آسٹریلیا کے جنگلات میں واقع ایک گاؤں میں کسانوں کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب وہاں کے حکومتی سرپرستی میں چلنے والے محکمہ بہبودزراعت نے مقامی کسانوں کو پابند کیا کہ محکمے کے ہدایات کی مطابق فصل اگانا ہے۔
محکمے کی طرف سے کئے گئے فیصلے میں یہ بھی شامل ہے کہ ہر کسان کو فقط وہی بیچ بونا ہے جو محکمے سے سندیافتہ ہو، یعنی تمام بیماریوں سے پاک ہو۔پھر بھی کہیں سے کوئی سنڈی فصل پر حملہ آور ہو تو کسان کے لئے محکمہ بہبود زراعت سے سپرے لینا لازم ہے تاکہ کسان اپنی فصل کو بچاسکے۔ پانی اورکھاد بھی محکمانہ ہدایات کے مطابق استعمال کرنا ہوگا۔
اس فیصلے پر مقامی کسانوں نے احتجاج کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمے کی طرف سے یہ اقدامات ہمارے روایتی پیشے میں دخل اندازی ہے۔ جس سے فصل کی بہتری تو ممکن نہیں البتہ ابتری کے قوی امکانات موجود ہیں۔ کیونکہ کسانوں کی اکثریت روایت پسند ہے ،جو ابھی نت نئے طریقوں کو آزمانے کے روادار نہیں ہیں۔ دوسری طرف محکمۂ زراعت کا کہنا ہے کہ چونکہ عوام کو بہترین فصل اور اناج پہنچانا ادارہ ہذا کی ذمہ داری ہے، اس لئے اب مشینی زراعت کو اپنانا پڑے گا۔تاکہ من پسند فصل اور اناج پیدا کیاجاسکے ،جس کے لئے کسانوں کی ضروری تربیت لازمی ہے۔
اب جو کسان ادارہ ہذا کی ہدایات پر عمل نہیں کرے گا، اس کی زمین کی الاٹمنٹ ختم کی جائے گی۔اگرچہ اس پر کسانوں کاکہنا کہ فصل اور اناج کی پیدوار اورتقسیم کسانوں ہی کا کام ہے کیونکہ محنت کش وہ ہیں۔ بہرحال اس کہانی کا پاکستانی سیاست ،جمہوریت اور زراعت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں سب سے فعال ’’محکمہ زراعت ‘‘ ہے۔ اور کیوں نہ ہو،جب ملک کی معیشت کا زیادہ انحصار زراعت ہی پر ہے۔ تب زراعت میں تحقیق اور ترقی کے لئے لازم ہے کہ یہ محکمہ خود مختار اور مکمل فعال ہو۔
عوام یقیناًخوش ہیں کہ یہ محکمہ اپنا کام تندہی سے کرتا ہے مگرساتھ ساتھ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ یہ محکمہ بھی ذاتی پسند وناپسند کی بنیاد پر کسی کو اچھا بیج دیتا ہے تو کسی کو ایسا کھاد دیتا ہے جو فصل کیساتھ ساتھ سنڈیوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔اور جب سنڈی فصل پر حملہ آور ہوجاتی ہے تو محکمہ زراعت کی مجبوری بن جاتی ہے کہ وہاں پر ’’سنڈی مارسپرے‘‘کرے۔ یہ مکمل طور پر ایک اور بات ہے کہ اس سپرے کے بعد جمہوریت کی فصل اگتی نہیں بلکہ مزید کمزور ہوجاتی ہے اور کسان یا دہقان کو سال بھر کی محنت کے باوجود اناج نہیں بلکہ بھوسا ہی مل جاتا ہے ۔ ناقص بیج، کھاد او ر سپرے سے تنگ آئے ہوئے سیاسی کسان پھر کسی نہ کسی شکل میں یہ باغیانہ شعر گنگناتے نظر آتے ہیں کہ
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
لہٰذا ہم محکمہ زراعت والوں سے دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ اس ملک کے سیاسی کسان شاید ابھی تک اعلیٰ جمہوری فصل اگانے کے طریقوں سے واقف نہیں ہیں مگر ان کی کمزوریوں میں سیاسی موسم کے تغیرات ، تعلیمی پانی کی کمیابی اور جمہوری تسلسل سے عاری بیج ،کھاد اورسپرے کے اثرات بھی شامل ہیں۔
سو پیار اور محبت سے ان کو سمجھانا ہوگا تاکہ یہ لوگ اپنے روایتی طریقوں سے فصل اگاتے رہے اور عوام کو کھلاتے رہے ۔ کیونکہ محکمہ زراعت سے زیادہ یہ اکثریتی عوام کا حق ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرسکے کہ ہم نے کس قسم کا اناج کھانا ہے اور کس دہقان سے کب اورکتنا اناج خریدنا ہے ۔
یہ خوشی کی بات ہے کہ عوام نے اپنا یہ کام شروع بھی کیا ہے ۔ اب ہر کوئی دیکھ رہا ہے کہ گلی گلی اورشہر شہر میں جو سیاسی کسان گھوم رہے ہیں اور پھر ووٹ مانگ رہے ہیں،تو برسربازار عوام انہیں روک کر پوچھ لیتے ہیں کہ سائیں صاحب گزشتہ پانچ سال آپ نے کیا کیا ہے ؟پہلے اس کا حساب دو ۔
ملک کے ہر حصے میں عوام نے یہ پوچھنا شروع کیا ہے جو کہ یقیناًآنے والے فصل کے سیزن میں دہقانوں کویہ یاد کراتا رہے گاکہ فصل اچھی اگانا ہے اور عوام کو درست نرخوں پر دینا بھی ہے۔ کہ اب شاید ممکن نہیں رہا کہ جمہوریت کے خوشنمانعروں سے جمہوری زراعت کا کاروبار کیا جاسکے۔ کیونکہ اب عوام بھی آہستہ آہستہ کسانوں اور محکمہ زراعت والوں کے طریقہ واردات کو جان چکے ہیں۔
اور عوام یقیناًخالص خوراک اور پاک جمہوریت چاہتے ۔ لہٰذا محکمہ زراعت والے سیاسی کسانوں کوتنگ نہ کرے اور کسان بھی پاک جمہوری کھیت میں غیر جمہوری سنڈیوں کی افزائش نہ کریں تو بہتر ہوگا۔
اور اگر یہ نہ ہوا تو ممکن ہے پھر جمہوری کھیت کی ہمواری کے لئے عوامی ٹریکٹر نہیں بلکہ محکمہ زراعت والوں کی جیپ ہی آجائے۔
previous post
next post
