مطالعہ کا شوق رکھنے والے لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اُن کا یہ مطالعہ کرنا ان کی ذہنی نشوونما کے لیے کتنا ضروری ہے۔ اسی ضرورت کو مدِنظر رکھ کر وہ مطالعہ کرتے ہیں اور جہاں بھر کے مزے لوٹتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مطالعۂ کتب کرنے والے اگر سیرتِ نبویؐ سے متعلق کوئی کتاب پڑھتے ہیں، تو اس سے سیرت و کردار کے حوالے سے سیکھتے ہیں۔ اگر کوئی سفرنامہ پڑھتے ہیں، تو بیٹھے بیٹھے دنیا بھر کے ملکوں اور شہروں کی سیر کرتے ہیں اور جغرافیائی طور پر معلومات حاصل کرتے ہیں۔ سائنسی کتابوں کے مطالعے سے کائنات کے سربستہ رازوں سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ ادبی کتابوں کے مطالعے سے خوش گوار احساسات حاصل کرکے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت ساری کتابیں ایسی ہیں، جنہیں پڑھ کر عملی طور پر سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور وہ کتابیں (ٹیکنیکل ورکس پر مبنی) عملی طور پر اُن کے کام آتی ہیں۔
کتب بینی کے یوں تو ڈھیر سارے فوائد ہیں لیکن انفرادی طور پر ایک فرد کو جو سب سے بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ علم دوستی کے سبب اس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس علم کی بدولت اُسے زندگی کے فیصلے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ وہ اچھی اور بری چیز میں تمیز کرنا سیکھتا ہے۔ علم ہی کی وجہ سے دلائل کے ساتھ اپنی بات صحیح ثابت کرتا ہے۔ اس علم کے سبب معاشرے میں اس کی عزت دیگر لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس منفرد حیثیت کی بنا پر اکثر لوگ اُن سے کسی کام کے بارے میں مشاورت کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ کتابوں کے مطالعہ کی بدولت اس فردِ واحد کی آگاہی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ وقت کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے زندگی کے ہر موڑ پر درست سمت کا تعین کرتا ہے۔
شوقِ مطالعہ رکھنے والے لوگوں کے پاس اچھی خاصی تعداد میں کتابیں ہوتی ہیں اور وہ گاہے بگاہے ان کتابوں سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ ان پڑھنے والے لوگوں کے دل میں کتاب کی جو قدر و قیمت ہوتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں جہاں کہیں کوئی اچھی کتاب مل جاتی ہے، اُسے خرید کر پڑھ لیتے ہیں اور اپنی کتابوں کی الماری کی زینت بناتے ہیں۔ بوقتِ ضرورت اس کتاب کو استعمال میں بھی لاتے ہیں اور علم کی تشنگی بھی بجھاتے ہیں۔
شوقِ مطالعہ کا ذکر ہو رہا ہے، تو میں ایران کے مشہور وزیر ابنِ عباد کا واقعہ رقم کر دیتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ اُسے مطالعے کا بہت شوق تھا۔ اس کی ذاتی لائبریری 1 لاکھ 70 ہزار بیش قیمت کتابوں پر مشتمل تھی۔ سلطنت کے کاموں کے لیے اسے اکثر باہر جانا پڑتا تھا۔ وہ سفر میں لائبریری ساتھ رکھتا تھا۔ اس مقصد کے لیے چار سو اونٹ سدھائے گئے تھے، جو حروفِ تہجی کی ترتیب سے چلتے تھے اور ساتھ ہی ایک تجربہ کار لائبریرین بھی ہوتا تھا۔ ضرورت کے وقت لائبریرین چند منٹوں میں مطلوبہ کتاب نکال کے لادیتا تھا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ مطالعۂ کتب سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ جو طالب علم مجبوری کے تحت کورس کی کتابیں پڑھتے ہیں، ان میں اُن کی دلچسپی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ انہیں یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ ان کے کورس میں کیا کیا مواد شامل ہے؟ جو چند ایک سنجیدہ طالب علم ہوتے ہیں، وہ کتابوں کو صرف اچھے مارکس حاصل کرنے کی غرض سے پڑھتے ہیں۔ جب ان طلبہ کے امتحانات اور انٹرویو کی ضرورت پوری ہوتی ہے، تو وہ کتابیں پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح طلبہ کے سیکھنے اور چیزوں کے بارے میں جاننے کا عمل رُک جاتا ہے۔
کتابوں کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے اور ہر کتاب علم کا خزانہ ہونے کے ساتھ ساتھ جہانِ دیگر ہوتی ہے۔ بقول میر تقی میرؔ
سر سری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کتب بینی کی ضرورت اور اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے کتابوں کا مطالعہ شروع کریں۔ ان کتابوں سے استفادہ کرکے اپنے علم کو صرف اپنی حد تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔ بقولِ علامہ اقبال ؒ
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے، مگر صاحبِ کتاب نہیں
اگر ہم نے تحقیق کرنا شروع کیا اور اپنی تحقیقی پر مبنی کتابیں شائع کرنے کا عمل شروع کیا، تو بحیثیتِ مسلمان ہم اپنی کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ حاصل کرلیں گے۔ وہی عظمتِ رفتہ جو آج سے چند سو سال پہلے مسلمان محققین جابر بن حیان، ابن سینا اور دیگر قد آور شخصیات کو حاصل تھی۔ آخر میں اس شعر کے ساتھ رُخصت چاہوں گا کہ
ہم نشینی اگر کتاب سے ہو
اس سے بہتر کوئی رفیق نہیں
next post
