سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) 31 ویں آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں قائم ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن ‘‘ ختم ہو جائے گا۔ 2009ء میں اس وقت کے صدر پاکستان نے سوات میں شورش کے بعد یہاں کے عوام کے لئے شرعی نظام عدل ریگولیشن2009ء کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں نافذ ہوگیا تھا۔ اس کے تحت سیشن جج کا نام ضلع قاضی، ایڈیشنل سیشن کا نام تبدیل کرکے اضافی ضلع قاضی اور سول جج کا نام تبدیل کرکے علاقہ قاضی رکھ دیا تھا۔ اس طرح سوات میں قائم ہونے والے پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ کا نام ’’دارالقضا ‘‘ رکھ دیا گیا تھا۔ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کی ’’پاٹا ‘‘ کی حیثیت کے خاتمے کے بعد اب یہاں پر شرعی نظام عدل ریگولیشن 2009ء ختم ہوگیا ہے ۔ اب دارالقضا کا نام پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ، ضلع قاضی کا نام سیشن جج، اضافی ضلع قاضی کا نام ایڈیشنل سیشن جج اور علاقہ قاضی کا نام سول جج ہوگا۔ پشاور ہائی کورٹ کے سابق جسٹس شیر محمد خان کے مطابق شرعی نظام عدل ریگولیشن کے خاتمے کے بعد یہاں پر عدالتی نظام پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی کسی اور نظام کی لانے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر عدالتی کارروائی میں ان تمام قوانین کے تحت کام جاری تھا جو ملک کے باقی حصوں میں ہے۔ صرف قاضیوں کا نام تبدیل ہوکر ’’جج‘‘ میں ہو جائے گا۔
