چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
تصدیق اقبال بابوکالم

ہمایون مسعود کے افسانوں کی کتاب ’’رشتے‘‘

میں راہی صاحب کی دکان شعیب سنز المعروف ’’سوات ٹی ہاؤس‘‘ میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہاں اِک نفیس شخص ہمایوں مسعود (جو اُن دنوں ہمایوں فراس ہوا کرتے تھے) بھی آیا کرتے تھے۔ وہ سینت سینت کر، ٹھہر ٹھہر کر بڑے نپے تلے انداز میں کسی بھی ادبی نکتے کی تہہ تک پہنچ جانے والی باتیں کیا کرتے تھے۔ اسی دکان میں اُن کے چھوٹے بھائی ریاض مسعود بھی آیا کرتے تھے۔ دونوں بھائیوں کے ژرف مطالعے اور پھر نکتہ سنجی اور نکتہ رس گفتگو کا میں دل ہی دل میں معترف ہی نہیں بلکہ کسی حد تک فین بھی ہوگیا تھا۔ ہمایوں صاحب انگریزی ادب کے رسیا تھے، تو ریاض مسعودکا جھکاؤ اردو کی طرف زیادہ تھا۔
ہمایوں صاحب انگریزی نظموں کے ساتھ ساتھ پشتو میں بھی طبعِ موزوں رکھتے تھے۔ شوقیہ نظمیں لکھا کرتے تھے۔ پھر لمبی عمر تک قلم رکھ دیا۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے راہی صاحب کا کہ جنہوں نے اُنہیں پھر سے قلم اُٹھانے پہ راغب کیا۔ اب کی بار انہوں نے نظم کی بجائے نثر کی طرف پہلو بدلا اور ’’رشتے‘‘ نامی پشتو افسانوں کی کتاب نہ صرف لکھ ڈالی بلکہ اسے زیورِ طبع سے آراستہ بھی کر ڈالا۔ کتاب ’’ہاٹ کیک‘‘ کی طرح ہاتھوں ہاتھ لی جا رہی ہے، جسے سنجیدہ ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی بھی مل رہی ہے۔ 168 صفحات کی اس خوبصورت مجلد کتاب کا ’’گیٹ اَپ‘‘ بھی خوبصورت ہے اور کاغذ بھی۔ ’’فلیپ‘‘ کی پشت پہ ضیاء الدین یوسف زئ اپنی تحریر کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں، تو سرورق پہ ’’غنچہ کوہزاد‘‘ اپنے امیجری فن کا جلوہ دکھلاتے ناظر کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہے ہیں جس کتاب کا پروف قیس اور ریاض کی نظروں سے گزرا ہو، تو اس میں غلطی کا احتمال بھی نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے اور پھر جو کتاب شعیب سنز نے پبلش کی ہو، اُس کی زیبائش اور خوبصورتی تو اپنی مثال آپ ہوتی ہی ہے۔
کہانی یونانی المیہ نگاروں سے لے کر دوستو فسکی تک آتی ہے، تو پھر یلارم، بیدی اور منٹو سے ہوتی ہوئی شعور کی رو (Stream of conscious) تک جا پہنچتی ہے۔ حقیقت سے علامت تک کا یہ سفر لمبا ضرور ہے، لیکن غیر منطقی ہر گز نہیں۔ بہ قول غلام محمد قاصر
گلابوں کے نشیمن سے میرے محبوب کے سر تک
سفر لمبا تھا خوشبو کا، مگر آہی گئی گھر تک
بالکل اسی شعر کے مصداق کہانی سفر کرتے کرتے مغرب سے مشرق اور پھر اُردو سے پشتو کی طرف آتی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے گھر یعنی ہمایوں مسعود تک بھی آپہنچتی ہے۔
ہمایوں مسعود کے افسانوں میں علامت یا تجرید کی بجائے کہانی پن کا بیانیہ موجود ہے، جس کا مرکزی نکتہ انسان، انسانیت، محبت اور رشتوں کی استواریت ہی کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ دل کھینچ اسلوب اور کرداروں کا دھیرے دھیرے پلاٹ کو کھولتے چلے جانا اور پھر نقطۂ عروج پہ پہنچا کر دھڑے سے اختتام تک لے آنا آپ کی فنی گرفت میں صاد ہے۔ طوالت کے باوجود وحدت تاثر کا بر قرار رہنا ہی کمال ہے۔
کتاب ہٰذا ’’رشتے‘‘ میں چھے افسانے ہیں۔ جنہیں فضل ربی راہیؔ اور شاہین بونیری کے نام منسوب کیا گیا ہے۔ سمیع الدین ارمان اور ڈاکٹر ہمدرد یوسف زئ کے پر مغز دیباچوں کے بعد کتاب کے پہلے افسانے ’’پور ٹیبل فریج‘‘ کی طرف آئیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ فلیش بیک ٹیکنیک پہ لکھے گئے اس خوبصورت افسانے میں ڈرامائی سسپنس بھی ہے اور مصنف کے اندرونی کرب کی مچلتی تصویر بھی۔ یہ افسانہ اپنے زور دار پلاٹ کی وجہ سے آخر تک اپنی دلچسپی بر قرار رکھتا ہے۔
’’غنچہ‘‘ کتاب کا دوسرا افسانہ ہے، جو ترقی پسند لکھاریوں کی طرز پہ لکھا گیا ہے۔ جو اِک طرف ہماری غربت، لاچارگی اور مجبوری کی نمائندگی کرتا ہے، تو دوسری طرف ہماری نام نہاد سفید پوش اور اشرافیہ پہ بھی منھ چڑاتا دکھائی دیتا ہے۔ ’’ترھہ گر‘‘ کتاب کا تیسرا افسانہ ہے، جو ہمارے پختون بیلٹ پہ کھیلے جانے والے ڈرامے کے پس منظر اور پیش منظر کا احاطہ کرتا ہے کہ کس طرح بے قصور لوگ قصور وار ہوئے اور اُن پہ ’’دہشت گرد‘‘ کا لیبل لگا۔ ’’بؤ‘‘ کتاب کا چوتھا افسانہ ہے، جو ہمارے گھر، محلہ، ماحول اور معاشرت میں بنائے گئے مذہبی خوف اور ماحول پہ طنز کا اِک زناٹے دار تازیانہ ہے، جس کا اختتام ان سطور پہ ہوتا ہے:
’’امجد: خدائے پاک سوک دے ہو؟
ریحان: پہ خپل کچہ ذہن زور واچوؤ او بیا ئے ورتہ پہ ڈیر معصومیت سرہ اووئیل چی ، ’’بؤ!‘‘
’’رشتے‘‘ نامی افسانہ میں غربت کی انتہا کی وجہ سے خونی رشتوں سے یقین اُٹھ جانے کا بیانیہ موجود ہے، جس کی حقیقت نگاری، کرخت واقعیت نگاری کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ یہ افسانہ ہمیں پریم چند کے ’’کفن‘‘ کی یاد دلاتا ہے۔ کتاب کا آخری افسانہ ’’لکی مین‘‘ ہے جس کا مرکزی کردار عمران سیریز کی کسی جاسوس کہانی کا ہیرو لگتا ہے، جو اپنی ذات میں اِک عقدہ ہے، اِک معمہ ہے، جو آہستہ آہستہ کھلتا ہے۔ افسانے کا حزنیہ انجام حقیقت سے لگا کھاتا دکھائی نہیں دیتا، لیکن دنیا میں کچھ ہونا بھی بعید از قیاس نہیں۔
ہمایوں مسعود کے فن کا یہ کمال ہے کہ اُن کے ہر افسانے میں یا تو ہمیں اُن کی اپنی ذات کسی کردار کی صورت میں مانند استعارہ دکھائی دیتی نظر آتی ہے یا قاری خود کو اس کا حصہ تصور کرنے لگتا ہے۔ اوپر سے زبان بھی سہل ممتنع ایسی، کہانی کی بنت کے ساتھ ساتھ منظر نگاری، کردار نگاری، محاکات نگاری اور جزئیات نگاری پہ آپ کی گرفت قابل داد ہی نہیں، واجب الداد بھی ہے۔ یہ افسانوی مجموعہ ہر حوالے سے اِک مستند اور معیاری دستاویز ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
دعا ہے کہ آپ کا قلم یو نہی ادب کی آبیاری کرتا رہے۔ تاکہ ایسے ہی گوہر آگیں نگینے منصہ شہود پر جلوہ گر ہوتے رہیں۔

Related posts

معاشقہ اک منشی کا (دوسرا حصہ)

Ba Khabar Swat

An Article By Mohammed Swati

Ba Khabar Swat

مینگورہ، ایک شہر بے مثال (پانچویں قسط)

Ba Khabar Swat

Leave a Comment