چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
کالممحمد شیر جان

ہم بڑے جذباتی ہیں

محمودِ غزنوی کے متعلق ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک رات اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ ساری رات کروٹیں بدل بدل بے قراری میں گزاری۔ جب صبح ہوئی، تو شہر کے امن و امان کا جائزہ لینے کیلئے اپنے کارندے بھیجے۔ واپسی پر کارندوں نے سب اچھا کی رپورٹ پیش کی، تو بادشاہ مطمئن ہوگیا۔ مگر دوسری رات پھر اسی طرح کی بے چینی تھی اور اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ صبح کے وقت انہوں نے پھر شہر کے امن و امان کے متعلق رپورٹ طلب کی، تو اس میں کسی ناخوشگوار واقعے کا ذکر نہیں تھا۔ تیسری رات جب پھر بادشاہ کو نیند نہیں آرہی تھی، تو وہ سمجھا کہ ضرور شہر میں کوئی گڑ بڑ ہے جس کی وجہ سے مجھے خلاف معمول نیند نہیں آرہی۔ چپکے سے ہاتھ میں تلوار لئے اپنی خواب گاہ سے نکل کر شہر میں گشت کرتا ایک مسجد کے قریب پہنچا۔ مسجد کا دروازہ کھلا دیکھ کر اندر داخل ہوا، تو دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص ہاتھ اٹھائے بادشاہ حقیقی کے دربار میں فریاد کر رہا ہے کہ ’’خدایا! میرا مجازی حاکم تو میرے حال سے بے خبر ہے، لیکن تو تو حی القیوم، حاضر وناظر، سمیع وبصیر ہے، تو تو میرے حالات سے واقف ہو۔ مجھے اس ظالم کے ظلم سے نجات دلا دے۔‘‘ محمودِ غزنوی نے لپک کر بوڑھے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اوراسے یہ کہتے ہوئے ہکابکا کردیاکہ ’’میں تو جاگ رہا ہوں۔ کیوں میرے خلاف بارگاہِ الٰہی میں شکایت کر رہے ہو؟ بس کرو، مجھے بتاؤ مسئلہ کیا ہے؟‘‘ بوڑھے نے کہا کہ ایک ظالم رات کے وقت میرے گھر میں آتا ہے اور مجھے زبردستی گھر سے نکال کر میری بیٹی کی عزت لوٹتا ہے۔ میں بے بس و ناتوں اس کے مقابلے کا نہیں ہوں۔ اللہ کے گھر میں آکر اس سے استغاثہ کررہا ہوں۔ بادشاہ فوراً اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہوا، مگر بوڑھے نے منع کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ بدبخت نکل چکا ہوگا۔ بادشاہ نے اس سے کہا کہ جس وقت وہ آئے، تو فوراً میری خواب گاہ میں پہنچ جانا۔ تمہارے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
اگلی رات بادشاہ نے اپنے پہرہ داروں کو ہدایت کی تھی کے ایک بوڑھا شخص رات کے جس حصے میں بھی آجائے، تو فوراً میرے پاس پہنچا دینا۔ چناں چہ رات کے دوسرے پہر میں بوڑھا شخص بادشاہ کے پاس موجود تھا اور اگلے لمحے بادشاہ مع تلوار بوڑھے کے گھر پہنچ چکا تھا۔ ظالم کو موقع پر پا کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ پھر اسے غور سے دیکھا اور الحمد للہ کہہ کر سربہ سجود ہو گیا۔ بوڑھے کے گھر میں سوکھی روٹی کے کچھ نوالے اور پانی کے چند گھونٹ پینے کے بعد بادشاہ بوڑھے سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ جب مجھے اس ظلم کے متعلق معلوم ہوا، تو اُسی وقت سے میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میری حکومت میں اس برائی کی جرأت کرنے والا کون ہوگا؟ مجھے ڈر تھا کہ اس جرم کا مرتکب میرے یا میرے وزیروں کے بیٹوں میں سی کوئی ہوگا لیکن ایسا نہیں تھا جس پر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
قارئین کرام! ایسے واقعات افسانوی داستانیں معلوم ہوتے ہیں لیکن تاریخِ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ خلفائے راشدین سے لے کر عمر بن عبدالعزیز اور خلافتِ عثمانیہ سے لے کر سلاطینِ دہلی تک ایسے بے شمار واقعات تاریخ میں ملتے ہیں کہ کس طرح حاکمِ وقت کو اپنی رعایا کی فکر سونے نہیں دیتی تھی۔ ہمارے ملک میں مسلسل انسانیت سوز واقعات رونما ہو رہے ہیں جن کو دیکھنے اور سننے کے لئے انسانی آنکھیں اور کان تیار نہیں ہوتے۔ مثلاً حالیہ تازہ واقعہ ننھی کلی زینب کا ہے، جسے پھول بننے سے پہلے بڑی بے دردی سے مسل دیا گیا، لیکن اس لرزہ خیز ظلم پر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی بلکہ الٹا میڈیا پر الزام لگا کر کہتے ہیں کہ کیوں اس واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ گویا ان کی نظر میں قوم کی معصوم بیٹی کو نشانہ ہوس بنا کر بڑی بے دردی سے قتل کرنا معمول کی بات ہے۔ اس کو میڈیا پر لانا اشتعال انگیزی ہے اور درست کہتے ہیں، کیوں کہ اسی ایک ضلع میں تقریباً ایک درجن واقعات ایک ہی سال میں رونما ہوئے ہیں۔ یہ بھی معمول کا واقعہ تھا۔ اس کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلانا اور لاٹھی چارج کرنا جائز ہے ۔ بقول شاعر
ہم آہ بھی کرتے ہیں، تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں، تو چرچا نہیں ہوتا
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس واقعہ پر سب سے پہلے پنجاب کے خادم اعلیٰ اپنے عہدے سے سبک دوش ہونے کا اعلان کرتے۔ اس سے اس کی عزت گھٹنے کی بجائے مزید بڑھتی، لیکن یہ اس صورت میں ہوتا جب ہمارے حکمرانوں کو بارگاہِ الٰہی میں پیش ہونے اور ’’بایی ذنب قتلت‘‘ کی جواب دہی کا احساس ہوتا۔
شکر کریں کہ سوشل میڈیا کو آزادی ہے اور یہی آزادی حقیقی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ کیوں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگ دل کی بھڑاس نکال کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ چند دنوں تک ننھی پری کی تصاویر فیس بک کی زینت بنی رہیں گی۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ اپنی پروفائل تصاویر کو واپس اپنی حالت میں لائیں گے، پھر خاموشی ہو جائے گی اور یہ خاموشی (خدانخواستہ) اگلے نا خوشگوار واقعے تک برقرار رہے گی۔
جب کبھی میں سوچتا ہوں
اپنی قوم کے بارے میں
پہنچتا ہوں نتیجے پر
بات سمجھ میں آتی ہے
ہنستے ہیں، تو لوٹ پھوٹ کر
روتے ہیں، تو پھوٹ پھوٹ کر
جب کوئی بلاتا ہے
دھرنے میں یا جلسے میں
بڑے شوق سے جاتے ہیں
رنگ برنگے لفظوں کے
نعرے ہم لگاتے ہیں
دل کی بھڑاس نکالتے ہیں
گھروں کو واپس جاتے ہیں
خاموشی ہوجاتی ہے
اس لیے میں سوچتا ہوں
ہم بڑے جذباتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related posts

ہمیں جیت کا سلیقہ ہے، نہ ہار کا

Ba Khabar Swat

نادان خٹک کی کتاب ’’ناکڑدے‘‘

Ba Khabar Swat

Mer Afsar Aman

Ba Khabar Swat

Leave a Comment