امجدعلی سحابؔکالم

امیر دوست خان دھوبی

90ء کے عشرے کی بات ہے، تاج چوک میں قائم مدرسے سے چھٹی ہونے کے بعد واپسی کے وقت ڈاکٹر عبدالوہاب المعروف ’’چاڑا ڈاکٹر‘‘ کی گلی سے گزرتے ہوئے ایک سفید ریش ستار بجانے والے کی دُکان کے سامنے آکر غیر ارادی طور پر میرے قدم رُک جاتے۔ عصر کے دس پندرہ منٹ گزرنے کے بعد مذکورہ سفید ریش ستار اُٹھاتے اور اسے بجانے میں اس قدر محو ہوجاتے کہ کئی دفعہ گلی سے گزرنے والے موسیقی سے محظوظ ہونے کی خاطر کھڑے ہوتے اور ایک طرح سے ہر آنے جانے والے کے لیے گزرنے کا راستہ بہ مشکل بچا رہتا۔
آج سوچتا ہوں کہ وہ سفید ریش پورا دن مشقت کرنے کے بعد عصر اور مغرب کے درمیانے وقفے میں خود کو تازہ دم کرنے کی خاطر ستار بجایا کرتے تھے۔ مذکورہ سفید ریش کوئی اور نہیں ’’امیر دوست خان دھوبی‘‘ تھے۔
محلہ وزیر مال (مینگورہ) میں ’’ڈَن‘‘ سے لے کر ملک جہانگیر خان (مرحوم) کے عالی شان گھر تک ایک لمبی گلی تھی جس میں کئی کچے گھر تھے۔ مذکورہ کچے گھروں میں ایک میں امیر دوست خان (مرحوم) مع اہل و عیال رہایش پذیر تھے۔ ’’ڈَن‘‘ دراصل ’’ڈھنڈ‘‘ (تالاب) کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ میرے والد فضل رحمان المعروف علی رحمان (مرحوم) کے بہ قول ان کے لڑکپن میں اس جگہ بارش کا پانی آکر جمع ہوتا تھا، جس سے یہ جگہ ایک بڑے تالاب کی شکل اختیار کرلیتی۔ لڑکے بالے اکثر گرمی کے دنوں میں مذکورہ تالاب میں نہایا کرتے۔ تب سے اس جگہ کا نام ڈَن پڑگیا ہے۔
اب ’’ڈَن‘‘ باقاعدہ ایک محلہ ہے، جس میں ایک مزار بھی ہے، جسے ’’شہید‘‘ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ ’’شہید‘‘ کے حوالے سے مجھے کچھ علم نہیں۔ ’’ڈَن‘‘ کے حوالے سے جہانزیب کالج کے شعبۂ پشتو کے چیئرمین ڈاکٹر عطاء الرحمان عطاؔ سے بات ہوئی، تو اُنھوں نے کہا کہ پشتو میں ہم اسے ’’ڈَنڈ‘‘ لکھتے ہیں، جس کے لیے موزوں لفظ ’’تالاب‘‘ (فارسی) برتا جاتا ہے۔
یہ مَیں بہک کر کہاں نکل گیا، واپس اپنی آج کی نشست کی طرف آتے ہیں۔ امیر دوست خان (مرحوم) ایک خوددار انسان تھے۔ مجھے اُن کا جو ناک نقشا یاد ہے، وہ کچھ یوں ہے: سرو قد، کسرتی بدن، خمیدہ کمر (پیرانہ سالی کی بہ دولت)، چہرہ سرخ و سپید، آنکھیں دریائے سوات کے پانی کی طرح نیلی، داڑھی اور بالوں کی رنگت تازہ گری ہوئی برف کی طرح سپید، طبعاً خاموش اور اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے۔
دن بھر کام کرتے، لیکن جب بھی تھوڑی سی فراغت ملتی، تو ستار اُٹھا کر دائیں ہاتھ کی چاروں انگلیوں کی مدد سے اُس کے تاروں کو چھیڑتے۔ یوں مدھر اور کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی جنم لیتی۔ میرے والد (مرحوم) اکثر کہا کرتے کہ مَیں نے امیر دوست خان کی ٹکر کا ستار نواز مینگورہ شہر میں نہیں دیکھا۔
کئی بار اُنھیں تاروں کو چھیڑتے ہوئے ترنگ میں آکر سر نیچے کرکے ستار کو گردن کے اُوپر رکھ بجاتے ہوئے دیکھا ہے۔ بڑے کہا کرتے کہ ’’ایک ستار نواز کا یہ عمل اُس کے کمال مہارت کی نشانی ہوتا ہے۔‘‘
امیر دوست خان دھوبی کا وہ کام جس کے لیے میری عمر کے یا مجھ سے بڑے مینگروال اُن کے احسان مند ہیں، وہ ’’چنبل‘‘ یا ’’دھدری‘‘ (سپونڑے) کا علاج کرنا تھا۔
مشہور تھا کہ امیر دوست خان (مرحوم) صوفی ازم پر یقین رکھتے تھے۔ لڑکپن اور جوانی میں کسی پیر کے شاگردِ خاص رہ چکے تھے۔ پیر نے مرید کو دَم کے ذریعے چنبل کا علاج سکھایا تھا۔ جب بھی ہمارے جسم کے کسی حصے پر چنبل کا نشان ظاہر ہوتا، گھر میں خواتین کی طرف سے امیر دوست خان (مرحوم) کے پاس جانے کا مشورہ دیا جاتا۔
طریقۂ علاج انتہائی سادہ تھا۔ بچپن میں اکثر میری گردن پر چنبل کے نشان ظاہر ہوتے رہتے۔ ہر بار اُن کے آستانے پر حاضری دیتا اور تکلیف بیان کرتا۔ وہ اولاً نشان کا جائزہ لیتے،ثانیاً زیرِ لب کچھ کلمات ادا کرتے، ثالثاًتھوڑا سا لعابِ دہن شہادت کی انگلی پر اُٹھاتے اور مذکورہ نشان کے اوپر مرہم کی طرح لگاتے۔ اس کے بعد ایک پلاسٹک کی بوتل سے دَم شدہ نمک کی چھوٹی سی مقدار انگشتِ شہادت کی مدد سے نکالتے اور کہتے: ’’اسے کھالو، ٹھیک ہوجاؤگے!‘‘
اگلے چند دنوں میں چنبل سے پڑنے والا زخم مع نشان ختم ہوجاتا۔
امیر دوست خان (مرحوم) کے دو بیٹے مجھے یاد ہیں۔ ایک میری عمر کا تھا، جو بالکل اپنے والد پر گیا تھا۔ والد کی طرح لمبا تڑنگاا ور سرخ و سپید…… مگر امیر دوست خان کے بھتیجے محمد سلیم احسن کے مطابق اُن کے چار بیٹے ہیں۔ سب سے بڑا اختر منیر، اُس کے بعد بالترتیب فضل حیات، حکیم خان اور اجمل خان ہیں۔
محمد سلیم احسن اپنے چچا (امیر دوست خان مرحوم) کے بارے میں کہتے ہیں کہ ریاستی دور میں ہمارے دادا کے بعد چچا بلاک پرنٹنگ (Block Printing) کے ماہر مانے جاتے تھے۔ ’’میرے والد (امیر خان) کہا کرتے تھے کہ ریاستی دور میں بلاک پرنٹنگ کے لیے کپڑا بمبئی سے آتا تھا۔ ہندوستان سے کپڑا پاکستان آتا۔ ملاکنڈ تک کپڑا پہنچتا، تو گدھوں اور خچروں کی مدد سے پھر ریاستِ سوات لایا جاتا۔ محلہ وزیر مال میں ’دوبیانو منڈو‘ (دھوبیوں کا برآمدہ) تک مذکورہ گدھے اور خچر پہنچتے، تو مال اُتار لیا جاتا۔‘‘
محمد سلیم احسن سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں پشتو میں لکھتے ہیں کہ ’’ریاستِ سوات کی تاریخ میں بلاک پرنٹنگ کی آخری نسل امیر دوست خان (سپین دادا) کی پیڑی ہے۔ 1969ء میں جیسے ہی ریاستِ سوات، پاکستان میں مدغم ہوئی، تو بلاک پرنٹنگ رفتہ رفتہ تنزل کا شکار ہوئی۔ 1975ء تک یہ تقریباً سوات میں نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔‘‘
محمد سلیم احسن کے بہ قول: ’’دوبیانو منڈو میں کپڑا بلاک پرنٹنگ کے عمل سے گزرتا،تو اس کے بعد اسے دھونے کے لیے ملابابا سکول یا پھر فارم گراؤنڈ لے جایا جاتا، جہاں ایک بڑے تھال میں پانی اور دھوبی سوڈا ڈال دیا جاتا۔ تھال کے نیچے لکڑیوں کی مدد سے آگ روشن کی جاتی اور اُبلتے ہوئے پانی میں بلاک پرنٹنگ کے عمل سے گزرا ہوا کپڑا ڈال دیا جاتا۔ اس کے بعد کپڑا پٹرول میں ڈالا جاتا، جس کی وجہ سے رنگ پختہ ہوجاتا۔ آخر میں فارم گراؤنڈ کے ساتھ بہنے والی ندی میں کپڑا دھو دیا جاتا۔ اس کے بعد تان کی شکل میں کپڑا واپس گدھوں یا خچروں پر لاد کر ملاکنڈ بھیج دیا جاتا، جہاں سے اس کے واپس بمبئی بھیجنے کا سامان کیا جاتا۔
1975ء کے بعد جب بمبئی سے کپڑا آنا بند ہوا، تو امیر دوست خان (مرحوم) نے ہسپتال کے کپڑے (بیڈ شیٹ وغیرہ) دھونے کا کام شروع کیا۔ یوں آہستہ آہستہ لوگ دھونے یا استری کرنے کی غرض سے اپنے کپڑے، واسکٹ اور کوٹ لانے لگے اور زندگی کا پہیا ایک بار پھر چلنا شروع ہوا۔
محمد سلیم احسن کہتے ہیں: ’’میرے والد (امیر خان) اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ اُن کے بعد امیر دوست خان (مرحوم) تھے۔ امیر تاب خان میرے دوسرے چچا تھے، جو بعد میں انتقال کرگئے۔ یہ نام گم نہ ہونے پائے اس لیے دادا نے ہمارے تیسرے چچا کا نام بھی امیر تاب خان ہی رکھا۔‘‘
بہ قولِ فاطمہ حسن
کتنے اچھے لوگ تھے کیا رونقیں تھیں ان کے ساتھ
جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کردیا

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں