’’گل بانڈئی‘‘ نام ہے ایک چھوٹے سے خوبصورت سے نامی گرامی قصبے کا، جو خیبر پختونخوا کے وادئی سوات میں سیدو شریف مرغزار روڈ پر ایک ندی کی بائیں پشت صفحۂ ہستی پر موجود ہے۔ ’’گل‘‘ پھول اور بانڈئی ’’پوشاک‘‘ کو کہتے ہیں یعنی پھولوں کی پوشاک۔ واقعی ، کائنات کے اِس قطعۂ زمین نے پھولوں، پھلوں اور سبزے کا جامہ حساب کتاب سے کچھ زیادہ زیبِ تن کیا ہوا ہے۔ پھولوں کے رنگ بھرے اس قصبے کے طول و عرض پر اس وقت ’’خزان کی بہار‘‘ چھائی ہوئی ہے۔ اس کی یہ شان بھی نرالی اور دل پذیر ہے،جو حسرت و یاس کی کیفیات میں بھی اُمیدوں کی دلالی کا سماں باندھ رہی ہے۔ علینا رضوی کی ایک غزل کا یہ شعر یہاں کے ماحول سے کتنی مطابقت رکھتاہے! ’’سینگ اِز بیلیونگ‘‘۔
خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے
بہار آنے کی صورت نکل بھی سکتی ہے
لیکن معاف کیجئے گا اس دور میں بھی اِس بستی کی پستی دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ پاکستان کے ریاستی ریکارڈ اور جغرافیائی حدودِ اربعہ میں شائد شامل نہیں، ووٹ ووٹ کے کھیل کود کے علاوہ۔ ہوتی تو آدھی صدی کی ریاستی محکومی کے بدلے اور کچھ نہیں ، آمد و رفت کے لئے کوئی ڈھنگ کی سڑک تو بنی ہوتی۔ تیرہ نومبر 2017ء کی شام یہاں پراتنی گرد آلود ہے، جتنی اِس مہینے اور طویل خشک سالی کے موسم میں عمومی طور پر ہونی چاہئے۔ آج کی شام اِس دیہہ میں تاریخ کے اوراق میں کوئی سوا سو سال سے گم پڑی، بڑی عمدہ نازک دلچسپ اور سچی کہانی کے مختلف پہلوؤں پربحث و مباحثہ ہونا ہے۔ جس پر طویل تحقیق کی گئی، کتاب لکھی گئی، مخصوص زاویوں پر لاتعداد آرٹیکلز اور خبریں بھی شائع ہوئیں۔ 15 ستمبر 2017ء کواس متنازعہ تعلق پرفلم بھی بنی، جس نے اب تک ساٹھ ملین ڈالرز سے زیادہ بزنس کیا۔ یہ کہانی ہے ایک ملکہ کا اپنے مُنشی کے ساتھ انوکھے رشتے کی، زمین کے ساتھ آسمان کے قلابے ملنے کی انہونی کی، تخت اور تختے کے آپس میں گٹھ جوڑ کی۔ اِس واقعے کے پس پردہ محرکات کی کڑی سے کڑی ملانی ہے اور ہندوستان کی مجموعی حالت و سیاست، وہاں کے مسلمانوں کے طرزِ معاش، معاشرت، سماج اورسیاست پر اس تعلق کے اثرات کا سرسری جائزہ لینا ہے۔ آیا یہ تعلق آقا اور غلام کی کسوٹی پر ہی پرکھا جائے؟ اسے حاکم اور محکوم کی نظر سے دیکھا جائے یامحبت وعقیدت کے پلڑے میں تولا جائے؟ یاری اور دلداری کی شکل میں جانچا جائے یا اِن تمام پہلوؤں کے تناظر میں اس کی کھچڑی پکائی جائے ۔کئی عالم و فاضل دوست اس بحث و مباحثہ کے بہانے سے اکھٹے ہو رہے ہیں، شوکت شرار کے مہمان بن کر۔ پروفیسر محمدروشن اور ہم بہ نفس نفیس سب سے پہلے یہاں پہنچنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ کچھ مہمانوں سمیت میزبان کی آمد کا انتظار بھی کرنا ہے، تو وقت گزاری کے لئے گرد و پیش پرنظر ڈالتے ہیں، اپنی آنکھ سے۔ ہماری ناک کے عین نیچے درۂ مرغزار سے آنے والی ندی کاآلودہ پانی کہیں رُکا ہواکہیں متحرک سانظر آ رہا ہے۔ جو اِن دنوں اتنا کم ہے کہ انسانوں کی پھیلائی گئی گندگی کا بوجھ دریائے سوات تک پہنچانے کی سکت بھی نہیں اس میں۔ کبھی کبھاربرسات کے موسم میں یہ ندی غضبناک بھی ہو جاتی ہے، تو مینگورہ کے اسرار و رموز کو اُلٹتی پلٹتی ہے اور پھر مارے ڈر کے دریائے سوات میں چھپ کر اپنی جان ’’جانِ دریا‘‘ کے حوالے کر دیتی ہے۔ اپنی پیشانی کے عین سامنے مرغزار سڑک کے اُس پارننگی سی بے ڈھنگی سی پہاڑی پڑی دکھائی دیتی ہے، جو تاحال عمران خان کی سونامی شجرکاری منصوبے سے محروم لگتی ہے۔ غور سے دیکھیں تو لگتا ہے جیسے قدرت نے اس گلوبل ولیج میں ہمیں دنیا سے باپردہ اور بے خبررکھنے کے واسطے خواہ مخواہ اس پہاڑی کی ڈیوٹی لگائی ہو۔ لیکن مجھے بادی النظر میں اس کا اور کوئی کام نظر نہیں آ رہا۔ دائیں جانب گلے کی سٹیئرنگ موڑتے ہیں، تو ایک پہاڑی ٹیلے پرہزار سال سے قائم و دائم سپل بانڈئی گاؤں، جو قریب قریب پانچ چھے سوگھروں پر مشتمل ہے، پوری وادی پر قدیم قدو قامت کاراج جتاتا نظر آتا ہے۔ لوگ یہاں کے بڑے وسیع النظر اور روشن خیال ہیں لیکن گردشِ ایام یہاں اب بھی آگے نہیں پیچھے کی طرف سرکتے لگتے ہیں یا ’’سٹینڈ سٹل‘‘کی گرفت میں ہیں، سوائے جامع مسجد شہید بابا کی عمارت کے، جس میں ایک دو بار توسیع کی گئی ہے۔ وہ بھی اپنی مدد آپ کے تحت۔ یا سوائے پلاسٹک کے ’’نازکی اس کے لب کی کیا کہئے‘‘ والے پائپوں کے، جو ’’ٹوٹ بہ ٹوٹ‘‘ کے عمل کا شکار ہوئے یہاں کی گلیوں میں بے حساب اور برہنہ و بے نقاب لگے پڑے ہیں، تاکہ گھروں میں پہنچنے کی بجائے گلیوں ہی میں قیمتی پانی ان پائپوں کے ’’کونوں کھدروں‘‘ سے رستا رہے۔ گویاسرکار کے فنڈز کے بے دریغ ضیا ع کے لئے پانی کا یوں ضیاع بھی ضروری ہے؟ اور تو یہاں کچھ بھی نہیں بدلا۔ ہندوؤں کے زمانے کی ہٹیاں اور گلے کوچے اب بھی موجود ہیں یہاں۔ دودھ اس پنڈ میں خالص ملتا ہے نہ ملاوٹی بلکہ بناوٹی ملتا ہے کہ زمانہ ملک پیک کا ہے۔ ہاں، گھروں کی دیواروں پر لگے گوبر کے اُپلے سوکھ جائیں، تو وہ خالص ملتے ہیں، لیکن فروخت کے لئے نہیں، اپنے گھروں میں جلانے کے لئے۔ یہاں کی زمینیں کیا، پتھر اورپہاڑ کیا، دیواریں بھی پیداواری نظام میں اپنا رول پلے کرتی ہیں۔ جنوبی منظر کی کیا بتائیں۔ آپ جانتے ہوں گے اس علاقے پر مرغزار نام کا ایک گاؤں ایک عرصے سے قابض، اپنی ’’معاشی و معاشرتی مسکن‘‘ میں ساکت و جامد ہے۔ سابقہ ریاست کے والی کا یہ گرمائی ہیڈ کوارٹر اب کیا منظر پیش کرتا ہے؟ یہ جاننے سے نہ جاننا بہتر ہے۔ تاہم اس کے ’’کھنڈر اب بھی بتاتے ہیں کہ عمارت عظیم تھی۔‘‘
گل بانڈئی،جہاں سے ہم نے گردو پیش کا جائزہ پیش کیا، دراصل گاؤں سپل بانڈئی کا ’’ایکس ٹینشن‘‘ لگتا ہے، لیکن ہمارے اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کروانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ یہ میاں دولت بابا کی اولاد جانیں یا اُن کے اہل و عیال۔ ہم اتنا ضرورجانتے ہیں کہ اپنے دوست ’’میاں‘‘ شوکت شرار کا بسیرا ہے یہاں۔ ہم، جس کے ڈیرے پر اس وقت براجمان ہیں۔ دن بھر سورج کی پژمردہ کرنیں شرار کے کاشانہ سے مٹھاسوں اور کڑواہٹوں کی ملی جلی کیفیات ہتھیا کر ابھی ابھی بوریا بستر لپیٹ کر بہکتے چکراتے خدا کی پناہ میں چلی ہیں، خدا کاشکر ادا کرکے! ایسے میں گاہے بہ گاہے آنے والے مہمانوں کی کوئی گاڑی کچی سڑک کی طویل آسمانی موڑچڑھتے چڑھتے خاموش ماحول میں ارتعاش پیدا کر دیتی ہے اور گرد و غبار اُڑاتی ہے۔ میرے ساتھ بیٹھا پروفیسریہ گرد و غبار سگریٹ کے دھویں کے جلو میں آنتوں، پھیپھڑوں اور گردہ کلیجی کی گہرائی سے گزارتا ہوا کچھ عرصے بعدواپس نتھنوں کے ذریعے سے برآمدکرتا ہے ۔ کچھ گرد اور دُھواں مل جل کر مشترکہ طور پر اُس کے جسدِ خاکی اور سر کے چند نمائشی بالوں سے فلٹر ہوتا ہوا، آنکھوں کو بھی ودیعت ہوتا ہے۔ نتیجے میں اُن کی آنکھوں میں وقفے وقفے کے ساتھ آنسو کے قطرے بن پاتے ہیں، جو کچھ چھلکتے ہیں کچھ آنکھوں کے کونوں میں ’’ریزرو‘‘ رہ جاتے ہیں۔ لگتا ہے گویا کسی کے اس شعر کی تفسیر ہو۔
میں شور زدہ اِک خاک تھا، مِرا وارث مجھ میں آ بسا
مِرے آنسو میٹھے ہو گئے، میں اتنا رویا عشق میں
تاریکی چھا گئی ہے۔ ہم ایک نہ ختم ہونے والی بحث میں اُلجھ گئے ہیں۔ اکثر عاشق مزاج دوست پہنچ گئے ہیں اور ڈیرے کے ایک ہال میں فرشی نشستوں پر براجمان بھی ہو چکے ہیں۔ عشق و محبت کی توجیح و تشریح پر ’’اِنفارمل‘‘ گفتگو کی باتیں بیرونِ دیوار آنی شروع ہوتی ہے۔ ہم بھی ٹہلتے ٹہلتے ہال میں قدم رنجہ فرماتے ہیں۔ جہاں ایک طرف انگیٹھی میں جلتی ہوئی آگ کے الاؤ کی وجہ سے بڑی آرام دہ گرمی محسوس ہوتی ہے۔ باقی تین اطراف میں بچھے فوم اور تکیے خود ہی مہمانوں کو بیٹھنے کی دعوت دے رہے ہیں۔’’زائرینِ گل بانڈئی‘‘ کو خور و نوش کی توانائی بہم پہنچانے کے لئے بیچ میں ایک وسیع دسترخوان بھی بچھی پڑی ہے۔ محی الدین غازی اپنے ایک مضمون میں ایک کہاوت کی بات کرتے ہیں کہ دسترخوان نہ بچھے، تو ایک عیب اور بچھے تو سو عیب۔ جب کہ وہ اور ہم ’’دونوں‘‘ اس بات پر متفق ہیں کہ دسترخوان بچھے تو بہت خوب، نہ بچھے تو کوئی عیب نہیں۔ کیونکہ یہ کھانے پینے کا معاملہ توبغیر دسترخواں بچھائے بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ بس ’’بھوکے کو کیاچاہئے؟ بتیس دانت‘‘، تاکہ وہ اس کا استعمال بھرپور انداز میں کرسکے۔ موضوع پر بات کی شروعات سے پہلے پہلے بستی کے تازہ پرسیمن و ناشپاتی ، کولڈ سٹورکے سیب، پنجابی پاپ کارن اور امرود، افغانی و گلگتی ڈرائی فروٹس اور مشروباتِ شرقی، غربی و عجمی سے دسترخوان کو سجایا جاتا ہے۔ یو این ڈی پی کے رشید اخوند صاحب نے قدرے اونچی تکئے والی نشست سنبھالی ہے۔ کسی بولنے والے کے لئے اونچی جگہ سے بات کرنا زیادہ آسان اور سننے والوں کے لئے سمجھناآسان تر ہوتا ہے۔ وہ اس ’’ڈیبیٹ‘‘ کے تجویز کنندہ بھی ہیں اور ’’ماڈریٹر‘‘ بھی۔ جب کہ حاضردیگر معاملہ جات کے منتظم و نگران ہے۔ شوکت شرار، طالع مند، افتخار خان، محمد روشن، ڈاکٹر نعیم، سلطان حسین، عثمان اولسیار، حاضر گل ،امجد خان، عمران خان عرف ساز خان کے علاوہ کئی اور دوست تشریف فرما ہیں۔ کچھ دیر کے لئے ہم بھی اس نشست کے ’’مندوبین‘‘ میں شمار ہونے کے مستحق ٹھہرے۔ رحیم شاہ اچانک عازمِ لندن ہوئے اور افضل شاہ باچا پاپین خیلوی نجی گرام میں’’نجی‘‘ مصروفیات کی وجہ سے نہ آ سکے۔ پچھلے ایک عرصہ سے اُن کی ’’خانگی‘‘ معاملوں میں قدرے غیر ضروری اضافہ ہوا ہے۔ ہم دُعا گو ہیں کہ وہ اس مرحلہ سے بخیر نمٹیں۔ ویسے بچے سب کے پیارے ہوتے ہیں، لیکن باچا کو اپنے والے کچھ زیادہ پیارے لگنے لگے ہیں، خاص کر چھوٹے۔ بحث میں مزید دوست بھی شامل ہیں، لیکن یا تو اُن کے ساتھ ہماری پہچان نہیں یا وہ اتنے تاخیر سے آئے کہ ہم جائے وقوعہ سے ’’نَس‘‘ چکے۔ (جاری ہے)
previous post
next post
