سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں عیدالفطر کے دوران لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں کی آمد اورسیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، پولیس اور دیگر اداروں نے پلان وضع کر دیا۔پولیس اور سیکورٹی اداروں، ٹی ایم ایز، محکمہ صحت و خوراک اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کی ہفتہ وار اور عید کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام سرکاری محکموں کے ضلعی سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ میونسپل اور فوڈ حکام ضلع بھر کے سیاحتی مقامات پر دکانوں اور ہوٹلوں میں اشیائے خوراک کے معیار اور قیمتوں کی جانچ کریں گے۔ڈی پی او کو ٹاسک حوالے کیا گیا کہ وہ سیاحوں کی سیکورٹی، سیفٹی، آرام دہ قیام اور دیگر سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے ریگولر، ٹریفک وارڈن اور ٹورسٹ پولیس سمیت تمام شعبوں کو فعال بناتے ہوئے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔ شہری دفاع، سوات لیوی، ریسکیو 1122 اور تمام سات تحصیلوں کی میونسپل انتظامیہ اور حکام بھی ان سے قریبی معاونت کریں گے۔ شہری دفاع نے تین سو رضاکار اور سوات لیوی نے اڑھائی سو جوان پہلے ہی ضلعی پولیس کے حوالے کئے ہیں جنہیں مرغزار سے لے کر کالام تک مخصوص مقامات پر سیاحوں کی سیکورٹی، ٹریفک انتظامات کے لئے تعینات کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوات کی تمام چھوٹی بڑی سڑکیں اور شاہراہیں ہر قسم کی رکاوٹوں سے پاک کر دی جائیں گی جبکہ سڑک کنارے پارکنگ یا ٹیکس وصولی کی قطعی اجازت نہیں ہو گی۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سیاحوں کی حامل چھوٹی گاڑیاں دریائے سوات کے بائیں جانب چکدرہ اور تھانہ سے لے کر کبل، کانجو، مٹہ اور بحرین تک نوتعمیر شدہ شموزئی شاہراہ کی جانب موڑی جائیں گی اور ٹرکوں سمیت بڑی گاڑیاں لنڈاکی تا قمبر بائی پاس دریا کی دائیں جانب مین جی ٹی روڈ پر منتقل ہوں گی۔
previous post
