کالممنصور خوشحال

غم کی تشریح بڑی مشکل تھی

عصر کا وقت تھا- سورج “گوکند” کی غم ذدہ وادی کو الوداع کہہ رہا تھا- بونیر میں آئے ہوئے سیلابی ریلے کا آٹھواں دن تھا اور ہم “کوٹ درہ” کے دشوار گزار راستوں پر چل رہے تھے – راستے ویران، چہرے غمگین اور پانی کا شور,
ایک وقت تھا، جب بھی دوستوں کے ساتھ سیر سپاٹے کا من کرتا، ہم گوکند، کوٹ یا کلیل کا رخ کرتے ۔ ان جگہوں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے اور جب بھی موقع ملتا “گوکند ڈنڈ” میں نہاتے تھے ۔ وہ چشمے اور درخت روح کو تازگی بخشتی اور ہمیں فطرت کے قریب لے جاتے تھے – ہم دنیا کے سارے غم اتارتے اور تکاوٹ ختم ہوتی۔ ایک قسم کی ایکو تھراپی ہوجاتی اور آج! یہاں پر زندگی کا آس باقی نہ رہا- پانی کی طغیانی نے یہاں کی خوبصورتی ختم کردی- کلاوڈ برسٹ نے زندگی کا کایا پلٹا۔ اب “گوکنڈ ڈنڈ” کے جگہ صرف پتھروں کا ڈھیر ہی رہ گیا ہے ۔
اُدھر ایک مقامی باورچی “فاتح فاؤنڈیشن کراچی” کی مدد سے لوگوں کے لیئے شام کا کھانا تیار کرنے میں مصروف تھا- اتنے میں ایک لڑکا آیا جو کہ باورچی کو جانتا تھا اور کہا: “جلدی کریں، ہم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا” لڑکا تقریباً 2 2سال کی عمر کا لگ رہا تھا- میں نے اُس کی بات سنی، پوچھا کہ تعلق کہاں سے ہیں؟ سیلاب میں نقصان کتنا ہواہے ؟ انہوں نے کہا، ہم اِدھر ہی “کوٹ درہ” میں رہتے ہیں لیکن سیلاب کی وجہ سے ہمارا گھر بری طرح متاثر ہوا- ابھی شام کو ہم “پیر بابا” اپنے ماموں کے ہاں رات گزارنے جاتے ہیں اور صبح اِدھر آتے ہیں- سیلاب کی وجہ سے ہمارے خاندان کے آٹھ افراد شہید ہوئے ، ساری جائیداد ختم ہوئی، ہم بے گھر ہوگئے اور کوئی آسرہ باقی نہ رہا- میں “عمان” میں تھا- جب سیلاب کے بارے میں سنا تو فوراً گھر آنے کا بندوست کیا اور دو، تین دن بعد گھر پہنچ گیا- افسوس یہ کہ مرنے پر بھی اپنوں کا دیدار نصیب نہ ہوا-
اس کے بعد میں نے کسی سے سنا کہ ابھی تک ایک بچہ لاپتہ ہے – ایک فلاحی ادارہ اسے ڈھونڈنے میں مصروف تھا – ہم اس لاپتہ بچے کے گھر گئے – اس کا والد صاحب بستر پر زخمی پڑا تھا- میرے پوچھنے پر انہوں نے دھیمے سے لہجے میں کہا کہ “میرے بچے کی لاش ابھی تک نہیں ملی- میں خود زخمی حالت میں اس کو ڈھونڈنے گیا لیکن نہ ملا- میں ہسپتال میں داخل تھا اس لیے مجھے اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں کا حال معلوم نہیں تھا- سیلاب میں میرا گھر بہہ گیا اور میں نے ایک بچہ کھودیا- ابھی ہم اپنے چچا کے ہاں رہتے ہیں ”
ہم نے اپنا سفر جاری رکھا اور راستے میں ایک بوڑھی عورت ملی- ہمارے پوچھنے پر پہلے تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا پھر کہا کہ دو تین عدد مویشی پالتے تھے – سیلاب کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے اور اصطبل بھی متاثر ہوئی- گھر کا بھی اتنا ہی خراب حال ہے کہ ہم گھر میں رات گزارنے سے ڈرتے ہیں اس لیے پڑوسیوں کے ہاں رات گزارتے ہیں- انہوں نے اس قدر بات کی کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے – اُس کی حالت بلکل ایسی تھی کہ:
وطن می خڑو اوبو یوڑو
پہ غٹو غٹو ورتہ گورم زڑہ می چوینہ
ہم نے اُدھر ایک امدادی تنظیم دیکھی جو ہاتھ میں پارسل لیے خود ایک ایک گھر کی دہلیز تک چاول پہنچا رہے تھے – وہ بھی تھک چکے تھے اور ہم بھی- ہم نے ایک بڑے چٹان پر وقفہ کیا- کچھ گپ شپ ہوئی- گپ شپ کی کیا کہیں، بس انہیں متاثرہ لوگوں کی لاحاصل زیست کی کہانی…… مجھے جس بات نے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ کہ وہ تنظیم کے لوگ کسی دوسرے ضلعے سے آئے ہوئے تھے – سوچا کہ اتنے پُرخلوص بندے جو کہ خود اپنے ہاتھوں سے گھر گھر تک پارسلز پہنچا رہے ہیں اور یہ غم نہیں کہ شام ہو رہی ہے اور ہمیں گھر جانا ہوگا- میں نے ان لوگوں کی آنکھوں میں انسانیت کے لیے تڑپ دیکھا-
اس وقت شام ہوچکی تھی اور ہم “کوٹ درہ” کے آخری سرے تک پہنچ گئے تھے – اُدھر ایک لڑکا تھا- انہوں نے کہا کہ میں اُس وقت ماموں کے ہاں گیا تھا جب واپس آیا اور گھر دیکھا تو سیلاب سب مویشیوں کو لے گیا تھا اور اصطبل بھی متاثر ہوئی تھی- میں نے ان سے پوچھا کہ کہیں سوچا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ زندگی کیسے گزرے گی؟ وہ بے حس وحرکت، گم سم اور چپ چاپ ایک بت جیسا کھڑا تھا، منہ سے بے اختیار ہی ایک لفظ نکلا “بس”…. میں بھی خاموش رہا- سوچا کہ اگر اور چھیڑنے کی کوشش کی تو یہ بھی پگلنے لگے گا اور روئے گا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اِن لوگوں کا صبر تمام ہو چکا ہے –
اس کے بعد ایک اور شخص سے ملے – انہوں نے کہا کہ مالی نقصان کے علاوہ سیلاب میں ہمارے خاندان کے چار افراد شہید ہوئے – تین کی لاشیں ہمیں ملی ہیں مگر ایک ابھی بھی لاپتہ ہے – میں سارا دن ملبے میں انہی کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ابھی تک وہ نہیں ملا- میں نے امدادی سامان اور امدادی تنظیموں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سارے پختون، مسلم اور ہم وطن بھائیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان ڈھلوانوں، چٹانوں اور ویران راستوں پر بھی لوگوں نے سفر کرکے ہمارے لئے خوراک پہنچائی ہے – وہ ان سے اس سے قدر مطمئن تھا۔
اس کے علاوہ مایوسی اور افسردگی…… کہا کہ یہاں زندگی تھی، امید تھی- ہم اپنی محنت و مزدوری کرتے تھے ، بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش کرتے تھے ، اپنے کاروبار کو چلاتے لیکن ابھی کچھ باقی نہ رہا- اس کی تھکاوٹ، بے بسی اور مایوسی کا علم کچھ یوں تھا کہ:
پریگدہ چی خڑ سیلاب می یوسی
پہ لامبوزن جانان بہ ڈیرہ نازیدمہ
اس کے بعد ہم نے واپسی کا راستہ اختیار کیا- راستے میں ایک اور شخص کی کہانی سنی- کہا کہ میں “مری” کے ایک ہوٹل میں کام کرتا ہوں- جب سیلاب کا سنا تو سب کچھ چھوڑ کر گھر آیا- مشکلات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شکر ہے کہ لوگوں نے ہمیں خوراک پہنچائی۔ ابھی ہمیں بجلی اور سڑک کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہم ان چٹانوں میں نہ کسی مریض کو ہسپتال لے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ہمارے بچے سکول جا سکتے ہیں۔
شب تاریکی کی چادر اوڑھ رہی تھی- آسمان پر بادل چھا گئے ہر طرف خاموشی تھی فقط پانی کا شور رہ گیا تھا جس سے ابھی ڈر لگتا تھا- وہی بات یاد آئی جو میں نے کہی “نور ال امین یوسفزئ صاحب” سے سنا تھا کہ “دنیا نے بہت ترقی کیا مگر انسان کے دکھ اور درد کو کم نہ کیا-” اُن سارے راستوں کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ یہ ساری پتھر اور پہاڑ مجھے زبان حال سے یہ شعر سناتے ہیں کہ؛
غم کی تشریح بڑی مشکل تھی
اپنی تصویر دیکھائی ہم نے

تبصرہ کریں