’’دا د چا د زڑہ آواز دے؟‘‘ نذر محمد نذرؔ کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے نذرؔ کا پہلا شعری مجموعہ ’’بے جالے مرغئی‘‘ عوامی و ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا اور پلک جھپکتے ہی ہاتھوں ہاتھ لے بھی لیا گیا تھا۔ آج وہ مارکیٹ میں ناپید ہے۔
موصوف اِک درویش صفت انسان ہیں۔ پہاڑوں کے باسی ہیں اور غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن خدا نے آپ کی آوا زمیں جو سوز دے رکھا ہے، وہ کلام کے گداز سے بھی بڑھ کے ہے۔ آپ جب ترنم میں کلام کی لے کھینچتے ہیں، تو مجمع پہ سکتہ ہی تو طاری کردیتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ آپ کا کلام دل سے نکلتا ہے اور ہر دُکھی دل کو یوں لگتا ہے جیسے یہ اُسی کے دل کی آواز ہے۔ جبھی تو آپ نے اپنے دوسرے شعری مجموعے کا نام ’’دا د چا د زڑہ آواز دے‘‘ رکھا ہے۔ یہ مصرعہ ہی حسنِ بیاں کا شاہکار ہے۔ غالبؔ نے بھی اس موضوع سے ملتے جلتے مضمون کو کچھ اس طرح باندھا تھا کہ
دیکھنا تقدیر کی لذت کہ جو اُس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
کتاب کے ٹائٹل پہ دل کی شبیہ بناتا آگ کا دھکتا الاؤ گویا نذرؔ کے دل کی ترجمانی کررہا ہے جیسے وہ کہنا چاہتے ہوں کہ تپتے، جلتے دل سے جو ہوک نما چیخیں نکلتی ہیں، وہ میرے شعروں میں ڈھل کر آپ کے سامنے ہیں۔ فخرِ سوات مراد آرٹسٹ داد کے قابل ہیں جنہوں نے آپ کے کلام کو آپ کے دل کا ترجمان بناکر ٹائٹل میں بولتی تصویر کی صورت ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔
دو سو پندرہ صفحات کی اس مجلد کتاب کا صفحہ صفحہ، سطر سطر اور ہر ہر لفظ دہکتا انگارا ہے۔ جس میں داخل کا کرب اور خارج کا حرب باہم گتھم گتھا ہیں۔ کتاب پہ جن بڑے بڑے جغادری اساتذہ نے اپنے اپنے مقدمات لکھے ہیں، ان میں ڈاکٹر حبیب احمد، عبدالرحیم روغانےؔ ، لائق زادہ لائقؔ ، شہزادہ برہان الدین حسرتؔ اور ابراہیم بیدروال شامل ہیں۔ روغانی نے سائنٹفک اور لائق صاحب نے افسانوی انداز میں آپ کے کالم پر بحث کی ہے۔ ڈاکٹر حبیب نے اسے ’’اپنے‘‘ دل کی آواز کہا ہے، تو شہزادہ برہان الدین حسرتؔ نے اپنے مسجع اور مقفّیٰ نثر سے طائرانِ تخیل کو مقید کرکے انہیں نذر کی نذرؔ کیا ہے جبکہ ابراہیم بیدروال نے بھی لفظوں کی میناکاری کرکے کلام کو پرکھا اور کھنگالا ہے۔ گویا ان ناقدین نے بھارت کے معروف نقاد ’’نامور سنگھ‘‘ کے قول پہ عمل کیا ہو، جن کا قول ہے کہ ’’تنقید کا پیشہ میں نے اس لیے منتخب کیا کہ گھر میں کچھ سجانے سے پہلے اس کی مٹی اور گرد صاف کرلوں۔ ‘‘
نذر کا پورا کلام اُن کے دل کا ترجمان ہے، اُن کے دل کی آواز ہے جو پڑھنے اور سننے والے کو اپنی آواز لگتا ہے۔ یہ اِک ایسا گلدستہ ہے جس میں ہر رنگ کا پھول موجود ہے۔ اس میں گرد و پیش کے حالات کی ترجمانی، ظلم، جبر، حقوق پہ ڈاکا زنی، غربت، لاچارگی، عدم مساوات، نظام سے بغاوت، معاشرتی دو رنگی اور خان خوانین کے ظلم و ستم کی داستان بھی ہے، تو کہیں کہیں نذرؔ کا پرانا رومان بھی سر اُٹھاتا نظر آتا ہے۔ سماجی جبر کے حوالے سے لکھتے ہیں
دا خو سم زنگل د زناورو دے
ہر طرف تہ زور د زور ورو دے
معاشرتی جبر اور علامتی رنگ میں رنگا یہ شعر ملاحظہ ہو جس میں شکوہ اور مزاحمت دونوں کا پر تو دکھائی دیتا ہے۔
ونی تہ نذرہؔ ماران اوختل
دا چی د مرغو پکے شور نہ کیگی
یا یہ کہ
ہر سنگر غلیم تہ میراث پاتی شو
ویخ پہ یو سنگر کے سنگروال نہ وو
مذہبی رنگ میں رنگے ہمارے سادہ لوح عوام پہ طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو بڑا تورمارخان سمجھتے ہیں جبکہ بیرونی ایجنڈے کچھ اور ہوتے ہیں۔ ہمیں پرائے ڈار میں اُڈاریاں نہیں بھرنی چاہئیں، ورنہ یہ حالت ہوجاتی ہے کہ
کومہ مرغئی ڈیرہ چی اوخیارہ شی
تل د دوانڑو خپو نہ ہغہ گیرہ شی
نذرؔ بڑی حساس طبیعت کے مالک ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باریکیوں کی تہہ میں پہنچ کر آنے والے خدشات اور حادثات کو جانچ لیتے ہیں، جس میں اُن کا نازک دل کڑھنے اور کلپنے لگتا ہے۔ نااہل راہبروں کے حوالے سے لکھتے ہیں:
خیانت کے یو تر بلہ چی سیوا دی
وسائل د ریاست، د ہغہ چا دی
انعامونہ او تمغے ہم د ہغوی دی
پہ اوگو چی سوک ولاڑ زما او ستا دی
انہی جابر حکمرانوں اور خانوں کے ہاتھوں ہم گھٹنوں گھٹنوں مسائل کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اُنہی کے پیدا کردہ مسائل کے حوالے سے لکھتے ہیں:
دا چی ستا د لاسہ راتہ پیخہ دہ
گرزمہ د دے ستونزے پہ حل پسے
اپنی بے بسی کا رونا روتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
زور زما د مور د دُعاگانو دے
زہ نذرؔ د چا کلہ د زور یمہ
شعرا عموماً تعلی بھی کرتے ہیں اور یہ وہ شعرا کرتے ہیں جو اپنے فن کو طاق سمجھتے ہیں۔ نذرؔ کے کلام میں بھی کہیں کہیں تسلی کے شعر نظر سے گزرتے ہیں۔
ذیل کے اشعار میں صنعتِ تضاد کا استعمال بھی ہے اور تعلی بھی، ملاحظہ ہو۔
وظیفہ د قناعت د ژوند پہ لارو
خلاصوی سڑے لہ ہرہ مصیبتہ
اے نذرہ! ستا کلام تہ حیرانیگم
د مجاز پہ لارو زے تر حقیقتہ
previous post
next post
