غلام حق سائرؔ کا تعلق سوات کبل نامی علاقے سے ہے۔ اس علاقے میں اکبر زادہ اکبر جیسا درویش، شیریں لب و لہجے والاشاعر الیاس ثاقب اور جواں جذبوں اور والا شاعر شیر شاہ آبشارؔ میرے حلقہ یاراں میں شامل ہیں۔ حالاں کہ ایک دو نام نہاد شاعروں اور ادیبوں سے دل کو لگنے والے چرکوں کی بنا اب شاعروں ادیبوں سے اتنا دور بھاگتا ہوں جیسے کوا، غلیل سے بھاگتا ہے، لیکن ان یاروں سے دور نہیں بھاگ سکتا۔
غلام حق سائرؔ سے میری رسمی طور پر ایک ہی ملاقات ہوئی ہے۔ وہ بڑے لحیم شحیم اور توانا ڈیل ڈول کے مالک ہیں۔ دیکھنے میں شاعر کم اور پہلوان زیادہ نظر آتے ہیں۔ مجھے بہت بعد میں پتا چلا کہ آپ میرے دوست پروفیسر ارسلا خان کے بھائی اور پروفیسر ڈاکٹر نقیب احمد جان کے چچیرے ہیں۔
سائرؔ کا کبل میں الیکٹرک سٹور ہے جہاں پنکھے پنکھیاں بیچنے کے ساتھ مشقِ سخن کی چکی بھی گھماتے ہیں۔ طرحی مشاعرہ ہو یا برقی دنیا میں آنے والے مصرعے پر تشبیب، مدح یا گریز جیسے شعر یا غزل ترتیب دینا، آپ سے کوئی پہل نہیں کرسکتا۔نیز فی البدیہہ شاعری میں بھی آپ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ’’سندریزے سلگئی‘‘ آپ کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے یعنی 2014ء میں آپ کا ’’د ارمان پہ سلی‘‘ نامی شعری مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے، جس پہ میں نے ایک تاثراتی کالم لکھا ہے۔ اس موجودہ کتاب یعنی ’’سندریزے سلگئی‘‘ پہ میرا کالم لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن جوں جوں کتاب کا مطالعہ کرتا رہا۔ احساس ہوتا رہا کہ پچھلی کتاب سے یہ کتاب پختگی، تازگی اور سنجیدگی میں بہتر ہے۔ کتاب کا ٹائٹل بھی بڑا فکر انگیز ہے۔ آسمان کی وسعتوں میں نغمہ گرطیور کا اِک ڈار اپنی اُڈاریاں بھر رہا ہے، تو دوسری طرف خشک ٹہنے پہ بیٹھا بلبل اپنی چونچ کھولے نغمہ سرا ہے۔ ڈھلتی شام کے سائے میں دور کھڑے دو آدم زاد دھرتی اور شفق کے امتزاج میں کھوئے کھڑے ہیں۔
روغانےؔ باباکتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں: ’’ساحرؔ مظلوم اور حساس شاعر ہے۔ اُس کی شاعری آہ و بکا ہے۔ یہ درد کی ایسی موسیقی ہے جس میں رباب کے تار لوہے کے نہیں دل کی رگوں سے بنے ہیں۔‘‘ ڈاکٹرنقیب احمد جان نے اُن کی شاعری میں دیہاتی ماحول کی عکاسی کے پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے، جبکہ اتل افغان لکھتے ہیں کہ ’’ ایسے ماحول میں جہاں ہر طرف خوف کی فضا ہو، ہر ارمان اور آواز کوبوٹوں تلے رونداجائے، ایسے ماحول میں ہچکیوں کو موسیقی کا رنگ دینا اِک سچے فنکار ہی کا کام ہے۔‘‘ اسی تقریظ میں اتل افغان جیسے سیانے نقاد کے قلم سے معترضہ جملہ پڑھ کر حیرت ہوئی۔ لکھتے ہیں: ’’میرے خیال میں قومی (قوم پرست) شاعر اور ادیب اس دھرتی کے حلال بچے ہیں۔‘‘ گویا باقی لوگ (اُن کی نظر میں) ناجائز ٹھہرتے ہیں۔ اس معترضہ بحث کو یہیں سمیٹتے ہوئے سائرؔ کی شاعری کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔
جہاں تک مَیں نے کتاب کا مطالعہ کیا ہے، مَیں نے محسوس کیا ہے کہ سائرؔ کو اپنا ماضی بہت عزیز ہے۔ اُس کی یادیں ہی اُس کا سرمایۂ افتخار ہیں۔ وہ ان یادوں میں کھویا بھی ہے اور انہی کو شعروں اور نغموں کا جامہ بھی پہنایا ہے۔ تلخ و شیریں یادوں کے متعلق کتاب میں اُن کے درجنوں اشعار موجود ہیں، جس پہ ایک بسیط مقالہ آسانی سے لکھا جاسکتا ہے۔ نمونے کے لیے صرف ایک ہی شعر کا حوالہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔
یو سو یادونہ دے دَ دُود پہ توگہ زڑہ کے ساتم
د میخکی یو مات ڈنڈر دے پہ چرڑہ کے ساتم
ذرا نازک خیالی بھی ملاحظہ فرمائیں:
چی بریخنا راتہ د خپل حسن نہ نہ کڑے
ڈکو سترگو کے باران یم اوس بہ تر شم
محبوب کی آنکھوں کو شاعر لوگوں نے ہزار زاویوں سے بیان کیا ہے۔ ذرا یہ نرالی تشبیہ بھی ملاحظہ ہو۔
سترگے زکہ پہ تشبیہ د اباسین یادوؤم
زہ پکے ورک شومہ او ما پکے زان بیانہ موندو
ذرا قیس صاحب کا انداز بھی ملاحظہ ہو:
د ارمان ونے دے اوسنڈلے داسے
لکہ باد چی وچے پانڑے د خزان وڑی
ستا سائر د خوگ زڑگی د درد لہ سوخہ
مڑاوی مڑاوی نظرونہ تر اسمان وڑی
جب اُن کے چچا زاد بھائی ڈاکٹر نقیب احمد جان جرمنی سے واپس آئے، تو اُن پہ لکھی گئی سوالیہ نظم میں کچھ ایسے طنزیہ اشعار بھی موجود تھے۔
ہلتہ سہ خلق داسے وو چی شر شاتار اے کوؤ؟
سہ دشمنئی دشمنئی وے اوکہ خپل کار اے کوؤ؟
آپ اپنے مشاہیر کو بھی نہیں بھولے۔ آپ نے وطن کے شہیدوں کے ساتھ ساتھ مرحومین میں محمد نواز طائرؔ ، عبدالطیف شاہینؔ اور سیف الدین صدیقیؔ کو بھی منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ سیف الدین صدیقیؔ کے متعلق لکھتے ہیں:
وو ستر د ادب ستورے د ہیچ چانہ نہ ہیریگی
بس رنگ دصدیقی می د شعرونو نہ تاویگی
آخر میں چند اصلاحی پہلوؤں کی نشان دہی نہ کرنا ادبی خیانت ہوگی۔ کیوں کہ انہوں نے خود بھی لکھا ہے کہ:
بیا نقادان بہ پری تنقید کوی نادان سائرہ
گورے لیکل چی پہ ترتیب نہ کوے خہ نہ کوے
کتاب کی دوسری ہی غزل کا مطلع پڑھ کر ماتھاٹھنکا، لکھتے ہیں:
نن ستا د یاد جونگڑہ ما د زڑہ پہ خار جوڑہ کڑہ
پہ انذر خان دے پٹئی د زڑہ پرھار جوڑہ کڑہ
صحیح لفظ ’’پرھر‘‘ ہے، ’’پرھار‘‘ نہیں۔ قافیہ بندی کے لیے ’’پرھر‘‘ کو ’’پرھار‘‘ بناکر پیش کرنا روزمرہ کے خلاف ہے۔
اسی طرح ایک شاعر ہے۔
کہ سو تورہ تیارہ کے کہ د شپی مخے لہ راشے
سائر دے گورے پیژنم د چال پہ بدلیدو
اس میں ’’کہ‘‘ اور ’’کہ‘‘ کی تکرار بھونڈی لگتی ہے۔ اس لیے پہلے ’’کہ‘‘ کی جگہ ’’ھر‘‘ استعمال کرکے مصرعۂ اولیٰ کی رعنائی کو بڑھایا جاسکتا تھا۔ اسی طرح مصرعۂ ثانی میں بھی ابہام کاشائبہ موجود ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں بعید ازقیاس استعاروں سے بھی اجتناب کی ضرورت ہے۔مثلاً ایک جگہ سائر محبوب کی چوڑیوں کو گھول کر پیتے اور خونِ جگر تھوکتے نظر آتے ہیں۔ اب ہمیں ایسی بے عمل تراکیب سے نکل کر عملی انشا پردازی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ بہر کیف! بحیثیتِ مجموعی کتاب کی شاعری اچھی اور معیاری ہے۔ اے کاش! اسے مجلد چھاپ لیتے، تو اور بھی بہتر ہوتا۔
next post
