چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
پروفیسر سیف اللہ خانکالم

سرکاری مکانات، عمارات و رقبہ جات

اس کڑوی حقیقت سے کوئی باخبر انسان انکار نہیں کرسکتا کہ ممالک میں افراتفریوں، بے چینیوں اور مصائب و مشکلات کی بڑی وجوہات ناموزوں اور غیر ذمہ دار سیاسی طبقہ اور ماہرانہ استعداد سے محروم ملازمین ہوتی ہیں۔ دنیا میں زمانۂ قدیم سے جنگوں اور دوسرے مسائل کی ذمہ داری سیاسی یا غیر سیاسی مقتدرہ کی پائی گئی ہے۔ پاکستان میں روزِ اول سے دفاتر اور محکموں کی استعداد کو سیاسی لوگوں نے برباد کیا ہوا ہے، جب اپنے پیاروں کو دفاتر میں کھپانے یا اپنے دوسرے مقاصد کے حصول کے لیے ’’رولز ریگولیشنز‘‘ کو ملیامیٹ کرتے رہے، تو نتیجہ وہی ہوا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ اب ہر طرف تباہی اور بے چینی ہے۔
کسی حالیہ مبینہ عدالتی حکم کے پیشِ نظر صوبائی حکومت نے سرکاری رہائشی کالونیوں میں جائز و ناجائز رہائشیوں کے خلاف کارروائی کچھ اس انداز سے شروع کی ہے کہ ملازمین میں ہر اس اور عدم تحفظ بڑھ گیا ہے۔ سنا ہے کہ 400 کے قریب خاندان نشانے پر ہیں۔ اگر ایک خاندان میں چار بچے زیرِ تعلیم ہوں، تو ڈیڑھ ہزار سے زیادہ بچوں کے بارے میں سنجیدہ والدین کی پریشانی دیدنی ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری مکانات بارے کوئی سچی اور دیانت دارانہ پالیسی رو بہ عمل کم ہی نظر آتی ہے۔ بس ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ والا معاملہ ہوتا ہے۔
2000ء میں جب ضلعی حکومتوں کو چلانے کے لیے پشاور سیکرٹریٹ سے سینئر ملازمین اضلاع میں پہنچے، تو اُن کو گلیوں، بازاروں میں کرائے کے مکانات کے لیے خوار ہونا پڑا تھا۔ کیوں کہ ’’کلاس وَن‘‘ افراد کے مکانات پر دفاتر کے جونیئر حضرات قابض ہوچکے تھے اور تاحال قابض ہیں۔
پشاور جیسے صوبائی دارالحکومت میں سرکاری رہائشی کالونیوں کی حالت اور بھی پریشان کُن بن گئی ہے۔ سفارش، اقربا پروری، الراشی و المرتشی ماحول نے حق دار ملازمین کو اپنے جائز حقوق سے محروم کررکھا ہے۔ پشاور سیکرٹریٹ کا اسٹیٹ آفس افسوسناک حد تک چشم پوشیوں اورکمزوریوں کا شکار ثابت ہوتا رہا ہے۔ کوئی بھی صاحبِ بصیرت افسر اگر وہاں کسی سرکاری کالونی کا دورہ کرے، تو آسانی کے ساتھ دیکھ سکے گا کہ کالونیوں میں غیر متعلقہ افراد کی مبینہ موجودگی کے علاوہ وہاں نفیس سرکاری علاقوں کی جگہ خانہ بدوشوں کے مقبوضہ جات کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ ہر مکان (خصوصاً) جونیئر سٹاف کا مکین اپنے ریٹائر ہونے سے قبل اپنا مکان اپنے بچے، بچی کے نام الاٹ کروالیتا ہے۔ پھر پنشن کے پیسوں سے اپنے مکان کے گرین بلٹ میں چمن کو ختم کرکے ایک گندہ سا جھونپڑا کھڑا کردیتا ہے جس میں وہ ناقص خوراکی اشیا کی دکان کھول لیتا ہے۔ تقریباً تمام سرکاری دیواریں غلیظ اشتہاروں سے اَٹی پڑی ہیں۔ گھروں کے سامنے گائے، بکری اور بھینس تک بندھی نظر آتی ہے اور غلاظت کے پھیلاؤ اور سبزے کے خاتمے کا سبب ہیں۔ چند مکانات میں بلاضرورت ہر سال کثیر اخراجات کے ساتھ غیر ضروری ’’کام‘‘ کروائے جاتے ہیں جب کہ بعض مکانات ضروری مرمتوں، سفیدی اور صفائی سے محروم تیزی کے ساتھ کھنڈروں میں تبدیل ہو رہے ہوتے ہیں۔ بہت ساری جگہوں میں پڑوس کے مسلمانوں نے سرکاری کالونیوں سے مختلف قسم کی انکروچمنٹس کی ہوئی ہوتی ہیں۔ سکیل سترہ تا اُنیس کے ملازمین باہر گلیوں میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں جب کہ کم ترین سکیلز والے ملازمین اُن کے مکانات پر قابض ہو کر جہاں خراب حکمرانی کا ببانگ دُہل اعلان کرتے ہیں، وہاں صوبائی خزانے کو اس طرح مسلسل بھاری نقصان پہنچاتے ہیں کہ اگر ایک مکان میں سکیل اُنیس کا ملازم رہتا ہو، تو وہ سکیل سولہ کے گھس بیٹھنے سے یقیناًزیادہ کرایہ حکومت کو ادا کرے گا۔ مکمل طور پر غیر متعلقہ افراد کی موجودگی بھی ناممکن نہیں۔ گذشتہ سالوں میں ایک ٹیلر صاحب کو بڑی محنت کے بعد آفیسر مکان سے اسٹیٹ آفس نے نکال باہر کیا تھا۔ اُس نے خزانے کو کتنی رقم سے محروم کیا؟ اُس کا ہمیں علم نہیں۔
اس وقت صورتحال کچھ یوں ہے کہ چترال، وزیرستان، لکی مروت، بنوں اور بٹگرام کے مستحق ملازمین تو مکانات اور بچوں کی اچھی تعلیم و صحت کے لیے گلیوں بازاروں میں ناموزوں مکانات میں رہتے ہیں جب کہ اُن کے لیے مکانات پر پشاور کے مضافات کے حضرات قابض ہیں۔ ایسی بھی مثالیں ہوں گی کہ کسی اور کے نام پر غیر متعلقہ اور غیر مستحق افراد نے سرکاری مکانات پر قبضہ کیا ہوا ہو۔ اس صورت میں سرکاری الاٹیز زیادہ رقومات لے کر مکانات دوسروں کو دیتے ہیں۔ جناب چیف سیکرٹری اور ڈویژنل کمشنرز حضرات سے التماس ہے کہ:
1:۔ سیکرٹریٹ کے سٹیٹ آفس اور اضلاع کے سٹیٹ برانچز کی مؤثر کیپسٹی بلڈنگ کر وائیں۔ مضبوط کردار و اعصاب کے قابل لوگوں کے ساتھ ساتھ موجودہ ہاؤسز الاٹمنٹ رولز پر نظرِ ثانی کروائیں۔ ناجائز قابض ’’لو پیڈ‘‘ افراد سے دس گناہ زیادہ کرایہ مکان کی سیلری سلپ کے ذریعے براہِ راست وصولیاں شروع کروائیں۔
2:۔ نالائق سیاسی افراد کا درست کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں لیکن جو ملازم ناجائز کام کے لیے سیاسی افراد کا سہارا لیتے ہوں، ان کی اس واردات کو اُن کی خفیہ رپورٹس کے ریکارڈ میں درج کرنا شروع کیا جائے۔ چھوٹے سکیلز کے جو گھس بیٹھیے سینئرز کے مکانات پر قابض ہیں، اُن سے بڑے سکیلز کی پانچ گنا کٹوتیاں شروع کروائیں۔
3:۔ ایڈمنسٹریشن پر چیف سیکرٹری صاحب، سیکرٹری صاحبان اور کمشنر صاحبان کی مخبری کا نظام نہ ہونے کے برابر لگتا ہے، اس کو مؤثر بنایا جائے۔ اسٹیٹس آفیسرز پر تمام متعلقہ کالونیوں اور عمارات و رقبہ جات کے ماہانہ دورے اور درست رپورٹس کو افسران بالا کو پیش کرنا لازم قرار دیا جائے۔
4:۔ اچانک دوسرے اضلاع سے تبدیل ہو کر آنے والے ملازمین کو بسانے کے لیے ’’آؤٹ آف ٹرم‘‘ والا طریقہ بھی بحال رکھا جائے۔ اس طرح ذمہ داریوں، اہلیت اور درست ادائیگیوں اور سیکرٹریٹس سے مستقل رہائشی علاقوں سے فاصلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ الاٹیوں کو ون ٹائم ایمیونٹی (ایک دفعہ کی رعایت) دے کر مشکل سے نکالا جائے اور چھوٹے سکیلز والوں کو بڑے سکیلز والوں کے گھروں کے بدلے چھوٹے گھر دیے جائیں۔
5:۔ الاٹمنٹ کے لیے ایک ملازم کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ بھی دیکھا جائے کہ آیا وہ چترال سے ہے یا چارسدہ سے، بٹگرام سے ہے یا بڈھ بیر سے، وزیرستان، بنوں ڈیرہ سے ہے یا پبی نوشہرہ سے وغیرہ؟
6:۔ حکمرانی کے معیار کو سخت اور عمدہ بنایا جائے اور خود سر سیاسی سفارشیوں کے معاملات کے لیے چیف منسٹر اور گورنر کو سمریز بھیجنے کا طریقہ اپنایا جائے، لیکن متعلقہ مجرم ملازمین کو زیرِ عتاب ضرور رکھا جائے۔

Related posts

An Article By Professor Saif Ullah

Ba Khabar Swat

شائستہ خان، پیکرِ عزم و ہمت

Ba Khabar Swat

An Article By Ihsan Ali Khan

Ba Khabar Swat

Leave a Comment