چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
کالممحمد طاہر بوستان خیل

بریگیڈئیر (ر) خالد نذیر (ستارۂ جرأت)

بریگیڈئیر خالد نذیر یکم مارچ 1956ء کو راولپنڈی میں پیدا ہو ئے۔ ابتدائی تعلیم راولپنڈی میں حاصل کی۔ آپ نے ایف ایس سی کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ وہاں ڈھائی مہینے پڑھنے کے بعد 11 نومبر 1974ء کوپاکستان آرمی میں بحیثیت سیکنڈ لیفٹیننٹ شامل ہو گئے۔ آپ نے 54 پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت حاصل کی اور یوں 19 اکتوبر 1976ء کو ٹریننگ کی کامیاب تکمیل کے بعد آپ کو 40FF رجمنٹ میں شامل کیاگیا ۔ آپ کی ذہانت کی وجہ سے7 ستمبر 1980ء کو آپ کا انتخاب چراٹ میں کمانڈو کورس کے لیے کیا گیا۔ اس مشکل ترین ٹریننگ کے اختتام پر بریگیڈئیر خالد نذیر کوئٹہ بھیج دیے گئے، جہاں آپ بیک وقت دو کمانڈوز کمپنیوں کو کور کر رہے تھے۔ بریگیڈئیر خالد نذیر پاک فوج میں ملٹری سیکرٹری برانچ GHQ میں افسران کے تبادلے کی ڈیوٹی پر بھی دو سال کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے بعد آپ کو ملٹری آپریشنز ڈائریکٹریٹ GSO 1 گریڈ سٹاف 1 مقرر کیا گیا۔
یہ وہ بریگیڈئیر تھے، جنہوں نے کرنل شیر خان (نشانِ حیدر) کو معرک�ۂ کارگل میں شمولیت کے لیے منتخب کیا تھا۔ اس کے علاوہ بریگیڈئیر خالد نذیر نے تین بار 23 مارچ کے پروگرام میں حصہ لیا۔ آپ 137 بار سے زائد ہوائی جہاز سے پیرا شوٹ کے ذریعے زمین پر اُترے ہیں۔
بریگیڈئیر خالد نذیر کو معرک�ۂ کارگل کا ہیرو کہا جائے، تو بے جا نہ ہو گا۔ آپ واحد کمانڈنگ افسر تھے جنہوں نے بڑی دلیری کے ساتھ معرکۂ کارگل میں حصہ لیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 21 جون 1999ء کو شام 4 بجے میری پوسٹنگ NLI میں ہو ئی اور 22 جون 1999ء کو صبح دس بجے مجھے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آپریشن ایریا یعنی کارگل پہنچا دیا گیا۔ چوں کہ آپ نے SSGٰؑ یعنی اسپیشل سروس گروپ (کمانڈو) کی ٹریننگ حاصل کی تھی، ا س لیے آپ کو یہ اہم ذمہ داری سونپ دی گئی۔ کارگل میں آپ بہادری سے لڑے۔ آپ کے ساتھ اس جنگ میں حوالدار لالک جان اور کیپٹن کرنل شیر خان بھی شریک تھے۔ حوالدار لالک جان کے لیے آپ ہی نے’’نشانِ حیدر‘‘ کی سفارش کی تھی۔
اس جنگ کے دوران میں ایک اہم واقعے کی تفصیلات بتا تے ہو ئے بریگیڈئیر خالد نذیر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کیپٹن سلمان کی وجہ سے نئی زندگی دی تھی۔ ہوا یوں کہ جنگ کے اختتام پر ہم واپس آ رہے تھے کہ میرا پاؤں ہمارے ہی زیرِِ زمین نصب شدہ بارود پر پڑنے والا تھا کہ کیپٹن سلمان نے پیچھے سے مجھے دھکا دیا، میں گرتے گرتے بچ گیا، بعد میں اس نے معافی مانگتے ہوئے مجھے حقیقت سے آگا ہ کیا۔
بریگیڈئیر (ر) خالد نذیر کے پاس دو کتابیں دیکھنے کو ملیں۔ ایک کتاب کا نام “A Ridge too far war in the kargil height 1999.” جو امرندر سنگھ نے لکھی ہے، یہ کتاب 256 صفحات پر مشتمل ہے جو موتی باغ پٹیالہ سے 2001ء میں شائع ہو ئی۔ دوسری کتاب کا نام “Musharraf’s War.” ہے جو “General V.P Malik, PVSM (R) Former Chief of Army staff India.” ہے جو 2003ء میں دہلی سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے صفحات کی تعداد 298 ہے۔ ان دونوں کتابوں میں بڑی دلیری سے اور واضح الفاظ میں پاکستانی فوج کی بہادری کا اعتراف کیا گیا ہے۔ پہلی کتاب کے صفحہ 146 پر ہمارے ہیرو کرنل شیر خان (نشانِ حیدر) کی دلیری سے لڑنے اور دشمن کی صفوں میں آگ پھیلانے کاواقعہ بڑے اچھوتے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں انڈیا کے کیپٹن ’’وکرم باترہ‘‘ کی موت کے بعد انہیں فوجی اعزاز ’’گریندر یوگ جندر یادوی PVC‘‘ سے نوازنے اور بعد میں اس کی بیوی کا فون کرکے بتاناکہ تم لوگ جیتے جی میرے شوہر کو مردہ تصور کرتے ہو، حالاں کہ وہ زخمی حالت میں گھر میں موجود ہے، واقعہ بھی درج ہے۔
بریگیڈئیر (ر) خالد نذیر کہتے ہیں کہ معرک�ۂ کارگل کے ایک موقع پر ان کا اکیلے دشمن کے 26 فوجی سپاہیوں کے ساتھ مقابلہ ہوا تھا۔ اس میں انہوں نے ڈٹ کر دشمن کا حملہ پسپا کردیا تھا۔ ایک موقع پرپاکستانی فوج کے جوانوں کو اس جگہ سے رات کے وقت ہٹا یا گیا جس جگہ وہ سارا دن ڈیوٹی پر مامور رہے۔ رات کو دشمن نے اس جگہ فائر کی، دشمن سمجھا کہ اس نے وہاں موجود پاکستانی سپاہیوں کو شہید کر دیا، حالاں کہ ایسا نہیں تھا، بلکہ اُلٹا بریگیڈئیر (ر) خالد نذیر نے انہیں دشمن کے خلاف ایسی جگہ رکھا جہاں سے انہوں نے صبح کے وقت دشمن کو نشانہ بنایااور فائر کھول دی۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ دشمن کو شکست ہوئی اوروہ اپنی جگہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔ ایک موقع پر دشمن نے پاک فوج کے جوانوں کوتین اطراف سے گھیر لیا۔ بریگڈئیر (ر) خالد نذیر جو اُن دنوں لیفٹیننٹ کرنل تھے، کی حکمتِ عملی کی وجہ سے دشمن کو منھ کی کھانی پڑی۔ انڈین اپنی شکست کو کبھی بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، تاہم اس زبر دست شکست اور پاکستانی فوج کی بہادری کا ذکر دوسری کتاب میں صفحہ 113 اور 114 پر موجود ہے۔
بریگڈئیر (ر) خالد نذیر کے کہنے کے مطابق 4 اور 5 جولائی 1999ء کے حملے میں دشمن نے پاکستان کا کافی علاقہ چھین لیا تھا۔ اس وقت پاکستانی فوج کے 22 سپاہی دشمن کے 1600 سپاہیوں کے ساتھ مقابلہ کررہے تھے، لیکن پھر بھی پاک فوج کے جوان صبح چار بجے تک برابر لڑتے رہے۔ بریگیڈ کمانڈر کے کہنے کے مطابق وہ دشن پر قابو نہیں پاسکتے تھے، لیکن بریگیڈئیر خالد نذیر کو کرنل شیر کو رات کو ڈیڑھ بجے متعلقہ مقام پر بھیجنا پڑا، جہاں سے انہوں نے چند ساتھیوں کی مدد سے ایسا بھر پور حملہ کیا جس کی بدولت دشمن کو نہ صرف وہاں سے واپس ہونا پڑا بلکہ پاکستان کا چھینا گیا علاقہ بھی پاکستان کو دوبارہ مل گیا۔ ا س زبر دست حملے کا ذکر دوسری مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 127 اور 128 پر بھی موجود ہے ۔
بریگیڈئیر خالد نذیر کی بہادری کے متعلق شیرین مزاری نے اپنی کتاب”Kargil Cricic Separating facts from fictions1999″ میں بھی لکھا ہے۔ حالاں کہ شیرین مزاری نے بریگیڈئیر صاحب کا کوئی انٹرویوبھی نہیں لیا تھا۔ یہاں تک کہ شیرین مزاری نے انہیں دیکھا تک نہیں تھا۔
بریگیڈئیر خالد نذیر کی خدمات کی فہرست طویل ہے۔ انہوں نے سعودی فوج کو بھی ٹریننگ دی۔ کارگل کی لڑائی ختم ہو جانے کے بعد لائن آف کنٹرول پر آنے والے آخری غازی بریگیڈئیر خالد نذیر ہی تھے، جن کا گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ کارگل میں شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے واپس آنے پر آپ کو 30 ستمبر 2001ء کو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے پروموشن دے کر بریگیڈئیر بنا دیا گیا، یعنی آپ لیفٹیننٹ کرنل سے ایک رینک آگے بریگیڈئیر رینک میں آگئے، جو کہ پاک فوج کی تاریخ میں ایک اہم پروموشن ہے۔
آپ کی علمی خدمات بھی وسیع ہیں۔ آپ پاک فوج کے رسالہ ’’الہلال‘‘ میں لکھتے چلے آ رہے ہیں۔ ادبی ذوق کے مالک ہیں۔ آپ پاک فوج سے بریگیڈئیر کے عہدے پر سے 6 ستمبر 2009ء کو ریٹائر ہوئے۔ بریگیڈئیر (ر) خالد نذیر نے 16 ستمبر 2009ء سے 25 اپریل 2018ء تک آرمی کالج مری میں بطورِ پرنسپل خدمات انجام دیں۔
آپ کی بہترین کارکردگی کی بنیاد پر آپ کو 26 اپریل 2018 ء سے کیڈٹ کالج سوات میں پرنسپل کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ انسانیت، شرافت، سچائی اور ایمان داری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ کالج کے تمام ملازمین سے انتہائی اخلاق کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ تھوڑے ہی دنوں میں ہر خاص و عام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے ہیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کیڈٹ کالج سوات کی ترقی اور سواتی عوام کی خدمت کے لیے انہیں اچھی صحت اور لمبی عمر عطا کرے، �آمین ثم آمین۔

Related posts

Mojhy Khof Atash Gul Sy Hey

Ba Khabar Swat

سوات کی مثالی پولیس

Ba Khabar Swat

An Article By Ikram ullah AArif

Ba Khabar Swat

Leave a Comment