ہوسکتا ہے۔
اس دوران میں اور لوگ بھی آگئے، لیکن مَیں بابا جی کے قریب ہی بیٹھا تھا۔ وہ اجنبی بابا جی سے کَہ رہا تھا کہ مَیں لوگوں کے پرانے جوتے مرمت کرتا تھا۔
حاجی خونہ گل صاحب نے مسجد بنائی تھی اور دارالعلوم بننے کے قریب تھا۔ اجنبی کہنے لگا کہ ایک دن مَیں نماز پڑھنے مسجد گیا۔ اذان کا وقت تھا اور مسجد میں اذان دینے والا موجود نہیں تھا، تو مَیں نے اذان دی۔ نماز پڑھنے کے بعد مَیں واپس جا رہا تھا کہ میری سماعت سے کسی کی آواز ٹکرائی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا، تو حاجی خونہ گل صاحب میری جانب دوڑے چلے آرہے تھے۔مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے: ’’بھائی صاحب ذرا رُک جائیں۔‘‘ مَیں رُک گیا۔وہ میرے قریب پہنچ گئے، تو کہنے لگے کہ آج سے پانچ وقت اذان آپ دیا کریں۔ مَیں نے جواباً حاجی صاحب سے عرض کیا کہ میرا گھر یہاں سے دور شاہدرہ (وتکے ) پہاڑی کی چوٹی پر ہے۔ مَیں صبح اور عشا کی اذان دینے نہیں آسکتا۔ البتہ دوپہر، عصر اور مغرب کی اذان دینے میں مجھے کوئی دقت نہیں ہوگی۔ وہ بہ ضد تھے اور میں بار بار معذرت خواہانہ انداز سے ٹال رہا تھا۔ بالآخر حاجی صاحب کی ضد سے مجبور ہوکر مَیں نے ہامی بھرلی۔ مَیں مسجد خونہ گل میں اذان دیتا رہا۔ اسی اذان دینے کی برکت سے میرے بیٹے فضل رحیم، قاری سعید اور فضل رحمان عالمِ دین اور حافظِ قرآن بن گئے۔
انھوں نے آگے کہا کہ میری سبھی بیٹیوں نے قرآن حفظ کیا ہے۔ اللہ تعالا کے خصوصی فضل سے میرے دن پھر گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مجھے اللہ تعالا نے خصوصی رحم و کرم سے نوازا ہے۔
اُس کے بعد اُس اجنبی نے باباجی سے کہا کہ ایک رات ہمارے گھر میں چور گھس آئے۔ مَیں نے چوروں سے کہا کہ بے شک آپ ہمارے گھر سے چوری کرلیں، لیکن ا تنی مہلت ہمیں عنایت کریں کہ ہمارے گھر کی خواتین باپردہ ہوکر گھر سے باہر نکل جائیں۔ ہم بھی گھر سے باہر نکل جائیں گے، اور آپ نے جو کچھ ہمارے گھر سے لے جانا ہے، وہ لے جانے میں آپ کو آسانی ہو۔ چوروں نے جب یہ سنا، تو وہ چوری کرنے کی بہ جائے خالی ہاتھ ہمارے گھر سے چلے گئے۔
قارئین! وہ میرے علاوہ کسی کے لیے اجنبی نہیں تھے۔ اُنھیں لوگ صوفی صاحب کے پیارے نام سے مخاطب کرتے تھے اور اسی نام سے مشہور تھے۔
اُس روز اُنھیں مَیں نے اپنی زندگی میں پہلی اور آخری بار باباجی ہی کے حجرے میں دیکھا تھا۔ اُس کے بعد پھر وہ مجھے کبھی نظر نہ آئے۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
