سوات(باخبر سوات ڈاٹ کام) نسل در نسل چلتی آنے والی چمڑے سے بنی سواتی چپل کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بازار میں سواتی چپل بنانے والے دکانوں اور کارخانوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ریاستِ سوات دور سے سواتی چپل (سپلئی) سوات کی ثقافت سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے ریاست کے دور سے زیادہ تر لوگ موسم گرما میں خصوصی چمڑے سے تیار ہونے والی سواتی چپل پہننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سوات میں سال کے بارہ مہینے سواتی چپل تیار کی جاتی ہے۔ موسم سرما میں ان چپلوں کو گرم علاقوں میں فروخت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ موسم گرما میں سوات میں اس کی فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور خاص کر عید کے مواقع پر اس کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ سواتی چپل بنانے والے ایک دکاندار محمد خان نے ’’باخبر سوات ڈاٹ کام‘‘ کو بتایا کہ وہ خصوصی چمڑے سے ہر رنگ اور ہر قسم کی چپل تیار کرتے ہیں جو سوات کے علاوہ ملک کے بیشترعلاقوں میں پسند کی جاتی ہے ۔ سوات کی ثقافت سمجھی جانے والی ’’پنجہ دارہ سپلئی‘‘ مخصوص قسم کی چپل آخری ہچکیاں لینے لگی۔ چند سال قبل تک سوات کی پنجہ دارہ سپلئی کو یہاں کے لوگ بہت پسند کرتے تھے اور اس خصوصی چپل کو لوگ دوستوں کے لئے تیار کرکے ان کو تحفہ کے طور پر دیتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پنجہ دارہ سپلئی کی مانگ میں کمی آرہی ہے۔ اب لوگ پنجہ دارہ سپلئی کے بجائے ’’بندہ سپلئی ‘‘ خریدنے اور پہننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک دکاندار ایوب خان کے مطابق کئی سال پہلے لوگ پنجہ دارہ سپلئی کو خرید کر بطور فیشن پہنتے تھے، لیکن اب اس چپل کی مانگ میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ بہت کم لوگ اب اس چپل کو خریدتے اور پہنتے ہیں ۔ سوات میں تیار ہونے والے نوکیا کے سابق جی ایس ایم موبائل کی شکل کی ’’نوکیا‘‘ اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی مخصوص’’خان‘‘ چپل کی مانگ میں بھی کمی آئی ہے۔ اس سے پہلے نوکیا کے پرانے ڈیزائن کے موبائل کی ہم شکل’’نوکیا‘‘ کے نام سے مشہور سواتی چپل تیار کی جاتی تھی جس کی مانگ تقریبا ختم ہوگئی ہے۔ اس طرح عمران خان کے زیر استعمال ’’خان ‘‘ کے نام سے مشہور سواتی چپل کی فروخت 2013ء کے انتخابات اور اس کے بعد سے عام تھی لیکن سواتی چپل بنانے والے افراد کے مطابق اب ان دونوں ڈیزائن کی چپلوں کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں زیادہ تر استعمال ہونے والی رنگ دار تاروں سے سلائی شدہ ’’بٹ چپل ‘‘ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ بٹ چپل کی سلائی کے بعد اس کے اوپر رنگ داردھاگہ سے کڑاھی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس چپل کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ دکانداروں کے مطابق بٹ چپل کی قیمت عام چپل سے زیادہ ہونے کے باوجود لوگ اس کی خریداری میں دلچسپی لیتے ہیں جس کی وجہ سے اب مقامی دکاندار ان چپلوں کو کثیر تعداد میں تیار کرتے ہیں۔ سوات میں تیار ہونے والی چمڑے سے بنائی گئی ان چپلوں کی قیمت چھ سو روپے سے ساڑھے چار ہزار تک ہے۔ دکانداروں کے مطابق پنجہ دارچپل کی قیمت چھ سو سے بارہ سو روپے تک، بند چپل کی قیمت ایک ہزار سے چار ہزار روپے تک اور رنگ دار کڑاھی والی ’’بٹ‘‘ چپل کی قیمت دو ہزار سے ساڑھے چار ہزار روپے تک ہے۔
next post
