سوات (باخبرسوات ڈاٹ کام) سوات کے لئے سال2018ء خوش قسمت سال ثابت ہوا ۔ اس سال سوات میں بد امنی کا کائی خاص واقع پیش نہیں آیا اور نہ ہی کوئی دھماکا ہوا۔ سال بھر سوات میں امن و امان رہا جس کی وجہ سے عید کے دوران، موسمِ گرما اور موسمِ سرما میں لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں نے سوات کا رُخ کیا۔ اس سال تاریخ میں پہلی بار سوات سے وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوا اور سوات کو سب سے زیادہ وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹ، صوبائی وزیر معدنیات اور صوبائی وزیرِ زراعت ملے۔ اس سال فوج نے بارہ سال بعد اختیارات سول انتظامیہ کے حوالے کیے اور تمام چیک پوسٹیں بھی پولیس کے حوالے کیں۔ پولیس نے چیک پوسٹوں کی تعداد کو کم بھی کیا۔ سڑکوں اور ترقیاتی کاموں کی وجہ سے حسب سابق یہ سال بھی سوات کے لئے بدقسمت رہا۔ سوات ایکسپریس وے کی تعمیر اس سال بھی مکمل نہ ہو سکی۔ اس کے ساتھ کالام، مہو ڈنڈ، ملم جبہ اور کوکارئی کی مین سڑکوں کی تعمیر بھی نہ ہو سکی۔ سیدو شریف میں پانچ سو بستروں پر مشتمل ہسپتال کی نئی عمارت میں کام کا آغاز بھی نہ ہو سکا۔ سوات جیل کی تعمیر اس سال بھی مکمل نہ ہو سکی اور وزیر اعلیٰ کا تعلق سوات سے ہونے کے باوجود کوئی بڑا منصوبہ شروع نہ ہو سکا۔
next post
